Advertisement

کمزور خواتین کم عمر بچے

October 01, 2019
 

جولائی کی ایک تپتی دوپہر تھی۔ لو کے جھکڑ پیاس کی شدت کو تیز کررہے تھے۔ ایسی آگ برساتی گرمی میں جب چیل بھی اپنا انڈا چھوڑدے،ایک ماں اپنے سات سالہ بیٹے کے ساتھ پانی تلاش کررہی تھی۔ بستیوں سے کہیںدور کھلے میدانوں اور سبڑے سے محروم سوکھے خشک اور تپتے ہوئے ٹیلوں کے درمیان اس کی زندگی کا ایک طویل عرصہ گزرا۔ لیکن اس دن وہ اپنے گائوں سے دوسرے گائوں اپنی منزل پر جاتے ہوئے راستہ بھول گئی۔

کاجھو کے پہاڑی علاقے میں دھوپ میں بھٹکتے بھٹکتے، پیاس نے ماں بیٹے کی زبان خشک کردی، حلق میں کانٹے پڑنے لگے لیکن پانی ملنا تھا نہ ملا۔ دونوں پانی پانی کہتے کہتے بنجر زمین پر گرے اور دم توڑ گئے۔ گرچہ ہر مسافر کے مقدر میں منزل نہیں ہوتی لیکن ہر مسافر کا انجام ایسا بھی نہیں ہوتا جیسا بے بس ماں کا ہوا۔ اگر اس کی آنکھوں میں آنسو ہوتے تو وہ اپنے پیاسے بیٹے کی زبان اور حلق کو ان آنسوئوں سے تر کردیتی، مگر زندگی کی کڑکتی دھوپ نے اس کی آنکھوں کے سوتے بھی خشک کردیئے تھے۔ وہ خشک بیاباں میں کس قدر چیخ چیخ کر بے حال ہوئی ہوگی۔

پانی پانی کہتے ہوئے بارہا اس آس پر آسماں کی طرف دیکھا بھی ہوگا کہ شاید بادل برس جائیں لیکن ایسا بھی نہ ہوا۔ اس کے پائوں تھک ، کرکاچھوکا پتھر بن گئے اور خود پتھرا کر بیٹے سمیت موت کی آغوش میں پیاسی چلی گئی۔ اس کے گھر میں شاید نہ پانی تھا نہ روٹی، تب ہی وہ خالی ہاتھ تن کے کپڑوں میں بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے نکلی۔

یونانی ادیب کازانت نے لکھا ہے، ’’حقیقت کو تبدیل کرسکو یا نہیں، لیکن وہ آنکھیں مت تبدیل کرنا جو حقیقت کو دیکھ رہی ہیں۔‘‘ مگر ٹی وی اسکرین پر اس منظر کو دیکھ کر آنکھیں بند کرنا پڑیں۔ گرچہ کا جھو کی پیاسی زمین میں لوگ کس طرح جیتے اور کیسے مرتے ہیں، غالباً یہ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا اور نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

کاجھو میں پیاسے ماں بیٹے کی موت اس تلخ سچائی کی ایک ہلکی سی جھلک ہے، جو بریکنگ نیوز بھی یوں بنی کہ انہیں جنگل کے کسی جانور نے نہیں کھایا تھا۔ اگر کھالیتے تو کسی کو پتا بھی نہ چلتا کہ وہاں تو روز ہی کوئی پیاس سے، کوئی بیماری سے اور کوئی بھوک سے موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ اس بھوکی، پیاسی اور بیماروں سے بھری دھرتی میں کہنے سننے کو بہت کچھ ہے، لیکن مسند اقتدار پر بیٹھے، اپنی سیاست چمکانے والوں کو کیا پتا کہ ہر انسان کو پیاس لگتی ہے، جو موت کا سبب بھی بن جاتی ہے۔

انہیں کیا معلوم کہ پانی کی تلاش میں بچے، بڑے سنگریز میدان میں چلتے ہوئے گر جاتے اور آہستہ آہستہ مرجاتے ہیں۔ انہیں کیا پتا کہ بیمار بچوں کو کاندھے پر اٹھا کر کئی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل یا گدھا گاڑی میں شہر کے اسپتال لانا کیسا ہوتا ہے۔ ان کو تو یہ بھی نہیں معلوم ہوگاکہ جب ایک بیمار بچے کے باپ کو ڈاکٹر نسخہ لکھ کر دیتا ہے کہ یہ دوا جلد خرید لائو، تب بے بس باپ خالی جیب، خالی نظروں سے پیاسی زمین کو گھورتے سڑکیں ناپنے لگتا ہے۔

درحقیقت ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں، جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں، وہ فنا اور بقا کی قوتوں کے درمیان ایک کش مکش سے دوچار ہے۔ایک جانب پرشکوہ بنگلے اور قلعے نما محل نظر آتے ہیں، جہاں بچے صاف شفاف سوئمنگ پول میں مچھلی کی طرح تیرتے ہیں، جن کے ہرے بھرے لان میں بھی آلودہ پانی نہیں ڈالا جاتا، جن کے فریج میں منرل واٹر کی بوتلیں بھرتی ہوتی ہیں۔

دوسری طرف خزاں رسیدہ پتوں کی طرح کچے مکانات اور جھونپڑیوں کی یلغار ہے، جہاں لالیٹین بھی جلتی ہیں اور دل و دماغ بھی۔ وہ علاقے بھی ہیں جہاں آسائشوں کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا اور وہ بستیاں بھی ہیں جہاں ضرورتوں کے چراغ مدھم مدھم جلتے ہیں۔ یہ کش مکش امیر و غریب کے درمیان ایک ایسی سرد جنگ ہے جو عملی زندگی کے ریگ زاروں کے ساتھ سب کے ذہنوں میں لڑی جارہی ہے۔ شاید کچھ ایسی ہی صورت حال دیکھ کر ترکی کے انقلابی شاعر، ناظم حکمت نے کہا تھا۔

’’ایک غبارے جیسی، ایک گیند جیسی، یہ دھرتی

صرف ایک دن کے لئے معصوم بچوں کے حوالے کردو‘‘

ناظم حکمت کا خیال تھا کہ بھوک پیاس سے بلبلاتے بچے ہی دنیا بدل سکتے ہیں۔ آج اگر وہ زندہ ہوتا تو یہ بھی کہتا کہ،

ایک لمحے، ایک دن، ایک ماہ یا ہمیشہ کے لئے یہ دھرتی دے دو، عورت کی آغوش میں، جو اپنے بچوں کے ساتھ مل کر دنیا بدل سکتی ہے۔کاجھو کی پیاسی ماں اور بیٹے نے تو موت کو گلے لگالیا لیکن ایسی بہت سی مائیں اور بچے ہیں جنہوں نے زندگی کی تلخیوں کو محسوس کیا اور ایسا کچھ کرنے کا عزم کیا کہ کوئی بھوکا نہ سوئے، پیاسا نہ مرے اور جب انہوں نے ایسا کر دکھایا تو مردوں کو یقین نہ آیا لیکن حقیقت جھٹلائی تو نہیں جاسکتی کہ حقیقت یہی ہے کہ آج کی تیزی سے بدلتی دنیا میں غیرمعمولی بچے اور خواتین اپنے منفرد آئیڈیاز سے اپنے اردگرد کی دنیا بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔

سیاست کی تاریخ میں بہت تجربات دیکھنے میں آئے ہیں، مگر کبھی کسی ریاست نے مکمل اختیار عورتوں کے حوالے نہیں کئے۔ معاشرے کے ارتقاء میں عورتوں کا کردار مکمل طورپر کبھی قلم بند نہیں ہوا، مگر جب بھی ہوگا تب ہم جان پائیں گے کہ غلامی سے لے کر سماجی انصاف تک، جب جب اور جہاں جہاں جس جس قسم کی بہتریاں ہوئی ہیں وہ عورتوں کے دم سے ہوئیں۔

ہم نے عورتوں کو اختیارات نہیں دیے، اس لیے وہ خاندانوں میں کھیل کھیلتی ہیں چوں کہ یہ دنیا ہمارے بس میں نہیں، اس لیے ہم سے عورتوں کے حوالے نہیں کرسکتے لیکن ہم ان سے یہ تو پوچھ سکتے ہیں کہ ملک کی بہتری کے لیے کیا کرناچاہیے؟ اپنے شہرکی ترقی کے لیے کیا کریں؟ وہ ہماری رہنمائی کرسکتی ہیں اور ہم اس رہنمائی میں ایک نئی دنیا نہ سہی مسائل سے پاک ایک شہر تو بناسکتے ہیں۔

اس کی واضح مثال جنوبی افریقا کے شہر، کیپ ٹائون کا بدلتا نقشہ ہے، جس کی خاتون میئر، ’’ہیلن زلے‘‘ نے ایسے ایسے کام کئے کہ مرد حیران رہ گئے۔ جب ہیلن نے شہر کی کمان سنبھالی تو ملک میں سب سے زیادہ قتل، ڈکیتیاں، کیپ ٹائون میں ہوتی تھیں۔ گینگ ریپ اور تشدد کے حوالے سے بھی یہ شہر بدنام تھا۔ یہاں کے بڑے مسائل میں ایک مسئلہ غربت کا تھا۔ ناگفتہ بہ زندگی گزارنے والوں میں بچوں کی حالت انتہائی خراب تھی۔ اسٹریٹ چلڈرن کی تعداد میں ہر گزرتے دن اضافہ ہورہا تھا۔

ہیلن نے اس مسئلے کے حل کے لئے پہلے ان اسباب کا جائزہ لیا کہ بچے کیوں گھروں کے بجائے فٹ پاتھوں پر زندگی گزار رہے ہیں۔ اپنے وژن اور تجربے کے ساتھ کیپ ٹائون کے باسیوں کی زندگی بدل ڈالی۔ ہیلن کے میئر بننے سے قبل کیپ ٹائون میں بے روزگاری کی شرح 20.7فی صد تھی، جو ان کے میئر بننے کے دو سال کے اندر 17.9فیصد کم ہوئی ہوگی۔ ہیلن نے پانی کی فراہمی، سیوریج، سڑکوں، ٹرانسپورٹ کا نظام اور عوام کی تعلیم و صحت پر خصوصی توجہ دی۔وہ اپنے مقصد کو لے کر آگے بڑھتی گئیں ۔

ہیلن نے شہر والوں کی رہنمائی کی، ان پر حکم رانی نہیں کی، لوگوں کی فطرت کو سمجھا اور ان کی ضروریات کا اندازہ لگا کر انہیں پورا کیا۔ آج کیپ ٹائون کے فٹ پاتھوں پر کوئی بچہ سوتا نظر نہیں آتا۔ محدوداختیارات کے باوجود غربت اور جرائم سے دوچار بدحال شہر کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ ایک عورت نے کیا۔ ان کی بہترین کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں دنیا کی بہترین خاتون میئر کا اعزاز ملا۔

’’ہیلن‘‘ نے تومیئر بننے کے بعد اپنے شہر کیپ ٹائون کا نقشہ بدلا اور صومالیہ کی ’’ڈاکٹر حوّا‘‘نے ایک شہر ہی تعمیر کردیا، جو ’’جھونپڑا شہر‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ شہر صومالیہ کے دارالحکومت، موغا دیشو سے تقریباًپندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب میں واقع ہے، جس میں تنکوں اور گھاس پھونس سے جھونپڑیاں بنائی گئیں۔

اس شہر میں چند فارم ہائوس، ایک اسپتال اور اسکول بھی ہے، جہاں غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی اور مفت علاج کیا جاتا ہے۔ فارم ہائوس میں سبزیوں کے کھیت ہیں۔ یہاں خواتین خود سبزیاں اگاتیں اور فروخت کرتی ہیں، اس سے جو آمدن ہوتی ہے وہ جھونپڑا شہر کے مکینوں کی ضروریات پر خرچ ہوتی ہے۔ نوے ہزار نفوس پر مشتمل اس شہر کا شہرہ صومالیہ ہی نہیں، دیگر افریقی ممالک میں بھی تھا، لیکن یہ کسی کو معلوم نہ تھا کہ ڈاکٹر حوّاکون ہیں؟ 2010میں ڈاکٹر حوّا نے بی بی سی کو انٹرویو دیا تو جھونپڑا شہر کی تعمیر کی وجہ اور ڈاکٹر حوّا کی بابت پتا چلا۔

انہوں نے اپنے ماضی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے اپنی ماں کو دم توڑتے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا۔ اس وقت میں زندگی کے آٹھویں برس میں تھی۔ اس وقت میرا باپ کام پر گیا ہوا تھا، میں گھر میں اکیلی تھی۔ علاقے میں دور دور تک نہ کوئی اسپتال تھا، نہ ہی ڈاکٹر، دیکھتے دیکھتے ماں دنیا سے چلی گئی۔ بہت سے دن، بہت سی راتیں روتے دھوتے گزر گئیں، پھر ابا نے مجھے سمجھایا، تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کی تلقین کی۔ میں اسکول جانے لگی۔

اب میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔ میری یہ خواہش پوری ہوگئی۔ میڈیکل کی تعلیم کے لئے یوکرائن کے شہر کیف گئی۔ گائنا کالوجیکل میڈیسن میں ریسرچ کی، تعلیم مکمل کرکے واپس صومالیہ آئی اور ایک سرکاری اسپتال میں کام کرنے لگی۔دوران ملازمت شادی ہوگئی۔ تین بچوں کی پیدائش کے بعد سرکاری ملازمت چھوڑ دی۔ بابا کا فارم تھا، اس میں ایک کمرے کا کلینک کھول لیا، جہاں علاقے کی خواتین کا مفت علاج کرتی۔

اسی دوران صومالیہ میں خانہ جنگی شروع ہوگئی تو سوچا، متاثرہ خواتین اور ان کے بچوں کو فارم میں رہنے کے لئے جگہ دے دوں۔ جلد ہی اپنے پروگرام کو عملی جامہ پہنایا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اتنے زیادہ لوگ آگئے کہ فارم چھوٹا پڑ گیا تو میں نے فارم کے ارد گرد کی زمین خرید لی، جہاں گھاس پھونس کی چھوٹی چھوٹی جھونپڑیاں بنا کر پناہ گزینوں کو آباد کیا، ساتھ سبزیوں کے کھیت بنائے۔ ایک کمرے کے کلینک کو توڑ کر چار سو بستروں کا اسپتال تعمیر کرایا، جس کا نام ’’حوّا عبدی اسپتال‘‘ ہے۔ اس میں تین آپریشن تھیٹر، سولہ ڈاکٹر اور پچاس نرسیں ہیں۔ اسپتال کے قریب ہی ایک اسکول قائم کیا، جس میں آٹھ کلاس رومز اور کھیل کا میدان ہے۔

اسپتال، اسکول، پناہ گزین کیمپ اور پھر شہر کو بسانے کا کام ڈاکٹر حوّا نے تن تنہا بغیر کسی کی مدد کے کیے۔ نہ صرف یہ بلکہ جھوپڑا شہر میں خودساختہ نظام بھی نافذ کیا، جس کی پابندی اس شہر کے باسیوں کے لیے لازمی ہے۔ مثلاً کوئی شوہر بیوی کو مار پیٹ نہیں سکتا، ہر بچّے اور خاتون کے لیے اسکول جانا لازمی ہے، خلاف ورزی پر ڈاکٹر حوّا خود سزا دیتی ہیں، نیز جھونپڑا شہر کی حفاظت کے لیے چند سیکورٹی گارڈز بھی ہیں۔

کیا اس حقیقت سے کوئی آنکھیں چُرا سکتا ہے کہ ایک خاتون نے تن تنہا نہ صرف ایک شہر تعمیر کرایا بلکہ تعلیم سے لے کر صحت، روزگار تک کی سہولتیں فراہم کر دیں، یہاں کوئی بھوکا نہیں سوتا نہ ہی بیماری کی صورت میں علاج سے محروم رہتا ہے۔ کیا یہ کام آج تک کسی مرد نے کیے؟

حیرانی تو اس بات پر بھی ہے کہ اگر کوئی عورت اسکول، تعمیر کراتی ہے یا مفت تعلیم اور علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرتی ہے تو اُس پر بھی مرد اعتراض کرتے ہوئے ان کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں جیسا کہ افغانستان کی رضیہ جان کے ساتھ ہوا لیکن انہوں نے ہزار مخالفت اور دھمکیوں کے باوجود لڑکیوں کے لیے تعلیم کا دیا روشن کر دیا۔

رضیہ جان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک کم زور عورت نے کابل کے ایک گائوں ’’دیہہ سبز‘‘ (Deha Subz) میں لڑکیوں کے لیے ایک اسکول تعمیر کرا کے مردوں کو چاروں شانے چت کر دیا۔ اسکول کی تعمیر کی پہلی اینٹ رضیہ جان نے رکھی تو گائوں کے مردوں نے ان کے گرد گھیرا تنگ کرکے کہا ’’افغان لڑکے ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈّی ہیں، تم ہماری بچیوں کے لیے اسکول نہیں کھول سکتیں۔‘‘ رضیہ جان نے اَکڑ کر کہا، ’’بچیاں افغانستان کی روشنی ہیں، بدقسمتی سے تم سب مرد نابینا ہو، میرے راستے سے ہٹ جائو۔‘‘ مردوں کو ایک خاتون سے اتنے سخت جواب کی اُمید نہ تھی۔

وہ دھمکیاں دیتےہوئے چلے گئے لیکن پھر ان میں واپسی کی ہمت نہ ہوئی۔ رضیہ جان نے دِن رات اسکول کی تعمیر کرائی اور چند ماہ میں ہی اسکول کے دروازے گائوں کی بچیوں کے لیے کھول دیئے گئے، گرچہ ان دروازوں سے بچیوں کو داخل کرنے میں مشکلات تو پیش آئیں لیکن جلد ہی گائوں میں علم کی روشنی پھیل گئی۔ مرد خاموش ہوگئے، رضیہ جان دل جمعی سے اپنا کام کرتی رہیں، یہ بات ہے 2008ء کی۔ جب رضیہ جان کے افغانستان میں چرچے ہونے لگے تو پوچھا جانے لگا کہ، آخر یہ خاتون ہے کون؟ اسکول کے قیام سے پہلے تو انہیں کوئی جانتا تک نہیں تھا۔

اس کا خاندان کہاں ہے؟ بالآخر بہت کھوج کے بعد یہ بات منظرعام پر آئی کہ، کابل کے خوش حال گھرانے سے تعلق رکھنے والی رضیہ جان 1970ء میں تعلیم کے حصول کے لیے امریکا گئیں، جہاں نائن الیون کے حادثے کے بعد امریکا ہی میں ایک فائونڈیشن کے بینر تلے فلاحی کام کا آغاز کیا۔ 2002ء میں افغانستان آئیں تو مقامی لڑکیوں کی پس ماندگی دیکھ کر امریکا واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا اور لڑکیوں کو تعلیم سے بہرہ مند کرنے کا ارادہ کیا۔ ان کے خاندان کے بیش تر افراد افغان جنگ کے دوران مار دیئے گئے تھے۔ اب جو کچھ کرنا تھا وہ تن تنہا رضیہ جان نے ہی کرنا تھا۔

ان کی زیرنگرانی قائم ہونے والا چند کمروں کا اسکول آج قدیم طرز کی دو منزلہ عمارت میںہے، جس میں تقریباً پانچ سو بچیاں زیرتعلیم ہیں۔ انہیں نصابی تعلیم کے علاوہ کمپیوٹر، فارسی، پشتو، انگریزی، ریاضی اور سائنس کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ رضیہ جان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ، اسکول کے قیام کے پانچ سال بعد حیرت انگیز طورپر علاقے کے مرد بھی میرے مشن میں میرے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ جلد ہی سب دیکھیں گے کہ ایک قدامت پسند معاشرے میں خواتین اپنے اردگرد دُنیا کس تیزی سے بدلتی ہیں، جو بدلنا شروع ہو گئی ہے۔

ایک انتہائی پس ماندہ اور لڑکیوں کی تعلیم سے انکاری معاشرہ، جہاں لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے پر ان کے چہروں پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہو۔ ان کے اسکولوں میں پانی کی ٹنکی میں زہر ملا دیا جاتا ہو، وہاں ستّر سالہ رضیہ جان کی پُرخلوص اور جواں مردی پر مشتمل تعلیمی تحریک کام یاب ہوگئی۔ اس تحریک کے اعتراف میں انہیں سی این این ایوارڈ دیا گیا۔

یہ حقیقت ہے کہ کچھ عرصے قبل تک ان کی (خواتین) حالت اس پیاسے کی سی تھی، جس کے لبوں تک پانی کا گلاس آتے آتے ٹوٹ گیا ہو لیکن وہ پانی بن کر بنجر زمین کو زرخیز بنانا چاہتی تھیں، سو انہوں نے اطراف سے آنکھیں چراتے ہوئے اپنے گھر اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور ایسی بلند چھلانگ لگائی کہ دُنیا حیران رہ گئی، اس کے لیے انہیں مردوں کی طرح نہ پاپڑ بیلنے پڑے اور نہ ہی کوئی طویل منصوبہ بندی کرنی پڑی۔

کابل کی رضیہ سلطان اپنے اسکول میں بچیوں کے ساتھ

کسی عورت نے گیراج میں اسکول کھولا تو کسی نے اپنے گھر کے کچّے صحن کو ذریعۂ روزگار کے طور پر استعمال کیا، کسی نے چھوٹے سے قطعۂ زمین پر سبزیاں اُگائیں تو کسی نے اپنے گھر کو ہی انڈسٹریل ہوم بنا کر غربت مٹا کر نہ صرف اپنے بچوں کی بھوک پیاس ختم کی بلکہ اپنے اردگرد جہاں جہاں غربت، جہالت کے اندھیرے نظر آئے، وہاں اُجالے بکھیرنے کی سعی بھی کی اور خواتین کو اپنے ہنر آزما کر ذریعہ روزگار کے آسان طریقوں سے روشناس کیا۔ وہ گھروں میں پڑھ کر رائے عامہ ہموار کرکے کاروباری ادارے قائم کر رہی ہیں اور نئی ٹیکنالوجی بھی متعارف کرا رہی ہیں تا کہ خواتین بھی وقت کے ساتھ چلیں۔

چند سال قبل ’’غربت اور خواتین کے معاشی مسائل‘‘ سے متعلق ایک کانفرنس کا انعقاد، یونی ورسٹی آف کیپ ٹائون (سائوتھ افریقا) میں ہوا۔ کانفرنس میں یہ سوال زیر بحث آیا کہ غربت کا شکار مرد بھی ہوتے ہیں، پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ غربت سے مردوں سے زیادہ خواتین متاثر ہوتی ہیں؟ اس سوال کا جواب امریکا کے معروف دانش ور، نوم چوسکی نے یہ دیا کہ، اس وقت جب میں آپ سے مخاطب ہوں، دنیا میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد بچے ایسی بیماریوں سے مررہے ہوں گے جن کا علاج انتہائی سستا اور سادہ ہوگا۔

نئی زندگی کو جنم دیتے ہوئے ہزاروں غریب مائیں موت کو گلے لگا رہی ہوں گی۔ اگر دوران حمل انہیں متوازن صحت بخش غذ اور پیٹ بھر کھانے کو مل جاتا تو ان میں موت سے مقابلہ کرنے کی سکت ہوتی۔ غریب گھرانوں کے مردوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ماں بننے والی عورتوں کو پروٹین، فولاد اور آیوڈین سے بھرپور غذا فراہم کریں گے، ممکن ہی نہیں، جس دن سے کوئی غریب عورت نئے وجود کی پرورش کرنا شروع کرتی ہے، اسی دن سے وہ صحت کے اضافی مسائل کا شکارہو جاتی ہے اور اسی دن سے وہ ہر لمحہ ہر آن موت کے خطرے سے دوچار رہتی ہے۔

سوپ کچن میں خواتین کام کرتے ہوئے

گرچہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم، ناانصافیوں کے خلاف ایک عورت بہت کم بولتی ہے اور وہ جو بھی کہتی ہے، اس کے دل میں اس سے کہیں زیادہ کہنے کو ہوتا ہے لیکن وہ خاموش رہ کر اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی بدل رہی ہے۔ اپنے ہنر سے وہ خود بھی اور اس کے بچے بھی دو پیسے کما رہے ہیں۔ یہ نئے دور کی کروٹ ہے۔

امریکا کے سابق وزیر خارجہ، ہنری کسنجرنے اپنے دور میں ایک عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’’جو ملک خوراک کو کنٹرول کر لے، وہ پوری دنیا پر حکم رانی کرسکتا ہے، کیوں کہ کوئی بھی اپنے بچوں یا پیاروں کو بھوکا نہیں دیکھ سکتا اور سر جھکا دیتا ہے‘‘۔

صومالیہ کی ڈاکٹرحوّا اپنے فارم ہاؤس میں

حال ہی میں امریکی جریدے ٹائم میگزین نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ، تیسری دنیا کے بیش تر افراد اپنی آمدن کا زیادہ حصہ دو وقت کی روٹی پر خرچ کردیتے ہیں، پھر بھی ان کی عورتیں اور بچے بھوکے ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں ہر روز 80کروڑ بچے اور اس سے کہیں زیادہ عورتیں بھوکی سوتی ہیں ۔

ہر سال کرۂ ارض پر آٹھ کروڑ بچوں کا اضافہ ہوتا ہے، صرف ایک دن میں تقریباً سوا د ولاکھ نومولود خوراک کے لئے ہاتھ پائوں چلاتے ہیں، لیکن دنیا میں آنے کے فوراً بعد ہی انہیں پیٹ بھر خوراک مہیا نہیں ہوتی۔ اس صورت حال کی اہم وجہ جنگل کی آگ کی مانند بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ اس اضافے سے زمین کے دست یاب وسائل بھی تیزی سے ناکافی ہوتے جارہے ہیں، پھر مہنگائی، بھوک، رہائش، علاج معالجے کی سہولیات اور روزگار جیسے بحران شدید سے شدید تر ہوتے جارہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی کی مرتب کردہ انسانی وسائل کی ترقی کی رپورٹ 2017میں درج ہے کہ ’’جب عورتیں کم بچے پیدا کریں گی تو ان کی صحت ان خواتین کے مقابلے میں اچھی رہے گی، جو تقریباً ہر سال یا دوسرے سال حاملہ ہوتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عورت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے بچوں کی تعداد مقرر کرے؟ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر روز 94ملین بچے پیدا ہورہے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ ہر روز ایک نیا شہر بس رہا ہے، لیکن تیسری دنیا کے ملکوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی آمد میں انسان کی مکمل ضروریات کو پورا کرنے یا نہ کرنے کے سوال کے بغیر ہوتی ہے۔ لیکن مائیکرو فنانس اداروں نے خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کردیا ہے۔ چھوٹے چھوٹے قرضے دے کر انہیں برسر روزگار کردیا ہے، جس سے ان کی خود اعتمادی بڑھی، عزت نفس میں اضافہ ہوا، سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا سماجی وقار بلند ہونے لگا۔ انہوں نے اپنی اور بچوں کی زندگی بدلنے کا عزم کیا تو دنیا ہی بدل رہی ہیں۔

2024تک امریکا اور یورپ کے مردوں کے مقابلے میں خواتین کی آمدن زیادہ ہوگی

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستانی خواتین نے بھی انہونی کو ہونی کردیا۔ وہ زندگی کے ہر شعبے میں کام کررہی ہیں۔ معاشی سرگرمیوں کے نئے نئے راستے انہوں نے خود بنائے ہیں۔ وہ دکان داری بھی کررہی ہیں، حصص کے کاروبار میں بھی مصروف نظر آرہی ہیں۔ 20سے 54برس کی خواتین کی معاشی سرگرمیاں 70فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔ دیہی علاقوں کی معیشت میں بھی خواتین کا کردار نمایاں ہے۔

زراعت کے شعبے کی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 60تا 66فی صد ہے، انہیں تعلیمی میدان میں بھی برتری حاصل ہوچکی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق ہمیں تیز رفتار اور پائیدار ترقی کے لئے خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کرنا ہوگا۔ خلیج ٹائم کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں دو تہائی خواتین اپنے خاندان کا معاشی بوجھ اٹھا رہی ہیں، جن میں پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کی خواتین سرفہرست ہیں جو عرصہ دراز سے وہاں مقیم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2009 میں یورپ میں 80لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے جن میں سے 75فیصد خواتین کے حصے میں آئے۔ معیشت دان یہ پیش گوئی کررہے ہیں کہ 2024تک امریکا اور یورپ کے مردوں کے مقابلے میں خواتین کی آمدن زیاد ہ ہوگی اور حسب عادت وہ خرچ بھی زیادہ کریں گی لیکن وہ کچھ ایسا کرکے بھی دکھائیں گی کہ مرد ان سے کئی قدم پیچھے رہ جائیں گے۔ یہ بدلتی دنیا کے تقاضے ہوں گے۔

عالمی سطح پر خواتین خریدار کی حیثیت سے سامنے آرہی ہیں

عالمی سطح پر خواتین خریدار کی حیثیت سے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی مارکیٹ کے طورپر سامنے آرہی ہیں۔ ٹائم میگزین کی ایک رپورٹ 2017کے مطابق خواتین خریداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر بین الاقوامی کمپنیوں کی حکومت عملی میں بھی بنیادی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔

سینٹر فار وک لائف پالیسی کے ایک سروے رپورٹ کے مطابق، بھارت کی 85اور متحدہ عرب امارت کی 92فی صد خواتین اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے کے لئے سرگرم ہیں، جب کہ برازیل، بھارت اور یو اے ای میں 75فی صد ملازمت پیشہ خواتین اعلیٰ عہدوں تک رسائل کو اپنا مقصد قرار دیتی ہیں۔

یہ پرعزم خواتین اپنی کاوشوں کے ذریعے معاشی برابری کے لئے کوشاں ہیں، گوکہ ترقی پذیر ممالک میں خواتین کو دی جانے والی اجرتیں مردوں کی نسبت کم ہوتی ہیں، اس کے باوجود خواتین دل برداشتہ ہونے کے بجائے اپنا کردار منوانے کے لئے کوشاں ہیں۔

خواب دیکھنا اور دکھانا بند کر و، سویڈن کی 16 سالہ ،گرتیا کا عالمی ماحولیاتی بچاؤ کانفرنس سے خطاب

18 ستمبر 2019ء کو سوئیڈن کی ’’گرتیا‘‘نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی دعوت پر عالمی ماحولیات بچائو کانفرنس سے بہ حیثیت مہمان مقرر خطاب کیا ۔اپنے خطاب میں گرتیا نے کہا ،معزز ارکان کانگریس ،آپ کے امریکا کوخوابوں کی سرزمین کہا جاتا ہے ۔میرا بھی ایک خواب ہے کہ، حکومتیں ،سیاستدان ،کثیر القوی کارپورشینزاور میڈیا تمام تر باہمی اختلافات کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں کو ایک بقائی ایمرجنسی کے طور پر قبول کریں اور ہر ممکن کردار نبھائیں ۔

گرتیا

میرے جیسے بہت سارے بچے دوبارہ اسکول اور گھر جانا چاہتے ہیں ،مگر یہ سوچ کر نہیں جارہے کہ ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جو دنیا کو ہی نہ بچا سکے میں بھی بہت سے خواب دیکھنا چاہتی ہوں ،مگر 2019 ء خواب دیکھنے کا نہیں جاگنے کا سال ہے ۔یہ آنکھیں پوری طر ح کھلی رکھنے کا تاریخی لمحہ ہے ۔یہ وہ بحران ہے جو کسی بھی سیاست یانظر سے بالاہے ۔یہ کوئی سیاسی لڑائی نہیں جسے ہارنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔

یہ بچوں کی بقاء کا سوال ہے ،لہٰذا خواب دیکھنا اور دکھانا بند کرو اور سائنسی حقائق کے ساتھ کھڑے ہوجائو ،یہ ہے ایک سولہ سالہ بچی گرتیا،جو دنیا بدلنے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی ۔ سولہ سالہ ’گرتیا تو برگ‘‘کا تعلق سویڈن سے ہے ۔گیارہ سال کی عمر میں اس نے پہلی بار عالمی ماحولیاتی بحران کی اصطلاح سنی اور پھر اس کے بارے میں پڑھنا سمجھنا شروع کیا جب اسے اندازہ ہواکہ یہ بحران تو انتہائی سنگین ہے لیکن دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے تو ایک دن وہ ایک پلے کارڈ لے کر سویڈش پارلیمنٹ کے سامنے کھڑی ہوگئ ،جس پر درج تھا ’’تم تو چلے جائوگے ہمار اکیا ہوگا ‘‘ ۔

یہ بات ہے اگست 2018ء کی ۔یہاں سے ایک تحریک ’’فرائیڈ ے فار فیوچر ‘‘ کا آغاز ہوا ۔جس کے تحت ہر جمعہ کو اسکول کے بچے پلے کارڈ ہاتھ میں اُٹھائے پارلیمنٹ کے سامنے خاموش مظاہرہ کرتے ہیں ۔گریتا کا تعلیمی سلسلہ جاری ہے لیکن اسکول انتظامیہ نے اسے اسکول آنے سے مستشنیٰ کردیا ہے ۔گزشتہ ایک برس میں دنیا کے تقریباً’’ڈیڑھ سو ممالک کے بچوں نے فرائیڈ ے فارفیوچر ‘‘کے تحت ماحولیاتی مہم میں حصہ لیا جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔20 تا 17 ستمبر 2019ء کو دنیا بھر میں تین ملین سے زائد بچوں نے ’’کرۂ ارض کو بچاؤ ‘‘کے نعرے کےتحت نکالی جانے والی ریلیوں میںشرکت کی ۔اُمید ہے ،گرتیا کی کوششیں رنگ لائیں گی۔

ایک بیج میں بھی طاقت ہوتی ہے…کم عمر بچی کا بڑا مقصد

امریکا کی ریاست سائوتھ کیرولینا (South Carlina) کے شہر،سمرولا کی بارہ سالہ کیٹی سیٹکیا ایک دن اسکول سے گھر آ رہی تھی کہ اس نے چند بچوں کو سڑک کنارے بیٹھا دیکھا جومٹی سے کھیلتے کھیلتے اسے کھا بھی رہے تھے ،ان کے چہرے بتا رہے تھے کہ وہ بھوکے ہیں، اس کے ایک ساتھی نے کہا ’کیٹی ان بچوں کے لئے کچھ کرنا چاہئے۔ ’’اس نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے کہا ’ضرور‘‘ گھر آ کر وہ سو گئی، شام کو جب بیدار ہوئی تو ہشاش بشاش ہونے کے بجائے افسردہ تھی۔

وہ سوچ رہی تھی کہ ان بچوںکے لئے ایسا کیا کروں کہ وہ بھوکے نہ سوئیں۔ دوسرے دن اسکول جاتے ہوئے کیٹی کی نظر ایک دکان پر پڑی، جس پر جلی حروف میں ’’سوپ کچن‘‘لکھا تھا۔امریکا میں ’’سوپ کچن‘‘ ایسی دکان کو کہتے ہیں جہاں غریب افراد کو مفت یا نہایت کم قیمت پر سوپ فراہم کیا جاتا ہے۔

اسکول سے واپسی پر اس نے گوبھی کے چند بیج خریدے اور اسے اپنے گھر کے باغیچے میں بو دیئے، چندہفتوں میں اس کے پودے نے سر زمین سے نکالا، پودا مزید بڑا ہوا تو اس میں پھول آنے لگے جو کھلتے گئے اور گوبھی بھی نمودار ہوتی گئی۔ جب گوبھی تقریباً چالیس پونڈ وزنی ہو ئی تو اس نے احتیاط سے اسے نکالا اور اپنی ماں کے ساتھ ’’سوپ کچن‘‘ کے مالک کو دے آئی ،اسے معلوم تھا کہ اس گوبھی سے کچھ بچوں کی بھوک مٹائی جا سکتی ہے۔

اسی رات اسے ’’سوپ کچن‘‘ انتظامیہ نے بتایا کہ تمہاری دی ہوئی بند گوبھی سے تیارہ کردہ سوپ ’’275‘‘ افرادنے پیا یہ سن کر اس نے سوچا کہ اب میں یہ سلسلہ جاری رکھوں گی اور اپنے ساتھیوں کو بھی بتائوں گی، تاکہ و ہ بھی کچھ کام کریں۔

بعد ازاں کیٹی نے اپنے گھر کے باغیچے کو سبزیوں کا کھیت بنا دیا، جہاں اگنے والی سبزیاں سوپ چکن کے لیے علاوہ مستحق لوگوں کو بھی دی جاتی ہیں، فروخت بھی کی جاتی ہیں۔ اس کی آمدنی سے کیٹی کے ایک پراجیکٹ ،نوہنگری چلڈرن ‘‘ میں جمع ہوتی ہے، جو غریب بچوں پر خرچ کی جاتی ہے۔ کیٹی نے اپنے کھیت کے باہر ایک بورڈ آویزاں کیاہے، جس پر درج ہے ایک بیج میں بھی اس قدر طاقت ہوتی ہے کہ وہ ایک بڑا مقصد پورا کر سکتا ہے‘‘

پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں چائلڈ لیبر پر پابندیاں عائد کرنا ممکن نہیں

دیہات اپنی تمام تر فطری نیرنگیوں کے ساتھ سمٹتے جا رہے ہیں۔ جس رفتار سے شہر بڑھ اور پھیل رہے ہیں، اس سے زیادہ تیز رفتاری سے جھگیاں اور نادار بستیاں پھیل رہی ہیں، جس میں رہنے والی زیادہ خواتین اور ان سے کہیں زیادہ بچے ہیں۔

کئی بار حکام نے جھونپڑیاں ڈھا دیں، کچی بستیاں مسمار کر دیں لیکن جو غریب بے گھر کئے گئے، انہیں متبادل جگہ نہیں دی گئی لہٰذا پہلے سے بدتر ایک اور بستی بن گئی، دوبارہ جھونپڑیاں ڈال لی گئیں، جہاں نہ بجلی، نہ کھانا اور نہ پانی ہے۔

یہاں سے جھانکنے والے بھوکے بچے، بھوکی عورتیں، ننگ دھڑنگ بچے، پرانے کپڑے پہنی عورتیں ہی ہوتی ہیں، جو اس امید پر اپنے چہار سو دیکھتی ہیں کہ شاید کسی کا بچا کھچا کھانا انہیں مل جائے۔ ان عورتوں کی تعداد بنگلہ دیش، پاکستان اور بھارت میں بہت زیادہ ہے لیکن خوش کن بات یہ ہے کہ اب ان ممالک کی نادار بستیوں میں مقیم خواتین کی سوچ بدل گئی ہے، شاذ و نادر ہی اب یہاں کوئی عورت بھوکی سوتی ہے۔

اس بدلتی سوچ کو بدلا ہے ایک دس سالہ بچے اجو لعل نے، جو اپنے ماں باپ کے ساتھ امریکا کے شہر شکاگو سے گھومتے پھرتے بھارت گیا، جہاں اس نے دس گیارہ سال کے بچوں کو اینٹیں بناتے، سڑکیں کوٹتے اور چکیوں پر مسالے پیستے دیکھا، جس کی روزانہ اجرت انہیں اتنی ملتی کہ بمشکل ایک وقت کا پیٹ بھرتا، یہ سب کچھ اجو لعل سے دیکھا نہ گیا اور ایک دن وہ ایسی بستی میں چلا گیا، جہاں خواتین بچے مسالوں کے پیکٹ بنا رہے تھے، اس نے ان سے کہا، یہ امیر اور سرمایہ دار لوگ تمہیں کبھی تمہاری محنت کا معاوضہ نہ دیں گے، تم ان کے کام کرنے کے بجائے خود اپنی مارکیٹ بنائو۔

وہ کیسے؟ ایک عورت نے اجو سے سوال کیا، جواب میں اجو نے انہیں کمائی کے چند گر بتائے اور پھر ایک نادار بستی کی خواتین نے وہ کچھ کر دکھایا کہ ان کی محنت کا معاوضہ چند ٹکے دینے والے پریشان ہوگئے۔ بستی کی خواتین نے اپنے ہنر مہنگے داموں فروخت کرنے شروع کر دیئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے حالات بدل گئے۔

ان کی دیکھا دیکھی دیگر بستیوں اور جھگیوں کی خواتین نے بھی گھر بیٹھے کام شروع کر دیئے۔ جس کام کا معاوضہ انہیں چند سکے ملتا تھا، اب ہزاروں میں ملنے لگا، یوں جھگیوں اور نادار بستیوں میں انڈسٹریل ہوم سے لے کر چھوٹے چھوٹےے اسٹور کھلنے لگے۔ کسی نے اپنی بستی میں خالص مسالوں کی دکان کھولی تو کسی نے خالص آٹے اور بیسن کی۔

انڈیا ٹو ڈے کی ایک رپورٹ بہ عنوان ’’چائلڈ لیبر 2018‘‘ میں درج ہے کہ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان میں ’’چائلڈ لیبر‘‘ پر اب پابندیاں عائد کرنا آسان نہیں، کیوں بچوں کی محنت مزدوری سے حالات بدل رہے ہیں۔ خواتین اپنے بچوں کے ساتھ غربت مکائو مہم چلا رہی ہیں۔ جو کام وہ اور ان کے بچے کر رہے ہیں، اس سے نہ صرف ان کے اچھے دن شروع ہوگئے ہیں بلکہ ان میں شعور بھی آگیا ہے۔

یوگنڈا کے طالبعلم، ریان نے پانی کامسئلہ کیسے حل کیا؟

’’پانی زندگی ہے، اس کی بوند بوند کو ترستے عوام کے لئے جب میں نے کنوئیں کھدوائے، عورتوں ،بچوں ،بوڑھوں نے مجھے لگے لگا لگا کر جودعائیں دیں، ان لمحات کوکیسے بھول سکتا ہوں، اور نہ ان لمحوں کی خوشی کو کسی سے شیئر کر سکتا ہوں۔‘‘

ریان ہرلیجک

یہ خیالات ہیں، یوگنڈا کے 20 سالہ ’’ریان ہرلیجک‘‘ کے جو کینیڈا کے مشرقی ساحلی شہر ،بالٹیکس کے کنگز کالج یونی ورسٹی میں زیر تعلیم ہیں،ریان جب ساتویں کلاس کا طالب علم تھا تو اسے پتا چلا کہ افریقا میں بیش تر لوگ پانی لینے کے لئے گھنٹوں پیدل سفر کرتے ہیں، تب بھی انہیں مشکل سے پانی کی ایک دو بوتل ملتی ہیں،گرچہ اس بات پر اسے یقین نہیں آیا لیکن حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں، اس نے اپنے والدین سے اس کی تصدیق کی تو انہوں نے بھی کہا، پانی کا مسئلہ شدید ہے، اس کا حل کیا ہے ؟‘‘ اس نے والدین سے پوچھا ،’’کنویں کھدوائے جائیں، اس کے سوا کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔ایک کنوئیں پر70ڈالرز کا خرچا آتا ہے۔‘‘’’یہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔ کچھ آپ دیں، کچھ میں اسکول کے ساتھیوں سے لیتا ہوں۔ ایک کنواں تو کھدوا سکتے ہیں۔

اس کے بعد پانی مہم چلائوں گا۔‘‘ ریان نے اپنے والدین سے کہا اور پھر اگلے دو ماہ میں جب اس نے ستر ڈالر جمع کر لئے تو پتا چلا کہ یوگنڈا میں ایک کنوئیں کی کھدائی پر دو ہزار ڈالر خرچہ آتا ہے۔ اس وقت ریان کو اندازہ ہوا کہ مسئلہ اتنا چھوٹا نہیں جتنا وہ سمجھ رہا تھا۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری، اپنی کوششوں کا دائرہ وسیع کر دیا۔

تین ماہ بعد ریان نے اپنے زیر نگرانی یوگنڈاکے ا ینگلیو پرائمری اسکول، میں پہلا کنواں کھدوایا۔ یہ اسکول ایک گائوں میں ہے، جہاں پانی کے حصول کیلئے بچے،عورتیں میلوں دور پیدل جاتے تھے۔ کنوئیں کی کھدائی سے نہ صرف اسکول کے بچوں بلکہ گائوں کے دیگر لوگوں نے بھی فائد ہ اٹھایا۔ اس وقت ریان بارہ سال کا تھا۔

اس کے بعد اس نے کام کی رفتار تیز کر دی، کیوںکہ اسے فنڈز ملنے لگے تھے، بعد ازاں ریان نے یوگنڈا کے علاوہ ان ممالک میں بھی کنوئیں کھدوائے جہاں جہاں اسے پانی کی عدم دستیابی کا علم ہوا۔ 2018تک اس نے16ممالک میں 667‘‘کنوئیں کھدوائے، جن سے آج تقریباً 25لاکھ غریب افراد مستفید ہو رہےہیں۔

ریان مختلف ممالک میں جا کر پانی کے مسئلے پر گفتگو کرتا اور لوگوں کو سمجھاتا ہے کہ سال میں ایک دو کنوئیں ضرور کھدوائیں، آپ کے اس کام سے نہ جانے کتنے لوگوں کی پیاس ہی نہیں بجھے گی، دیگر ضروریات بھی پوری ہوں گی۔ اور اس وقت پیاسے عوام جو دعائیں دیں گے، وہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ ریان کہتا ہے کہ آپ کم عمر ہوں یا جوان کچھ نہ کچھ ایسا کر سکتے ہیں، جس سے دنیا بدل سکتی ہے۔‘‘


مکمل خبر پڑھیں