Advertisement

نظم و ضبط اور ’’وقت‘‘ کی قدر و قیمت

September 27, 2019
 

آ ج ہمارے معاشرے میں سب سے سستی اور بے قیمت چیز اگر ہے تو وہ نظم و ضبط کی کمی اوروقت کی ناقدری ہے، اس کی قدر وقیمت کا ہمیں قطعاً احساس نہیں، یہی وجہ ہے کہ وقت کے لمحات کی قدر نہ کر نے سے منٹوں کا، منٹوں کی قدر نہ کر نے سے گھنٹوں کا ،گھنٹوں کی قدر نہ کرنے سے ہفتوں کا ، ہفتوں کی قدر نہ کر نے سے مہینوں کا ،اور مہینوں کی قدر نہ کر نے سے سالوں اور عمروں کا ضائع کر نا ہمارے لیے بہت آسان بن گیا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر زندگی میں وقت کی قدر نہ کی جائے اور اسے غفلت، سستی و کاہلی میں گزارتے ہوئے برائی، شر کی نذر کر دیا جائے تو پھر مایوسی اور ندامت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔سورۃ الفاطر میں ارشاد ربانی ہے: کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہتا، وہ سوچ سکتا تھا اور (پھر) تمہارے پاس ڈر سنانے والا بھی آچکا تھا، پس اب (عذاب کا) مزا چکھو، سو ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہ ہوگا۔‘‘یہی وہ بنیادی فلسفہ ہے جس کے باعث اسلام میں نظم و ضبط اوروقت کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اسے ضائع کرنے کے ہر پہلو کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میںزمانے کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا : بےشک انسان خسارے میں ہے (کہ وہ عمرِ عزیز گنوا رہا ہے)

حضرت عبداﷲ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا :’’دو نعمتوں کے بارے میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں : صحت اور فراغت۔‘‘(صحیح بخاری، سنن ترمذی)اللہ تعالیٰ انسان کو جسمانی صحت اور فراغت اوقات کی نعمتوں سے نوازتا ہے تو اکثر سمجھتے ہیں کہ یہ نعمتیں ہمیشہ رہنی ہیں اور انہیں کبھی زوال نہیں آنا، حالانکہ یہ صرف شیطانی وسوسہ ہوتا ہے۔

لہٰذا انسان کو ان عظیم نعمتوں کی قدر کرتے ہوئے انہیں بہتر استعمال میں لانا چاہیے۔حضور اکرمﷺ نے فرمایا:’’قیامت کے دن بندہ اس وقت تک (اللہ کی بارگاہ میں) کھڑا رہے گا جب تک کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے : 1۔ اس نے اپنی زندگی کیسے گزاری؟ 2۔ اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟ 3۔ مال کہاں سے کمایا اور کیسے خرچ کیا؟ 4۔ اپنا جسم کس کام میں کھپائے رکھا؟‘‘(جامع ترمذی)

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اگر قیامت قائم ہوجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا سا پودا ہو تو اگر وہ اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ حساب کے لئے کھڑا ہونے سے پہلے اسے لگا لے گا تو اسے ضرور لگانا چاہیے۔‘‘(مسنداحمد بن حنبل)

حضور اکرمﷺ کس قدر وقت کی اہمیت اور اعمال صالحہ کا احساس دلارہے ہیں کہ اگر قیامت قائم ہو جائے اور کوئی اس نفسا نفسی کے عالم میں بھی ذرہ بھر نیکی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اس میں بھی غفلت کا مظاہرہ نہ کرے ،بلکہ فوراً نیکی کر ڈالے۔ حضرت عبداﷲ بن عباس ؓسے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:’’ پانچ چیزوں کوپانچ سے قبل غنیمت سمجھو ، زندگی کو مر نے سے پہلے اور صحت کو بیماری سے پہلے اور فراغت کو مشغولیت سے پہلے، اور جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اور مال داری کو فقر سے پہلے۔(مستدرک حاکم)

اس حدیثِ پاک میں ہر صاحب ِ ایمان کے لیے یہ تعلیم ہے کہ اس فانی زندگی کے اوقات و اَدوار کو بہت دھیان اور توجہ کے ساتھ گزارے ، زندگی کو مرنے سے پہلے غنیمت سمجھے اور اس بات کا استحضار رکھے کہ کل روزِ قیامت اس کی ہرہر چیز کا حساب ہو گا ، اس سے ہر چیز کے بارے میں باز پُرس ہو گی اور اسے اپنے ہر ہر قول و فعل کا جواب دینا ہے،، قیامت کے دن اس کے اعمال نامے کو تمام اوّلین و آخرین کے سامنے پیش کیا جائے گا ، یہ وقت بڑی قیمتی دولت ہے، اس سے جو فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے، وہ کر لیا جائے، آج صحت و تند ستی ہے، کل نہ معلوم کس بیماری کا شکار ہو نا پڑجائے۔

آج جوانی کا سنہرا دور ملا ہوا ہے، کل بڑھا پے میں نہ جانے کن احوال سے سابقہ پڑے اور کیا امراض و عوارض لگ جائیں آج صاحبِ حیثیت ہیں، کل پتا نہیں کیا حالت ہو جائے؟ اس لیے جو کر نا ہے کرلیا جائے، جو کمانا ہے کمالیا جائے، جو فائدہ اٹھا نا ہے اٹھالیا جائے، ورنہ’’وقت دودھاری تلوار ہے‘‘، اگر تم نے اسے نہ کاٹا، وہ تمہیں کاٹ ڈالے گی ،ارشاد نبویؐ ہے :صحت اور فراغت دو ایسی عظیم نعمتیں ہیں، جن کے سلسلے میں بے شمار لوگ خسارے میں رہتے ہیں، اس لیے بعد میں پچھتانے سے یہ بہتر ہے کہ انسان آج ہی قدرکر لے۔(بخاری، ترمذی)

عمو ماًجن صالح بندوں کے مزاج میں دین داری اور نیکی ہو تی ہے، وہ وقت کے قدر دان ہوتے ہیں اور اپنی آخرت بنانے اور دنیا سنوار نے کی فکر انہیں دامن گیر ہو تی ہے، وہ بےکاری، آوارگی، لہو و لعب اور فضولیات میں اپنا وقت ضائع نہیں کر تے، کسی کا برائی سے تذکرہ کر نے ،عیب جوئی کرنے اور بہتان تراشی اور بے کار ولا یعنی گفتگو کی انہیں فرصت نہیں ملتی ، ان کی عملی زندگی حدیث نبویؐ کی عملی تصویر ہو تی ہے :ترجمہ: بےشک انسان کے اچھا مسلمان ہونے کی خوبی یہ ہے کہ وہ بے کار اور فضول چیزوں کو چھو ڑ دے۔(ترمذی ۲/ ۵۸)

حضرت ابوذرؓ نے روایت کیاہے ’’مومن صرف تین چیزوں کا آرزو مند ہوتاہے (۱) توشہ آخرت کی فراہمی،(۲) معاش کے لئے تگ و دو،(۳) حلال چیزوں سے لطف اندوزی۔اس حدیث سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ہر ایک مسلمان کو اپنے اوقات کس انداز میں ترتیب دینےچاہییں اورایک مومن ومسلم سے اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنے اوقات کو یا تو عبادت میں لگائے ، اوراس کے بعد معاش کے حصول میں صرف کرے کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے فرائض کے بعد جو فریضہ انسان پر عائد ہوتاہے، وہ حلال کمائی کا حصول ہے اور اس کے بعد جو وقت بچے، وہ اسے جائز تفریحات میں صرف کرے ۔

اسلام نے جہاں ہر چیز کی حدود بتائی ہیں، وہیں اس نے تفریحات کی بھی حدود بتائی ہیں ۔بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ماضی کی خوش کن یادوں میں یا پھر ماضی کی تلخیوں میں کھوئے رہتے ہیں اوربہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مستقبل کے حسین خواب دیکھتے ہیں اور آرزؤں اورتمناؤ ں کے محل تعمیر کرتے رہتے ہیں۔

حالا نکہ غور سے اگر دیکھاجائے تو ماضی گزر چکا ہے اور مستقبل آنے والا ہے اورآنے والا وقت کیسا ہوگا، اس بارے میں کسی کو کچھ پتا نہیں ، اس لئے اصل وقت جو ہر انسان کو حاصل ہے، وہ حال کا وقت ہے جس میں آپ اورہم ہر ایک جی رہا ہے۔امام غزالیؒ اس سلسلے میں لکھتے ہیں۔

اوقات تین طرح کے ہیں : ایک وہ وقت جس کے بارے میں انسان کو کچھ سوچنا نہیں ہے کہ وہ کیسے گزرا، مشقت میں یاعیش وعشرت میں۔ اورایک وقت وہ آنے والا ہے جو ابھی تک نہیں آیا ، اورانسان نہیں جانتا کہ اس کے آنے تک وہ زندہ بھی رہے گا یا نہیں اور اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ اس میں اس کے ساتھ کیا فیصلہ فرمانے والا ہے اور تیسرا وقت وہ ہے جو حاضر وموجود ہے جس میں انسان کو اپنے رب کے احکام کی پاس داری کے ساتھ بھرپور جدوجہد کرنی چاہیے، اس طرح اگر آنے والا وقت نہ بھی مل سکا تو کم ازکم موجودہ وقت کے ضائع ہونے پر حسرت تو نہیں کرنی پڑے گی اوراگر آنے والا وقت آگیا تو اس کاحق بھی وہ اسی طرح ادا کرے جس طرح پہلے وقت کا کیاہے اورانسان اپنی آرزوؤ ں کو پچاس سال تک دراز نہ کرے، بلکہ جو وقت ملا ہے، اس سے کماحقہ فائدہ اٹھانے کا عزم کرے، اوربالکل نظم و ضبط کا پابند ہوکر اس طرح اس وقت کا استعمال کرے، گویا یہ اس کی زندگی کے آخری لمحات ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں