تبدیلیوں کا موسم

May 22, 2020

ملکی سیاسی منظر نامے میں کئی تبدیلیاں آنیوالے چند ہفتوں یا مہینوں میں ہو سکتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کی کچھ وجوہات بھی ہیں، یہ تبدیلیاں وفاق اور پنجاب کے علاوہ سندھ میں بھی ہو سکتی ہیں لیکن جہاں تک سندھ میں گورنر راج کا تعلق ہے۔

ذرائع کے مطابق اگرچہ سندھ سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف اور جی ڈی اے کے ارکانِ صوبائی اسمبلی نے اس کا مطالبہ کیا ہے لیکن یہ صرف ایک سیاسی مطالبہ ہی ہے، وفاق میں تاحال ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ آئینی ماہرین نے بھی صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے لئے جو طریقہ کار بتایا ہے وہ وفاقی حکومت کے لئے ممکن ہی نہیں۔

تحریک انصاف اور اتحادی گروپ جی ڈی اے کے اراکینِ سندھ اسمبلی کا گورنر راج کے نفاذ کا مطالبہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے اس بیان کا ردِعمل ہو سکتا ہے جس میں انہوں نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔

بظاہر نہ تو بلاول بھٹو کے بیان پر وزیراعظم نے استعفیٰ دینا ہے نہ ہی تحریک انصاف اور جی ڈی اے کے مطالبہ پر سندھ میں گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔البتہ دونوں طرف سے یہ خواہشات ایک عرصے سے ضرور موجود ہیں۔

سندھ حکومت میں آنیوالے چند ہفتوں میں تبدیلیاں وہاں کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی بعض اندرونی وجوہات کی بنا پر ہو سکتی ہیں۔ پنجاب میں عیدالفطر کے بعد بعض وزرا کو سبکدوش کیا جا سکتا ہے اور بعض کے قلمدان تبدیل ہو سکتے ہیں جس کے لئے وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدارکو گرین سگنل دے دیا ہے۔

اگرچہ عثمان بزدار کیلئے چینی اور آٹا کے معاملہ پر آنیوالے دنوں میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف اور اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے درمیان خلیج مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس کی بنیاد تو بظاہر چوہدری برادران کے خلاف نیب کی طرف سے بیس سال پرانا کیس دوبارہ چھیڑنا ہے جس کے خلاف چوہدری برادران نے لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔

اس کے علاوہ چینی اسکینڈل میں مونس الٰہی کے لئے بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ (ق) کا یہ شکوہ تو بڑے عرصے سے ہے کہ ان کے ساتھ دو وزارتوں کا جو وعدہ کیا گیا تھا وہ وفا نہیں ہوا اور انہیںایک ہی وزارت دی گئی ہے۔

دراصل دوسری وزارت دینے میں شاید وزیراعظم عمران خان کے لئے مشکل وہ نام ہے جو مسلم لیگ (ق) کی طرف سے دیا گیا تھا لیکن پھر بھی مسلم لیگ (ق) تحریک انصاف کے ساتھ چلتی رہی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیب کی طرف چوہدری برادران کے خلاف پرانے کیس کو کھولنا ان کا ردِعمل دیکھنے کے لئے ہے۔

دوسری طرف چوہدری برادران بھی کچے کھلاڑی نہیں ہیں، انھوں نے اپنا ردِعمل بھی ظاہر کر دیا ہے اور آنیوالے حالات کی پیش بندی بھی۔ چوہدری برادران نے نہ صرف جہانگیر ترین سے ملاقات کی بلکہ مسلم لیگ(ن) کے ساتھ بھی روابط بڑھا دیے ہیں اور ہر تینوں فریقوں نے ملاقاتوں اور بات چیت کو اطمینان بخش قرار دیا ہے۔ اس تمام صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آنیوالے چند ہفتوں کے دوران پنجاب میں حکومت اور سیاست میں واضح تبدیلیاں نظر آسکتی ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے بعد مسلم لیگ (ن) بڑی جماعت ہے۔

اس کے علاوہ تحریک انصاف کے اراکین صوبائی اسمبلی میں جہانگیر ترین کا ایک بڑا حمایتی گروپ بھی موجود ہے۔ ادھر مسلم لیگ (ق) کی پوزیشن بھی پارسنگ کی مانند ہے جس پلڑے میں اس کا وزن ہوگا وہ بھاری ہوگا۔ مسلم لیگ (ق) کے وفاقی وزیر نے گزشتہ دنوں نیب کے معاملہ پر وزیراعظم عمران خان سے خصوصی ملاقات کی تھی اور ان کے بقول وزیراعظم نے چوبیس گھنٹوں میں ان کو جواب دینے کا بھی کہا تھا لیکن معاملہ ابھی تک جوں کا توں ہے۔

اسلام آباد میں بھی معاملات تبدیلیوں کا اشارہ دے رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں الزام تراشیوں کا سلسلہ دونوں طرف سے جاری رہا لیکن نہ تو کورونا کے مسئلہ کی کوئی تدبیر کسی طرف سے سامنے آئی نہ ہی احساس پروگرام کے 70ارب روپے پر کسی نے بات کی کہ یہ خطیر رقم کیسے اور کہاں تقسیم ہوئی۔

اگرچہ مختلف حلقوں کی جانب سے اس بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے لیکن قوم کے منتخب نمائندوں سے اس اہم قومی مسئلہ پر کوئی بات نہیں کی گئی۔ اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر تو ابھی بات ہی نہیں ہو رہی، لگتا ہے کہ حکومت نے ان معاملات کو صرف بیانات اور ٹی وی ٹاک شوز تک رکھا ہوا ہے۔ نیب قوانین میں تبدیلیوں پر بھی کوئی ٹھوس پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت سنجیدہ نہیں اور اپوزیشن کی بھی کوئی دلچسپی نہیں۔

حکومت نے نہ تو ابھی تک اپوزیشن کی طرف سے مفاہمت اور نہ ہی میڈیا کے ساتھ تعلقات کی بہتری کیلئے ہاتھ بڑھایا ہے اور نہ ہی ماحول کو سازگار بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایسے حالات میں صرف پکڑ دھکڑ اور گرفتاریوں میں ہی اضافہ ہو سکتا ہے۔

جن سے ملکی اور قومی معاملات میں صرف خرابی ہی ہو سکتی ہے بہتری نہیں۔ چینی اسکینڈل میں ملوث کسی ایک فرد کو بھی رعایت نہ دینے کا امکان ہے اوریہ بھی امکان ہے کہ پاناما کی طرح ایف آئی اے کی انکوائری اور فرانزک رپورٹ کو مزید کارروائی کے لئے نیب کے سپرد کر دیا جائے۔

اگر ایسا کیا گیا تو حکومت کے لئے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔