نیا برس صرف انیس بیس کے فرق کا سفر نہ ہو

سنڈے میگزین
January 19, 2020

فرحی نعیم، کراچی

دُنیا بَھر میں ہرجاتے سال کو الوداع کہنے اور نئے برس کے استقبال کے لیے رنگارنگ اور نت نئے انداز سے تقریبات کا انعقاد ،درحقیقت یہ ظاہر کرتا ہے کہ تقریباً ہر فرد سالِ نو سے کئی اُمیدیں وابستہ کیے ہوتاہےاوراس کے خیالات میں کہیں نا کہیں یہ خوش کُن احساس ضرور بسا ہوتاہے کہ اس برس تومجھے ضرورکام یابیاں حاصل ہوں گی، خوشیاں ملیں گی اور جو کام نہ ہوسکے،وہ بھی مکمل ہوجائیںگے۔

بلاشبہ اُمیدیں باندھنا اور آس کی شمعیں جلانا اپنے اہداف حاصل کرنے کی پہلی سیڑھی ہے کہ جب کچھ اچھا سوچا جاتا ہے، تو ہی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی تگ و دوبھی ممکن ہوتی ہے۔

اگر آپ نئے سال میں کچھ تبدیلی لاناچاہتے ہیں،تو اس کا آغاز اپنی ذات سے کریں،جو صرف لفّاظی نہیں، بلکہ عمل کی صُورت ہو،تاکہ نیا سال صرف انیس بیس کے فرق کا نہیں، بلکہ حقیقی تبدیلی کے آغاز کا سفرثابت ہو۔اس کے لیےاپنی ذات کی پہچان اور خالق نے ہمیں اس زمین پر کس مقصد کے تحت بھیجا، یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اگرچہ یہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اور اس ناممکن کو ممکن تب ہی بنایا جاسکتا ہے، جب ہم نبی کریمﷺ کی سیرتِ طیّبہ کو حرزِ جان بنالیں گے۔

گزشتہ برس کی نسبت اپنے اندر کچھ برداشت، نرمی کامادّہ پیدا کریں، حسنِ ظن اور عُمدہ اخلاق کا مظاہرہ کریں۔ یاد رکھیے، دینِ اسلام کا خلاصہ ’’صداقت و امانت‘‘میں پوشیدہ ہے، تو پھر کیوں نہ ان اوصاف کو اپنانے کی عملی کوشش کی جائے۔اگر ابتدا ہمیشہ چھوٹے اور آسان کام سے کی جائے، تو بہت جلدمشکل اور پیچیدہ کام بھی آسان لگنے لگتے ہیں۔

سالِ نو کے موقعے پر خود سے یہ وعدہ کریںکہ ہم ہر دِن کا آغاز رب کی یاد سے کریں گے اورہر معاملے میں مثبت سوچیں گے، تو یقیناً سالِ نو آپ کے لیے کام یابیوں اور کام رانیوں کا پیام بَر بن جائے گا۔