پاکستان میں موٹر سائیکل انڈسٹری کا مستقبل روشن ہے ’’حارث نعیم دھوراجی‘‘

September 16, 2019
 

جنگ:پاکستان کی موٹر سائیکل انڈسٹری میںیونیک گروپ ایک معتبر نام ہے۔ کچھ اپنے کاروبار کے بارے میں بتائیں کہ کب اور کیسے آغاز کیا اور اب تک کا سفر کیسا رہا ہے؟

حارث نعیم دھوراجی:تین پارٹنرز نے مل کر 2004ء میں DS موٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ کی بنیاد رکھی۔ DSموٹرز کا شمار اس شعبہ کی چند ابتدائی کمپنیوں میں ہوتا ہے، اس وقت ایک دو ہی بڑی کمپنیاںموجود تھیں۔ ہم نے یومیہ 10موٹر سائیکلیں بنانے سے کام کا آغاز کیا تھا اور آج ہم ہر ماہ 15سے 16ہزار 70سی سی موٹر سائیکلیں تیار کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم 100سی سی، 125سی سی اور 150سی سی موٹر سائیکلیں بھی بناتے ہیں۔ موٹر سائیکلوں کے علاوہ ہم رکشے، لوڈر، چنگچی، 126کے وی اے جنریٹرزبھی تیار کرتے ہیں۔ حال ہی میں ہم نے بیٹری کا پلانٹ لگایا ہے اور وہاں سے بھی پیداوار کا آغاز ہوچکا ہے۔ ہمارے پاس موٹر سائیکل سے لے کر یوپی ایس تک، تمام بیٹریز کی رینج دستیاب ہے۔ مزیدبرآں، ہمارا کھانا پکانے کے تیل کا برانڈبھی ہے۔ یہ سارا کاروبار ’یونیک گروپ آف انڈسٹریز‘ کی چھتری تلے یکجا ہے۔

جنگ: ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ موٹر سائیکل کے انجن سے لے کر اسپیئر پارٹس تک سبھی کچھ چین سے درآمد کیا جاتا ہے، جسے پاکستان میں صرف اسمبل کیاجاتا ہے۔ اس حوالے سے حقائق کیا ہیں؟

حارث نعیم دھوراجی: نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔تقریباً 92فیصد موٹرسائیکل ہم خود تیار کرتے ہیں، اِکا دُکا کچھ ’خام مال‘ ہیں جوکہ پاکستان میں دستیاب نہیں، جنھیں مجبوراً چین سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ کئی پارٹس ہم خود تیار کرتے ہیں، کچھ جوائنٹ وینچرز بنائے ہوئے ہیں جبکہ باقی ہم مقامی وینڈرز سے حاصل کرتے ہیں۔ اگرحکومت تعاون کرے تو تمام ’خام مال‘ ملک میں ہی تیار کیا جاسکتا ہے۔

حارث نعیم دھوراجی

جنگ: کیا اس حوالے سے موٹرسائیکل انڈسٹری کے نمائندوں کی حکومت سے کوئی بات نہیں ہوتی؟

حارث نعیم دھوراجی: حکومت نے حالیہ بجٹ میںکچھ ’خام مال‘ کی درآمد پر ڈیوٹی میں رعایت دی ہے جو کہ ایک اچھا اقدام ہے، اس سے ہمیں تھوڑا بہت ریلیف ضرور ملے گا لیکن اگر حکومت مقامی صنعت کو فروغ دینا چاہتی ہے تو مقامی سطح پر مختلف خام مال کی پیداوار کو یقینی بنانا ہوگا۔ جیسے اگر پاکستان اسٹیل ملز کو چلا دیا جائے تو ہمیں بہت سارا خام مال پاکستان میں ہی دستیاب ہوجائے گا اور ہمیں چین کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

جنگ: پاکستان موٹرسائیکلوں کے لحاظ سے دنیا کی پانچویں بڑی مارکیٹ کا درجہ رکھتا ہے۔ اس حوالے سے آپ کیا کہنا چاہیںگے؟

حارث نعیم دھوراجی: جی بالکل، موٹرسائیکلوں کے لحاظ سے پاکستان ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ چند سال پہلے ملک میں ماہانہ20 سے 30ہزار موٹرسائیکلیں تیار ہوتی تھیں اور آج یہ تعداد 2لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ مارکیٹکا حجم بڑھنے کے ساتھ کچھ مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں، جس میں سب سے بڑا مسئلہ روپے کی قدر میں کمی (ڈی ویلیوایشن) کا ہے، اس کی وجہ سے مہنگائی بڑھ گئی ہے، درآمدات مہنگی ہوگئی ہیں اور مجموعی طور پر کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ صرف یہی نہیں، حالیہ بجٹ میںٹیکس امور سے متعلق کئی ایک ایسے اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹمیں غیریقینی صورتحال ہے، پیداواری اور کاروباری سرگرمیوں میںبڑے پیمانے پر سست روی آگئی ہے، پیسے کی ریل پیل رُک گئی ہے۔

جنگ: آپ حکومت کے جن بجٹ اقدامات کا تذکرہ کررہے ہیں، ان پر ہمارے قارئین کے لیے تفصیل روشنی ڈالیں تاکہ آپ کی آواز حکومتی ایوانوںتک بھی پہنچ جائے؟

حارث نعیم دھوراجی: جہاںتک ہمارے گروپ کا تعلق ہے، ہم ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیںاور ہمار اشمار ملک کے نمایاں ٹیکس دینے والے اداروں میں ہوتا ہے۔ لیکن حکومت کی ٹیکس دائرہ کار بڑھانے کی کوششوں کے باعث لوگ خوفزدہاور خریدار مارکیٹ سے غائب ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ، نئے بجٹ کے بعد موٹرسائیکل رجسٹریشن فیس کے حوالے سے بھی کنفیوژن پیدا ہوگیا ہے۔

ہماری مقامی موٹرسائیکل انڈسٹری کی ترقی میں کمرشل امپورٹر سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مقامی اسمبلر جو ایف بی آر میں رجسٹرڈ بھی نہیں ہے، اسے کوئی ٹیکس بھی نہیں دینا ہوتا، وہ کمرشل امپورٹر سے پارٹس لے کر انھیں اسمبل کرکے ایسی قیمت پر موٹر سائیکل بیچتا ہے، جو ہم جیسی باضابطہ اور ٹیکس دینے والی کمپنی کے لیے ممکن نہیں ہے۔ حکومت کی طرف سے ایک حوصلہ افزا بات یہ نظر آتی ہے کہ وہ تمام غیر ضابطہ اور غیر رجسٹرڈ کاروبار کے خلاف کریک ڈاؤن کررہی ہے، اگر حکومت اس کریک ڈاؤن میں کامیاب ہوجائے تو اس کا مقامی صنعتوں کو بڑے پیمانے پر فائدہ ہوگا اور وہ فروغ پائیںگی۔

جنگ: ریسرچ اینڈڈویلپمنٹ پر آپ کس حد تک کام کرتے ہیں؟

حارث نعیم دھوراجی: جی بالکل، ریسرچ اینڈڈویلپمنٹ ہر وقت جاری رہنے والا عمل ہے اور ہماری بھی آر اینڈڈی پر کافی توجہ رہتی ہے۔ کوئی بھی پراڈکٹ بنانے سے پہلے ہم ایک سال تک اسے ’انڈرٹرائل‘ رکھتے ہیں اور ہر پہلو سے اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے میں ایک بات یہ کہنا چاہوں گا کہ ہماری کنزیومر مارکیٹ بڑی روایت پسند ہے، وہ نئی چیزوں کو آسانی سے قبول نہیںکرتی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ 70سی سی کی موجودہ شیپ دنیا بھر میں 25سال پہلے ختم ہوچکی ہے لیکن ہمارے یہاںابھی تک اسی کی مانگ ہے اور اس کے سامنے نئی چیز مارکیٹ میں جگہ نہیںبناپاتی۔ اب جاکر آہستہ آہستہ لوگ 100سی سی اور 125سی سی موٹرسائیکلیں خریدنے لگے ہیں اورکچھ لوگ 150سی سی بھی خرید رہے ہیں لیکن ہماری مارکیٹکا ایک بڑا حصہ آج بھی 70سی سی کا ہی ہے۔ ہاں البتہ ٹیکنالوجی پہلے یورو IIتھی اور اب اَپ گریڈ ہوکر یورو IVآگئی ہے، جس سے صارفین کو ایندھن کی بچت ہورہی ہے۔

جنگ: پاکستانی موٹر سائیکلوں کی ایکسپورٹمارکیٹکے حوالے سے کچھ بتائیں؟

حارث نعیم دھوراجی: ایکسپورٹ مارکیٹمیںچین کا مقابلہ کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ چین کی حکومت اپنے ایکسپورٹرز کو’ ری بیٹس ‘ اور دیگر مراعات فراہم کرتی ہے، جبکہ ہماری موٹرسائیکل انڈسٹری کو حکومت کی طرف سے ایسی کوئی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ اس کے باوجود، ہماری موٹرسائیکلوں کے لیے افغانستان ایک اچھی مارکیٹ ہے، جہاںابھی تک ہم اپنی موٹر سائیکلیں ایکسپورٹ کررہے ہیں۔ اس سے پہلے ہم سعودی عرب، افریقا کے مختلف ممالک، بنگلادیش اور سری لنکا وغیرہ بھی موٹر سائیکلیں برآمد کرچکے ہیں۔ اگر حکومت، ملکی ایکسپورٹس بڑھانے میں سنجیدہ ہے تو اس کے لیے ہم اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب حکومت ہمیں چین کی طرز پر سپورٹ فراہم کرے۔

جنگ: آپ کے خیال میںملکی موٹر سائیکل انڈسٹری کا مستقبل کیسا ہے؟

حارث نعیم دھوراجی: فی الحال مشکلات ہیں لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی سمجھتا ہوںکہ موجودہ حکومت جو پالیسیاں لے کر آرہی ہے اور ان پالیسیوں پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد بھی کرتی ہے تو جون 2020ء کے بعد ملکی موٹر سائیکل انڈسٹری اپنے بہترین دور میں قدم رکھے گی۔