شراب کا کاروبار

جرم و سزا
December 22, 2019

عمرکوٹ میں پولیس کی زیرسر پرستی شراب کی خرید و فروخت کا کاروبار بلا روک ٹوک جاری ہے۔ گٹکے شفینہ اور مین پڑی وغیرہ پر سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پابندی کے بعد شراب کے اڈہ مالکان کو گویا خصوصی ریلیف مل گیا ہے۔اندرون سندھ میں منشیات کے عادی افراد نے گٹکا ، ماوا اور دیگر نشہ آور اشیاء کی بندش کے بعد، نشے کی تسکین کے لیے دیسی شراب کی دکانوں کا رخ کرلیا ہے۔ عمرکوٹ میں شراب فروخت کرنے والوں کی دودکانیں ہیں ،انہوں نے اپنا کاروبار گلی کوچوں، محلوں تک پھیلا دیا ہے ، اب گٹکے ، ماوہ، شفینہ کی جگہ کیبنوں اور سفری ایجنٹس کے ذریعے موٹرسئیکلروں پر دیسی و غیر ملکی شراب آزادانہ طور پر فروخت کی جارہی ہے۔

گٹکے، شفینہ، مین پڑی نہ ملنےپر عادی افراد شراب کا استعمال کرنے لگے ہیںجب کہ شراب کا کاروبار دن دونی ، رات چوگنی ترقی کرنے لگا ہے۔ وائن شاپ مالکان دکانوں کے علاوہ گلیوں ،چوراہوں، محلوں میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے من مانی قیمت میں شراب فروخت کررہے ہیں۔ انہیں اپنے کاروبار کے تحفظ کے لیے پولیس کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔

عمرکوٹ شہر میں پانچ سو سے زائد دیسی شراب بنانے کی بھٹیاں کام کررہی ہیں۔شراب کی فراوانی کی وجہ سے اس کا استعمال اسکول کے بچوں سے لے کرنوجوان لڑکوں، ڈرائیوروں بلکہ ہر طبقے میں عام ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز شراب کے نشے میں دھت افراد آئے روز حادثات کے مرتکب ہوتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ موٹرسائیکل چلانے والے کم عمر کے لڑکے نشے میں دھت ہوکر تیز رفتاری کے تمام ریکارڈ توڑ دیتے ہیں ۔

وہ اپنے ساتھ مسافر کے طور پر دو سے تین سواریاں اور بٹھا لیتے ہیں۔نشے کی حالت میں گاڑیاں چلاتے کئی افراد پنے ساتھ دوسروں کی ہلاکت کا باعث بھی بن چکے ہیں۔دیسی شراب کی خرید و فروخت روکنے کے لیے ایکسائز کا محکمہ موجود میں ہے مگر’’ بڑی منتھلیوں ‘‘کے عیوض محکمہ ایکسائز کے افسران نے عمرکوٹ شہر اور پورے علاقے میں ہزاروں شراب کیبھٹیاں قائم کرنےکا’’ غیر سرکاری پرمٹ ‘‘ دیا ہوا ہے جس وجہ سے ہزاروں لیٹر دیسی شراب عمر کوٹ شہر، مضافاتی قصبوں اور دیہی علاقوں میں استعمال ہوتی ہے۔

دیسی شراب کی تیاری میں انسانی صحت کے لیے مضر کیمیکلز کی آمیزش کی جاتی ہے جس سے لوگ موذی امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں، جب کہزہریلی شراب پینے کی وجہ سے درجنوں ہلاکتوں کے واقعات منظر عام پر آتے ہیں ۔دوسری جانب وائن شاپس پر جوغیر ملکی شراب فروخت ہوتی ہے اور جسے ولایتی شراب کہا جاتا ہے ، بھارت اور دیگر ممالک سے اسمگل ہوکر آتی ہے۔ اس میں بھی بعض اوقات ایسے مہلک اجزاء کی ملاوٹ ہوتی ہے جن کے پینے سے انسانی صحت پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

غیرملکی ، خاص کر دیسی شراب سے گزشتہ سالوں میں لاتعداد انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ 2014میں کراچی میں کچی شراب پینے والے 29 افراد موت کی نیند سو گئے تھے۔ مارچ 2016 میں ٹنڈو محمد خان میں زہریلی شراب پینے سے ہلاکتوں کا لرزہ خیز واقعہ پیش آیا، جس میں 55 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ کچی اور زہریلی شراب پینے کے باعث سکھر اور بالائی سندھ سمیت سندھ بھر میں اکثر وبیشتر اموات ہوتی رہتی ہیں ، لیکن بیشتر افراد ان واقعات کی تانے میں اطلاع نہیں دیتے۔ جس کے باعث کچی یا زہریلی شراب پینے سے ہو نے والی اموات کے درست اعداد وشمارمنظر عام پر نہیں آتے۔

عمرکوٹ شہر میں جو دو وائن شاپس ہیں ان کے پرمٹ اور لائسنس کے اجراء میں بھی ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ اس شہر میں دو وائن شاپس رجسٹرڈ ہیں، ان کے علاوہ زیادہ شاپس پر مذکورہ دونوں دکانوں کے ایجنٹ حضرات اس کاروبار کو چلا رہے ہیں۔ یہ لوگ حکومتی شرائط پر عمل نہیں کرتے اور اقلیتوں کے لیے مخصوص کوٹے کی شراب مسلمانوںکے ہاتھوں بھاری قیمت پر فروخت کی جاتی ہے۔چند ماہ قبل آئی جی سندھ، ڈاکٹر کلیم امام کی جانب سے سندھ بھر میں منشیات فروشوں بالخصوص کچی شراب کی تیاری اور فروخت میں ملوث عناصر کےخلاف کریک ڈاؤن کے احکامات کے بعد سکھر پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن شروع کردیا۔

اس دوران کچی شراب بنانے والی فیکٹریوں پر چھاپے مارکر 2ملزمان کو گرفتار کرلیا، جن کے قبضے سے 2ہزار 300لیٹر کچی شراب برآمد ہوئی ہے جبکہ متعدد فیکٹریوں میں کچی شراب بنانے میں استعمال ہونے والاسامان بھی ضبط کرلیاتھا۔ شراب اور دیگر منشیات پر پابندی کا اطلاق کرانے میں محکمہ ایکسائزنہ صرف مکمل طور پر غیر فعال دکھائی دیتا ہے بلکہ منشیات فروشوں خاص طور پر کچی شراب کی فیکٹریوں اور فروخت کرنے والوں کو اس محکمے کے بعض افسران کی مبینہ سرپرستی حاصل ،یہی وجہ ہے کہ آج تک منشیات کے اڈوں کے خلاف ایکسائز پولیس کی جانب سے کوئی خاطر خواہ کارروائی سامنے نہیں آئی۔