Advertisement

پی سی بی نے مضحکہ خیز انداز میں سرفراز سے تخت چھین لیا، کیریئر پر بھی سیاہ بادل

October 22, 2019
 

پاکستان کرکٹ بورڈ نے روایتی انداز میں چیمپئنز ٹرافی ونر اور آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 کے نمبر ون کپتان سرفراز احمد سے کپتانی کا تخت چھین لیا جس کے بعد ان کےکیریئر پر بھی سیاہ بادل چھاگئے ہیں،انداز وہی تھا اور طریقہ کار بھی وہی جو پاکستان کرکٹ کے ہیڈ کوارٹرز کی راہداریوں سے برسہا برس سے برسات کے نالے کی طرح باہر آتاہے،ورلڈ کپ میں ناکامی کے بعد سرفراز پر جتنا ملبہ گر رہا تھا تب امکان تھا کہ پی سی بی شاید بڑافیصلہ لے لے مگر اس وقت ایسا کچھ نہیں کیا گیا،مزے کی بات یہ ہے کہ ان سے ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی بغیر کوئی ٹیسٹ کھیلے لے لی گئی کیونکہ اپریل کے بعد سے پاکستان نے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا ہے۔

یہ بھی اتفاق ہے کہ کپتانی بھی فٹبال بن گئی ،پہلے اظہر علی سے سرفراز کومنتقل ہوئی اور اب پھر ٹیسٹ کپتانی سرفراز سے اظہر علی کی جھولی میں چلی گئی ۔ ٹی 20 میں اچانک کپتانی محض ایک سیریز پر چھین لینا سمجھ سے بالاتر ہے،ورلڈ ٹی 20ایک سال کی دوری پر ہے،سرفراز کی قیادت میں پاکستان مسلسل عالمی نمبر ون چلا آرہا ہے،سرفراز نے اپنی کپتانی میں مسلسل ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ بھی بنایا تو ایسے ریکارڈ والے کپتان کو اچانک چلتا کردینا سمجھ نہیں آیا، بابر اعظم کو سری لنکا کے خلاف نائب کپتان بنایا گیا تو یہی کہا گیا کہ مستقبل کے لئے تیار کیا جارہا ہے تو کیا ایک ہاری ہوئی سیریز سے ہی وہ سب سیکھ گئے اور ایسے سیکھے کہ ورلڈنمبر ون ٹیم کے کپتان بن گئے؟سرفراز کو 2016ورلڈ ٹی 20میں ناکامی کے بعد شاہد آفریدی کی جگہ کپتان بنایا گیا،5اپریل 2016 کو وہ کپتان بنے اور تب سے پاکستان کو فتح کی لائن پر لے گئے ، مسلسل 11 سیریز جیتیں ۔37 ٹی 20 میچزمیں سے پاکستان ان کی قیادت میں 29 جیتا اور صرف 8 ہارا ۔

شاہد آفریدی کے 43میچزکے بعد وہ میچوں کے اعتبار سے کپتانی کرنے والے دوسرے نمبر پر ہیں ان کی 19فتوحات کے مقابلے میں سرفراز کی 29فتوحات سب سے زیادہ ہیں ، وہ 2006سے اب تک کپتانی کرنے والے7کپتانوں میں سے سب سے کامیاب ترین قائد ہیں ،یہ اعدادوشمار انکی برطرفی کے لئے بڑا چیلنج ہیں ۔

پاکستان کی اگلی پہلی سیریز آسٹریلیا میں ٹی20 کی ہی ہے 9فروری 2017کو ون ڈے کپتانی سے دستبردار ہونے والے اظہر علی کی جگہ انہیں ذمہ داری ملی تو چند ماہ بعد جون میں انکی قیادت میں گرین شرٹس نے انگلش سرزمین پر چیمپئنز ٹرافی جیت لی ۔اب تک 50میچزمیں سے وہ پاکستان کو 28میں جتوانے میں کامیاب رہے جبکہ20میں ناکام رہے2میچز بے نتیجہ تھے۔28ستمبر 2017کو وہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بنے مگر یہ فارمیٹ انکے لئے ڈرائونا خواب بنا پہلے امتحان میں سری لنکا کے خلاف عرب امارات میں پاکستان کو وائٹ واش ہوا اور ایسا پہلی مرتبہ تھا کہ پاکستان سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہوم سیریز میں وائٹ واش ہوگیا ہو اس کے بعد سرفراز ٹیسٹ ٹیم کو اٹھانے میں ناکام رہے13میچزمیں سے 4جیتے،8ہاے اور ایک میچ ڈرا کھیلا۔

سرفراز اپنی کپتانی کے زمانے میں اپنی پرفارمنس سے عاجز ہوتے گئے ،شروع میں انکا بیٹ رنز اگلتا رہا،آخر میں جیسے وہ رنز لینا بھول گئے ہوں 13 ٹیسٹ میچزمیں 26سے بھی کم اوسط سےا نہوں نے 568رنزکئے،50ایک روزہ میچز میں 32کی اوسط سے 804رنزبنائے اور 37 ٹی 20میچزمیں 27کی اوسط سے521رنز کرسکے، آخری ایک سال میں ایوریج اس سے بھی کہیں کم تر رہی۔49ٹیسٹ میچزمیں 36سےزائد کی اوسط سے 2657رنز ہیں،3سنچریز اور 18نصف سنچریز ہیں ۔116ون ڈے میچزمیں 34کی قریب کی اوسط سے2301 اسکور ہیں،2سنچریز اور11ہاف سنچریاں ہیں جبکہ 55ٹی 20میچزمیں 29کی قریب کی اوسط سے 745 اسکور ہیں صرف 3 نصف سنچریاں ہیں۔یہ اعدادوشمار سرفراز کو ٹیم کے لئے نا گزیر نہیں بناتے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں