• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت شرح نمو بڑھا چڑھا کر پاکستان گھٹا کر دنیا کے سامنے پیش کرنے لگا

اسلام آباد (مہتاب حیدر)ایک ایسے وقت میں جب بھارت اپنے جی ڈی پی (مجموعی قومی پیداوار) کی شرحِ نمو کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں ملوث ہے، پاکستان میں مختلف وجوہات کی بنا پر جی ڈی پی کی شرحِ نمو کو کم ظاہر کیا جا رہا ہے۔مثال کے طور پر، یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) اپنی جی ڈی پی کی شرحِ نمو کے حساب میں قیمتی دھاتوں، جن میں سونا، چاندی اور دیگر نایاب زمینی معدنیات شامل ہیں، کو مکمل طور پر شامل نہیں کر رہامتعلقہ حکام اس سوال کا جواب دینے سے قاصر نظرآتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کوئی معلومات موجود نہیں ہیں۔ جی ڈی پی کی شرحِ نمو کے تعین کے لیے معدنیات کے کچھ اجزا کو حساب میں شامل کیا جاتا ہے، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ معدنیات کے بعض اہم اجزا، جیسے سونا، چاندی اور کچھ دیگر دھاتیں، پاکستان میں جی ڈی پی کے تخمینے کے طریقۂ کار کا حصہ نہیں ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ قومی اکاؤنٹس کمیٹی آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی عبوری شرحِ نمو کا تعین دسمبر 2025 کے اختتام تک کرنے جا رہی ہے۔ان معدنیات کی فہرست جنہیں جی ڈی پی کی شرحِ نمو کے حساب میں شامل کیا جاتا ہے، ان میں قدرتی گیس، خام تیل، کوئلہ، لوہے کی کان، تانبا، باکسائٹ، کرومائیٹ، میگنیشائٹ، بینٹونائٹ، کیلکائٹ، ریڈ آکسائیڈ، اینٹی مونی کی کان، سلیٹ پتھر، صابن پتھر، ٹرونا، ایبری اسٹون، گرینائٹ، چونا پتھر، جپسم، ڈولومائٹ، چاک، فلورائٹ، سلیکا سینڈ، زرعی مٹی، شیل کلے، لیٹریائٹ، چائنا کلے، اوکر، فلرز ارتھ، بال کلے، فاسفیٹ، سلفر، بیریٹس، راک سالٹ، سمندری/جھیل کا نمک، فیلڈ اسپر، کوارٹز، سرپینٹائن، دیگر معدنیات (کل)، پتھر توڑنے کا عمل، سطحی معدنیات، متعلقہ خدمات اور تلاش و کھوج کی خدمات شامل ہیں۔

اہم خبریں سے مزید