اسلام کی تعلیمات نے انقلابی کردارادا کیا ، علامہ راشد سومرو

یورپ سے
January 22, 2020

میلان ( نمائندہ جنگ ) جمعیت علماءاسلام صوبہ سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ راشد محمودسومرونے کہا ہے کہ اسلام کی آفاقی تعلیمات نے شخصیات کی تعمیر اور کردار سازی میں جو انقلابی کردارادا کیا ہے وہ تاریخ کے ہر دور کاایک نمایاں باب ہے،قابل صداحترام ہیں وہ لوگ جو یورپی معاشرے میں بھی اسلامی احکامات پر مکمل عمل پیراہیں اوران کی عملی زندگی سے اسلام جھلکتا ہے، ملک کیلئے قیمتی زرمبادلہ کاباعث بننے والے اوورسیز پاکستانیوں کی قدر کرنی چاہئے ۔علامہ راشد محمودسومرو یورپین ممالک کے دورے کے موقع اٹلی میلان ،پریشیا، گردانو، ڈیسنزانو، وینس، بلزانو، بڈیزول،ڈیسیو میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس،عظمت قرآن کی تقاریب، اصلاحی مجالس اور جمعیت علماءاسلام یورپ کے تحت پروگرامز سے خطاب کررہے تھے،یورپ میں مقیم پاکستانیوں نے معززمہمان کو خوش آمدید کہا اور ان کا استقبال کیا،علامہ راشد محمودسومروجوجمعیت علماءاسلام پاکستان کے تنظیمی انتخابات کیلئے مرکزی ناظم انتخابات یعنی پارٹی کے چیف الیکشن کمشنربھی ہیں ،نے یورپین ممالک میں بھی جمعیت علماءاسلام کے اوورسیزیونٹس بنانے کا فیصلہ کیا،جمعیت علماءاسلام یورپ کی بنیاد 2016 میں رکھی گئی تھی مگرفعال نہ ہوسکی اس لئے اب باقاعدہ رکنیت سازی اور تنظیم سازی کا فیصلہ کیا گیا، جامع مسجد النور بریشا میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس کے موقع پر محمد ریحان کو جمعیت یورپ کا کنوینر مقرر کیا گیا جو چھ ماہ کے دوران اٹلی میں اور ایک سال کے اندر باقی یورپین ممالک میں کنوینر مقرر کرکے تنظیم سازی کریں گے۔ یورپ بھر کے ہر ملک میں جمعیت کو فعال بنایا جائے گا واضح رہے جمعیت علماءاسلام کے پلیٹ فارم سے یورپ میں یہ پہلی باضابطہ کانفرنس منعقد ہوئی ،جامع مسجد گردانو اٹلی میں ختم قرآن کریم کی تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی جمعیت علماءاسلام صوبہ سندہ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشدمحمودسومرو تھے،مذکورہ جامع مسجد میں 200 سے زائد بچے اور بچیان قران کی تعلیم حاصل کررہے ہیں،اس تقریب میں جمعیت یورپ کے کنوینر محمد ریحان،قاری محمد دائود،امجد خان، اعجاز ، اکرم، صدیق ، وسیم اور دیگر پاکستانیوں نے شرکت کی۔تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے علامہ راشد محمودسومرو نے کہا کہ یورپ میں مقیم ہمارے پاکستانی اسلام اور پاکستان کے سفیر ہیں جنہوں نے اپنی محنت اور عملی کردارنے یورپی معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کرلیاہے اوراسلامی بھائی چارے کی عملی تصویربن کے دیگراقوام ومذاہب کیلئے رول ماڈل بن چکے ہیں۔علامہ راشد محمودسومرو نے مزید کہا کہ اسلام نے کسبِ حلال کو اہم ترین فریضہ قرار دیا ہے اور تجارت، زراعت، صنعت اور ملازمت کے ذریعہ اپنی روزی خودکمانے کی تاکید کی ہے،اسلامی معاشی پالیسی کا یہ بنیادی اصول بیان کیا گیا ہے کہ دولت کی گردش پورے معاشرے میں عام ہونی چاہیے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مال صرف مال داروں میں ہی گھومتا رہے، مال دار کا مال دن بدن بڑھتا رہے اور غریب روز بروز کنگال ہوتا جائے،معاش کے سلسلے میں جو چیز سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے وہ سرمایہ کی گردش ہے،سرمایہ کی گردش اگر اس طرح ہو کہ وہ ہر طبقہ کے لوگوں تک پہنچتا رہے تو سب لوگ خوش حال ہوں گے اور اگر وہ صرف چند لوگوں کے درمیان گھومے تو خوش حالی بھی چند لوگوں کے حصے میں آئے گی اور بقیہ لوگ بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے،سرمایہ کی گردش معاشرہ کے جتنے زیادہ افراد کے درمیان ہوگی، اتنی ہی زیادہ اس کی قیمت بڑھتی چلی جائے گی،اسلام نے ایسا معاشی نظام برپا کیا کہ دولت پر بااثر لوگوں کی اجارہ داری قائم نہ رہے اور دولت کا بہائو امیروں کے ساتھ ساتھ غریبوں کی طرف بھی رہے، اسلام نے خدا جانے کتنے لوگوں کی زندگی کی کایا پلٹ دی اور نہ جانے کتنے دلوں میں ہلچل مچادی، اسلام کی پوری تاریخ عبقری شخصیات سے پُر ہے، علم و اخلاق، فکر وفلسفہ اور سیاست و حکومت کے ہر میدان میں ایسی بے شمار عالمی شخصیات پیداہوئیں جن کی نظیر کسی اور مذہب میں مل ہی نہیں سکتی۔ حضرات صحابہ کے بعد تابعین اور بعد کے ادوار میں عالم اسلام کے اندر کتنے عباقرہ ، اکابر علماء و زعماء، محدثین و مفسرین اور مشہور عالم شخصیات پیدا ہوئیں یہ اسلام کی انہی انقلابی تعلیمات کی پیداوار تھیں۔انہوں نے کہا کہ قرآن کریم آج بھی سرچشمہ اور ساری مشکلات کا حل ہے جس طرح قرآن نے صدیوں پہلے حد سے زیادہ گری ہوئی قوم کو بلندیوں کے آسمان پر پہنچادیا تھا اور اسی کتابِ ہدایت کی بدولت ایک انتہائی خراب معاشرہ دنیا کے سب سے ترقی یافتہ اور مہذب معاشرہ میں تبدیل ہوگیا،یہ سب اسی کتابِ مقدس کا اعجاز تھا اس کی معجزانہ قوتیں آج بھی زندہ ہیں، ان کو برتنے اور استعمال میں لانے کی ضرورت ہے، مردہ دلوں کو زندہ کرنے اور روح کی بیماریوں کا علاج کروانے کے لیے اہل اللہ سے رجوع ہونے اور اللہ کے نیک بندوں کی صحبت سے فائدہ اٹھانے کی تلقین بھی ضروری ہے۔