برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا میں ایک ایسے محفوظ اور پُرامن انتقالِ اقتدار کا خواہاں ہے جس کے نتیجے میں ایک جائز حکومت قائم ہو جو وینزویلا کے عوام کی حقیقی خواہشات کی عکاس ہو۔
یہ بات اقوامِ متحدہ میں برطانیہ کے قائم مقام سفیر جیمز کاریوکی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں وینزویلا کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ وینزویلا کے عوام کئی برسوں سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور سلامتی کونسل اس وقت وینزویلا کے مستقبل کے ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلے پر اجلاس کر رہی ہے۔
برطانوی سفیر کے مطابق صدر نکولس مادورو کے اقدامات نے ملک میں انتہائی درجے کی غربت، پرتشدد جبر اور بنیادی سہولیات کی تباہی کو جنم دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مادورو حکومت کی پالیسیوں کے باعث ایک سنگین مہاجر بحران پیدا ہوا جس نے پورے خطے کو متاثر کیا۔
جیمز کاریوکی نے واضح کیا کہ برطانیہ طویل عرصے سے اس مؤقف پر قائم ہے کہ مادورو کا اقتدار پر دعویٰ دھوکہ دہی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاحال وینزویلا کا قومی الیکشن کونسل جولائی 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے مکمل نتائج شائع کرنے میں ناکام رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آزاد ملکی اور بین الاقوامی رپورٹس میں بھی انتخابی عمل میں سنگین بے ضابطگیوں اور شفافیت کی شدید کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سلامتی کونسل کے صدر کو مخاطب کرتے ہوئے برطانوی سفیر نے کہا کہ برطانیہ چاہتا ہے کہ وینزویلا میں ایک ایسی حکومت قائم ہو جو عوامی ووٹ کی حقیقی نمائندہ ہو اور جو تمام وینزویلین شہریوں کے لیے ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل فراہم کر سکے۔
اپنے بیان کے اختتام پر جیمز کاریوکی نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں اور بین الاقوامی قانون سے برطانیہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی اصول عالمی امن، سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔