کورونا کا خطرہ، قیدیوں کی رہائی زیر غور ہے، رابرٹ بکلینڈ

March 26, 2020

راچڈیل (نمائندہ جنگ) کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے دبائو کو کم کرنے اور وبا کے پھیلائو کو روکنے کیلئے انگلینڈ اور ویلز سمیت دیگر جیلوں میں معمولی جرائم میں بند قیدیوں کی رہائی کیلئے تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے، سیکرٹری قانون رابرٹ بکلینڈ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے جیلوں میں بند قیدیوں کو صحت کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ جیلوں میں قیدیوں کی بڑی تعداد اس وائرس کے پھیلائو کا سبب بن سکتی ہے، وبا پھوٹنے پر جیلوں کے عملے میں نمایاں کمی کی گئی تاہم قیدیوں میں بھی کمی کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ عارضی طور پر رہائی پانے والوں کیلئے شرائط طے کی جائیں گی۔ انہیں مختصر عرصہ کیلئے جیل سے نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 50 کے قریب حاملہ خواتین قیدیوں کی رہائی پر سنجیدگی کیساتھ غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ9ہزار قیدیوں میں سے ریمانڈ پر یا مقدمات کی سماعت کے منتظر افراد کو ضمانت پر ہاسٹلز منتقل کیا جا سکتا ہے جہاں ان کی نگرانی کی جائے گی۔ قیدیوں کی رہائی پروبیشن عملے کیلئے ایک بڑا چیلنج ہوگا مگر موجودہ حالات میں ایسا اقدام انتہائی ضروری ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل یوکے حکومتی امور کے سربراہ ایلن ہوگرٹ نے کہا ہے کہ بزرگ قیدیوں کو طبی بنیادوں پر فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات کے تحت جیلوں کے تمام سرکاری دورے منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔ وزارت انصاف کے مطابق جیلوں میں قیدیوں کو فونز کی فراہم یقینی بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کے حالات سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں کورونا وائرس کے باعث اب تک کنفرم کیسوں کی تعداد 8ہزار77 سے تجاوز کر چکی ہے جیلوں میں ہینڈ سینی ٹائیزر لانے پر عائد پابندی کو عارضی طو رپر اٹھاتے ہوئے قیدیوں کیلئے حفاظتی ماسک بھی پہنچا دیئے گئے ہیں۔