برازیل میں کورونا ٹیسٹنگ کا تیز اور قابل بھروسہ طریقہ ایجاد

May 23, 2020

کراچی (نیوز ڈیسک) برازیل میں محققین نے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کیلئے ایک ایسی کٹ تیار کرلی ہے جس میں نتائج انتہائی حد تک درست آتے ہیں اور ان میں کسی بھی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ نیا طریقہ دنیا میں موجود باقی دیگر طریقوں کے مقابلے میں زیادہ قابل بھروسہ اور درست نتائج فراہم کرتا ہے اور یہ کٹس جون سے دنیا بھر میں ٹیسٹنگ کیلئے دستیاب ہوں گی۔ رپورٹ کے مطابق، اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے بیک وقت کئی لوگوں کا ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے اور نتائج بھی شاندار ہیں۔ دارالحکومت سائو پائولو کے البرٹ آئن اسٹائن اسپتال کے ماہرین کے مطابق، نیکسٹ جنریشن سیکوئنسنگ (این جی ایس) کا طریقہ استعمال کیا گیا جو ڈی این اے کے چھوٹے حصوں کا جائزہ لے کر کسی مخصوص بیماری کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے اس طریقے کو استعمال کرکے رائبو نیوکلیک ایسڈ (آر این اے) تلاش کرنے کی کوشش کی جو SARS-CoV-2 جیسے وائرسوں میں غالب مالیکیول سمجھا جاتا ہے۔ اسپتال کے ڈائریکٹر انوویشن اینڈ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کلاڈیو ٹیرا نے بتایا ہے کہ وائرس کا آر این اے ہے اور ہمارے محققین کو اس بات میں دلچسپی تھی کہ کس طرح ایک مالیکیولر ٹیسٹ کو اس وبا کے حوالے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ این جی ایس ٹیسٹ دنیا میں دستیاب ٹیسٹنگ کے دیگر ذرائع جیسا ہی ہے لیکن اس کی خاصیت یہ ہے کہ بیک وقت اس کے ذریعے 1500؍ ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں جس سے تشخیص کی رفتار میں 16؍ گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ موجودہ دستیاب ٹیسٹس کو سیرولوجیکل ٹیسٹ کہا جاتا ہے جس میں وہ اینٹی باڈیز تلاش کی جاتی ہیں جو انسانی قوت مدافعت اس وائرس سے لڑنے کیلئے خارج کرتی ہے۔ تاہم، ابتدائی انفکشن 14؍ دن بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ مریض متاثرہ ہے یا نہیں جس سے 30؍ فیصد تک امکان بڑھ جاتا ہے کہ آیا کوئی مریض واقعی متاثر ہوا بھی ہے یا نہیں۔