• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ایونٹس میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی پر ایک نظر


آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں صرف تین ٹیمیں ہی چار مرتبہ ٹاپ فور تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں اور ان میں سے پاکستان ان میں سے ایک ہے۔ دیگر دو ٹیموں میں سری لنکا اور ویسٹ انڈیز ہیں۔

سال 2007 سے 2016 کے درمیان ہونیوالے 6 ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ایڈیشنز کے ابتدائی چار ایڈیشنز میں پاکستان نے دو فائنل کھیلے، جس میں سے ایک جیتا اور ایک میں رنر اپ رہا، جبکہ دو مرتبہ سیمی فائنل بھی کھیلے۔ تاہم آخری دو ایڈیشنز میں پاکستان کی کارکردگی متاثر کن نہیں رہی۔

ٹی ٹوئنٹی کا پہلا ورلڈکپ 2007 میں جنوبی افریقا میں کھیلا گیا جس میں پاکستان نے گروپ اسٹیج اور پھر سپر ایٹ اسٹیج میں شاندار کارکردگی دکھائی۔ ان دونوں مراحل میں اس کو صرف ایک میچ میں شکست ہوئی جو بھارت کیخلاف تھا، جسے بھارت نے ٹائی ہونے کے بعد ٹائی بریکر پر باول آؤٹ مقابلے میں جیتا۔

اس ایونٹ کے سیمی فائنل میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 6 وکٹ سے شکست دی اور پھر فائنل میں ایک بار پھر بھارت سے سامنا ہوا۔

اس میں مصباح کا آخری اوور میں اسکوپ شاٹ اور پاکستان ٹائٹل سے پانچ رنز کی دوری پر ہمت ہار گیا۔

دو سال بعد انگلینڈ میں ہونیوالے دوسرے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان نے پہلے گروپ اسٹیج میں شاندار کارکردگی دکھائی، پھر سپر ایٹ کا مرحلہ بھی پار کیا۔

سیمی فائنل میں شاہد آفریدی کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان نے جنوبی افریقا کو شکست دی اور فائنل میں پہنچا اور ورلڈ چیمپئن بن گیا۔

اس کے بعد 2010 کا ورلڈکپ ویسٹ انڈیز میں ہوا، پاکستان اس ٹورنامنٹ میں اعزاز کے دفاع کے لیے میدان میں اترا، پہلے راؤنڈ میں بنگلا دیش کو شکست دے کر سپر ایٹ میں جگہ بنائی۔ پھر سپر ایٹ میں اس نے صرف ایک میچ جنوبی افریقا سے جیتا اور بہتر رین اوسط کی بنیاد پر سیمی فائنل میں آگیا۔

سیمی فائنل میں پاکستان کا سامنا آسٹریلیا سے تھا، بیٹرز نے شاندار کارکردگی دکھائی اور آسٹریلینز کو جیت کے لیے 192 رنز کا ہدف دیا۔

ایک موقع پر یوں لگ رہا تھا کہ پاکستان یہ میچ جیت جائے گا مگر مائیکل ہسی نے بازی پلٹ دی اور پاکستان سیمی فائنل ہار گیا۔

اس کے بعد 2012 میں ہوئے چوتھے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے پاکستان ٹیم سری لنکا پہنچی، گروپ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کو ہرایا، سپر ایٹ میں پاکستان نے جنوبی افریقا اور آسٹریلیا کو شکست دی۔

سیمی فائنل میں اس کا مقابلہ سری لنکا سے تھا، پاکستانی ٹیم 140 کے تعاقب میں صرف 123 رنز ہی بناسکی اور ٹورنامنٹ سے آؤٹ ہوگئی۔

بنگلا دیش میں ہونیوالے 2014 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی، گروپ میں چار میں سے وہ صرف دو میچز ہی جیت پائی۔ ویسٹ انڈیز کیخلاف آخری گروپ میچ میں پاکستان ٹیم 166 کے جواب میں صرف 82 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔ اس ایونٹ میں پاکستان اگلے راونڈ تک نہ آسکا۔

سال 2016 میں بھارت میں ہونیوالا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ پاکستان کے لیے کارکردگی کے حساب سے بدترین ثابت ہوا۔

اپنے گروپ میں پاکستان ٹیم چار میں سے صرف ایک گیم جیت سکی، وہ بھی بنگلادیش جیسی کمزور حریف کے کیخلاف جبکہ دیگر میچز میں اسے بھارت، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا نے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان ٹیم نے مجموعی طور پر 34 میچز کھیلے، 19 میں اسکو کامیابی ملی جبکہ 15 میں پاکستان ناکام رہا۔

شاہد آفریدی اور شعیب ملک 546، 546 رنز بناکر پاکستان کے کامیاب ترین بیٹرز ہیں جبکہ 39 وکٹوں کے ساتھ شاہد آفریدی نہ صرف پاکستان بلکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھی مجموعی طور پر کامیاب ترین بولر ہیں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید