پالپا نے جہاز حادثے کی شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے،عمران ناریجو

May 23, 2020

’پالپا نے جہاز حادثے کی شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے‘

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری پالپا کیپٹن عمران ناریجو نے کہا ہے کہ پالپا نے جہاز حادثے کی شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے،نمائندہ جیو نیوز طارق ابوالحسن نے کہا کہ ذمہ دار ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی کا اس معاملہ پر ابھی تک کوئی موقف نہیں آیا ہے،صدر سوسائٹی آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیٹرز پاکستان نسیم احمد نے کہا کہ پاکستان میں طیاروں کے بڑے حادثات سیفٹی پر سمجھوتہ کرنے کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ جنرل سیکرٹری پالپا کیپٹن عمران ناریجو نے کہا کہ جہاز کے انجن کس وجہ سے فیل ہوئے اس کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی ہے، پالپا نے جہاز حادثے کی شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے، پالپا جہازوں اور مسافروں کی سیفٹی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتی ہے، عموماً سیفٹی ایشوز کی وجہ سے ہی ایسے حادثات ہوتے ہیں، حکومت پالپا کو بھی طیارہ حادثے کی تحقیقات کا حصہ بنائے،دنیا بھر میں پائلٹس طیاروں کے حادثوں پر انکوائری کا حصہ ہوتے ہیں،طیارے میں ایک ایمرجنسی آسکتی ہے لیکن کراچی حادثے میں دو ایمرجنسیاں ایک ساتھ ہونا اور دونوں انجنوں کا ایک ساتھ فیل ہوجانا تشویشناک ہے، شہید پائلٹ نے طیارے کو باحفاظت زمین پر اتارنے کی پوری کوشش کی۔نمائندہ جیو نیوز طارق ابوالحسن نے کہا کہ طیارے کا جائے حادثہ سے رن وے کا فاصلہ پانچ سیکنڈ کا رہ گیا تھا، اگر عمارتیں نہیں ہوتیں اور جہاز کو گلائیڈکرنے کا مکمل موقع ملتا تو جہاز رن وے تک پہنچ سکتا تھا، طیارہ 256فٹ کی بلندی پر پرواز کرتا ہوا کنٹرول ٹاور کے سامنے سے گزراتھا، پائلٹ کو تین ہزار فٹ کی بلندی پر جانے کیلئے کہا گیا تھا تاکہ رسپانس ٹائم زیادہ ہو، پائلٹ کی آخری گفتگو سے پتا لگتا ہے کہ طیارہ اٹھارہ ہزار فٹ بلندی تک ہی پہنچ سکا اسی دوران انجن میں آگ لگ گئی، اندازہ ہے کہ انجن میں کسی پرندے کے گھسنے کی وجہ سے آگ لگی، ایوی ایشن ماہرین کے نزدیک جہاز میں مختلف ایشوز ایک ساتھ ہونا حیرت انگیز ہے۔ طارق ابوالحسن کا کہنا تھا کہ ذمہ دار ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی کا اس معاملہ پر ابھی تک کوئی موقف نہیں آیا ہے، سول ایوی ایشن اتھارٹی میں پچھلے ایک سال سے کوئی ڈی جی نہیں ہے ،ادارے کوایڈہاک بنیادوں پر چلایا جارہا ہے، ایئرپورٹ کے اردگرد اونچی عمارتوں کی تعمیر سے پہلے سول ایوی ایشن اتھارٹی سے این او سی لینی ہوتی ہے، پاکستان میں آج تک کسی طیارہ حادثے کی آزاد تحقیقات نہیں کی گئی ہے، حادثے میں زندگی ہار جانے والے پائلٹ پر ہی ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے، ماضی کے تجربات دیکھیں تو کراچی طیارہ حادثے کی شفاف تحقیقات کی بھی توقع نہیں کی جاسکتی ،2016ء کے حویلیاں حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرادی گئی ہے لیکن جاری نہیں کی جارہی ، اطلاعات ہیں کہ رپورٹ میں انجینئرنگ اور مینوفیکچرز پر بات کی گئی ہے اس لئے شاید رپورٹ میں تبدیلی کا ارادہ ہے، لوگوں کو معاوضوں کی جلد از جلد ادائیگی پی آئی اے کے سی ای او کا امتحان ہے، اس وقت پی آئی اے لازمی سروسز ایکٹ کے تحت کام کررہی ہے،پی آئی اے کے ملازمین کا احتجاج کرنے کا حق سلب کرلیا گیا ہے۔ نمائندہ جیو نیوز کاشف مشتاق نے ماڈل کالونی سے بتایا کہ جہاز گرنے سے دس پندرہ گھروں کی چھتیں متاثر ہوئی ہیں، جس گھر پر جہاز گرا ہے وہ زیادہ متاثر ہوا ہے وہاں سے ملبہ اٹھایا جارہا ہے، کم جگہ کی وجہ سے ملبہ اٹھانے کیلئے ہیوی مشینری کا استعمال شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔ صدر سوسائٹی آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیٹرز پاکستان نسیم احمد نے کہا کہ پاکستان میں طیاروں کے بڑے حادثات سیفٹی پر سمجھوتہ کرنے کی وجہ سے ہوئے ہیں، سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ کوآزاد ادارہ بنانے کے بعد اس کی کارکردگی صفر ہوگئی ہے، طیاروں کے حادثات روکنے کیلئے امریکن طرز پر ایک سیفٹی کا ادارہ بنانا پڑے گا، ایوی ایشن سے متعلق این جی اوز اور تنظیموں کو کام کرنے دیا جائے، سول ایوی ایشن میرٹ پر ڈی جی مقرر کرنے میں ناکام رہا ہے، پی آئی اے کے سربراہ کو نہیں پتا آزادانہ انکوائری کیا ہوتی ہے، خودمختار ادارے کا مطلب ہے کہ انہیں اپنے کام کیلئے کسی سے اجازت نہ لینا پڑے اور ان کی تنخواہ کسی سرکاری ادارے سے نہیں آئی، دنیا میں پچھلے پندرہ سال میں سب سے زیادہ حادثات پی آئی اے کے جہازوں کے ہوئے ہیں، پاکستان ستر سال میں اسٹیٹ سیفٹی پروگرام نہیں بناسکا ہے۔میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمعے کو کراچی میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، پی آئی اے کا مسافر طیارہ لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے آبادی پر گر گیا جس کی وجہ سے کئی گھر اور گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں، ابھی تک 65افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔