برطانیہ کی اپوزیشن جماعت لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وینزویلا پر امریکا کی جانب سے کیے گئے حملوں اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے مبینہ اغوا سے متعلق بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر موصول ہونے والا کوئی بھی قانونی مشورہ فوری طور پر عوام کے سامنے لائے۔
یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے ایک بار پھر اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا امریکا کی جانب سے وینزویلا میں کی گئی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے منافی تھیں یا نہیں۔
لبرل ڈیموکریٹس کے سربراہ ایڈ ڈیوی نے وینزویلا پر امریکی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکومت کے محتاط اور غیر واضح مؤقف پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی خاموشی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیگر خودمختار ممالک کے خلاف جارحانہ اقدامات کی کھلی اجازت دینے کے مترادف ہے۔
پارٹی کے ترجمان برائے خارجہ امور، کیلم ملر ایم پی نے کہا کہ وینزویلا میں ٹرمپ کی مداخلت بظاہر بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہیں، تاہم برطانوی وزیرِ اعظم اس پر مؤقف اختیار کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ برطانوی عوام کو اس سنگین معاملے پر مکمل اور شفاف معلومات فراہم کرے، لیکن اس کے برعکس ڈاؤننگ اسٹریٹ خاموشی اختیار کر کے امریکی صدر کو سیاسی تحفظ فراہم کر رہی ہے، جو ایک غلط حکمتِ عملی ہے۔
لبرل ڈیموکریٹس نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ آیا صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی قانون توڑا ہے یا نہیں، اور اگر ایسا ہے تو عوام کو اس سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔