برطانیہ میں غیرقانونی مہاجرین کے قیام پر آنیوالے بھاری بھرکم اخراجات کو کم کرنے کیلئے ہوٹلوں کا استعمال آہستہ آہستہ ترک کرکے سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو نئے کونسل ہاؤسز میں منتقل کرنے کے منصوبے پر کام شروع کر دیاگیا۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت کی پائلٹ اسکیم میں نئے کونسل ہاؤسز کی تعمیرات و دیگر معاملات میں دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے، تقریباً 200 کے قریب افراد نئی تعمیرات اور تزئین آرائش کیلئے فنڈز فراہم کریں گے۔
برائٹن اینڈ ہوو، ہیکنی، پیٹربورو، تھانیٹ اور پاویس کونسل نے اس اسکیم میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ مذکورہ تجاویز متنازع شکل اختیار کر سکتی ہیں بالخصوص ویٹنگ لسٹ میں موجود لوگوں کا ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
گزشتہ سال انگلینڈ بھر میں 1.3 ملین افراد سوشل ہاؤسنگ ویٹنگ لسٹوں پر تھے 2023 میں 3 فیصد اور 2014 کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، سپلائی اور مانگ میں بہت بڑا فرق پہلے ہی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔
صرف انگلینڈ میں 2025-26 میں گزشتہ سال کی نسبت کونسلز کے گھروں میں آٹھ گنا تک اضافہ ہوگا، سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ہوٹلوں میں تقریباٍ 36 ہزار پناہ گزین موجود ہیں جبکہ 71 ہزار افراد کو نجی کرائے پر رہائش گاہیں لے کر دی گئی ہیں۔