سندھ کے خلاف یہ رویہ کیوں؟

May 22, 2020

مرکزی رہنمائوں اور کچھ دیگر حلقوں کی طرف سے موجودہ صورتحال میں سندھ کے ساتھ اختیار کئے گئے رویے کا جائزہ لینے کے بعد سندھ کے عوامی حلقوں میں سوالات کئے جا رہے ہیں کہ آخر ہمارے مرکزی رہنمائوں کی طرف سے ٹارگٹ کورونا وائرس کے بجائے سندھ کو کیوں بنایا جا رہا ہے۔

سندھ کے عوامی حلقے یہ پوچھنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا یہ رویہ اس وجہ سے تو اختیار نہیں کیا جا رہا کہ پاکستان کی قرارداد سب سے پہلے سندھ اسمبلی نے منظور کی تھی۔

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سندھ کے بعد مشرقی پاکستان اسمبلی نے قراردادِ پاکستان کے حق میں ووٹ دیا مگر اس کے ساتھ کیا ہوا، وہ بنگلا دیش کے نام سے ایک نئے آزاد ملک کے طور پر وجود میں آیا۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ 1940ء کی قرارداد میں یہ صاف طور پر کہا گیا تھا کہ اس قرارداد کی روشنی میں جو ملک وجود میں آئے گا اس کی ریاستیں خودمختار ہوں گی۔

انڈیا اینڈ پاکستان انڈیپنڈنٹس ایکٹ جس کے تحت پاکستان اور ہندوستان آزاد مملکتوں کے طور پر وجود میں آئے، کے تحت ہندوستان اور پاکستان کی وجود میں آنے والی حکومتوں کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ دونوں مملکتیں مقررہ مدت کے اندر آئین ساز اسمبلی کے انتخابات کرا کر ان اسمبلیوں سے ’’جمہوری اور وفاقی آئین‘‘ کا نظام قائم کریں گی۔

ہندوستان کی حکومت نے تو آزادی کے بعد ایسا کیا مگر کیا پاکستان میں ایسا ہوا؟ بدقسمتی سے قائداعظم محمد علی جناح کو ایسی بیماری لاحق ہوئی کہ وہ جتنا عرصہ زندہ رہے ملک کے معاملات میں سرگرمی سے حصہ نہیں لے سکے۔

اس صورتحال میں بھی انہوں نے ایک کام ضرور کیا، اس وقت جنرل ایوب خان مشرقی پاکستان کی فوج کے سربراہ تھے مگر قائداعظم کو شاید ایوب خان کے بارے میں کچھ ایسی معلومات حاصل ہوئیں کہ انہوں نے جنرل ایوب کو وہاں سے ہٹاکر مغربی حصے میں ایک جونیئر پوزیشن میں مقرر کر دیا۔

قائداعظم کے انتقال کے بعد جنرل ایوب کو پاکستان کی فوج کا سربراہ مقرر کر دیا گیا، پھر کیا کیا تماشے نہیں ہوئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قائداعظم کے انتقال کے بعد مشرقی پاکستان کے سینئر سیاستدان خواجہ ناظم الدین کو 1948ء میں پاکستان کا نیا گورنر جنرل بنایا گیا مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ خواجہ ناظم الدین کو مشکل سے تین سال کے لئے برداشت کیا گیا۔

بعد میں 1951ء میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک بیورو کریٹ غلام محمد جو فالج کے مریض تھے، کو پاکستان کا نیا گورنر جنرل بنایا گیا اور خواجہ ناظم الدین کو پاکستان کا وزیراعظم بنا دیا گیا مگر یہ سوال حل طلب ہے کہ یہ سب کچھ کس آئین اور قانون کے تحت کیا گیا؟

بات فقط یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ پاکستان کے مغربی حصے کے سارے صوبوں پر ’’ون یونٹ‘‘ مسلط کرکے سارے چھوٹے صوبوں کا وجود ختم کرکے بڑے صوبے میں ضم کر دیا گیا، بعد میں پتا چلا کہ اس گیم کا اصل مقصد کچھ اور تھا۔

وہ یہ کہ چونکہ مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی حصے کے سارے صوبوں کی آبادی سے زیادہ تھی لہٰذا اس نظام کے تحت ملک میں انتخابات مغربی حصے کے بڑے علاقے اور اس کی سیاسی و غیر سیاسی قیادت کو قبول نہیں تھے سو یہ طے کیا گیا کہ پہلے ایک آرڈر جاری کرکے مشرقی اور مغربی پاکستان کی آبادی کو Parity کے نام سے یکساں بنایا جائے۔

دریں اثنا گورنر جنرل غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کو برطرف کرکے اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو پاکستان کا نیا وزیراعظم بنا دیا، اس طرح اب پاکستان کی سول اور نان سول بیورو کریسی ملک چلانے لگی۔

پاکستان کے ساتھ یہ کھیل کھیلا گیا، مشرقی پاکستان کو تو الگ ہونے پر مجبور کیا گیا جبکہ دوسری طرف مغربی حصے میں تین چھوٹے صوبوں کو ’’ون یونٹ‘‘ کے بندھن میں باندھ دیا گیا، سندھ کے اندر آج کل یہ بھی تحریک چل رہی ہے کہ ون یونٹ کے دوران سندھ، بلوچستان اور کے پی کے وسائل کی جو لوٹ کھسوٹ کی گئی اس کا حساب کتاب لیا جائے۔

اس صورتحال میں 1973ء کا آئین کسی حد تک وفاقی تھا مگر وہ بھی حقیقی وفاق نہیں کہلا سکتا، بعد میں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد چھوٹے صوبوں کو کسی حد تک اطمینان ہوا کہ یہ آئینی ڈھانچہ کافی حد تک اس وفاقی ڈھانچہ کے قریب ہے جس کا وعدہ قراردادِلاہور میں کیا گیا تھا مگر اب سب سے زیادہ دشنام طرازی 18ویں آئینی ترمیم پر کی جا رہی ہے۔

سندھ کے اکثر سیاسی حلقوں کی رائے ہے کہ آئین کو اب بھی حقیقی وفاقی بنانے کی ضرورت ہے جس میں سارے صوبوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایک ایسے مرحلے پر جب ساری دنیا پر کورونا وائرس کی وبا نے حملہ کیا ہوا ہے ہماری مرکزی حکومت کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے بجائے 18ویں ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن جیسے آئینی فیصلوں کو ’’اپنی پسند‘‘ کے مطابق تبدیل کرنے کے لئے میدان میں نکل آئی ہے۔

پہلے تو کچھ وفاقی وزرا، وزیراعظم کے مشیر، پی ٹی آئی کراچی سے منتخب دو ایم این ایز کو آگے کیا گیا کہ حکومت سندھ اور سندھ کو ٹارگٹ کریں، ساتھ ہی وزیراعظم کے مشیر شہباز گل کو بھی یہ ذمہ داری دیدی گئی، اب یہی ذمہ داری پنجاب کے ایک دو مشیروں اور سندھ کے گورنر کو بھی دی گئی ہے، جبکہ کے پی کے ایک وزیر کو بھی اس کام پر لگایا گیا ہے۔

کراچی سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے خرم شیر زمان بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ جو حلقے یہ سب کچھ کر رہے ہیں ان کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ اس ساری الزام تراشی پر سندھ کے عوام کا کیا ردعمل ہوسکتا ہے۔