• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ مجھے شرعی تحقیق درکار ہےکہ اگر جبراً بالغ لڑکے یا لڑکی کانکاح کردیا جائے تو نکاح ہوجاتا ہے یا نہیں ؟

جواب: بلوغت کے حصول کے بعد لڑکے اور لڑکی پر ولی کی ولایت انتہاپذیر ہوجاتی ہے، اس لیے ولی کو جبر کے ذریعے بالغ لڑکے یا لڑکی کو کسی خاص رشتے پر مجبور کرنا درست نہیں ،دوسری طرف لڑکے اور لڑکی کو بھی چاہیے کہ وہ خود سے کوئی رشتہ منتخب کرنے کے بجائے اولیاء کے انتخاب کردہ رشتے کو ترجیح دیں، کیوں کہ ان کی محبت وشفقت اور تجربہ ومشاہدہ سے امید یہی ہے کہ انہوں نے اولاد کے مفادات کا پورا لحاظ اور رعایت رکھی ہوگی۔ اس کے باوجود اگر لڑکا یا لڑکی کسی رشتے پردل سے رضامندنہ ہو ،مگر والدین کی ناراضی یا دھمکی یا جبر سے مجبور ہوکر اس نے نکاح کے وقت ہاں کہہ دی تو نکاح منعقد ہوجائے گا، کیوں کہ نکاح کے انعقاد کا تعلق نکاح کے وقت رضامندی کے اظہار سے ہے۔

اس سلسلے میں بنیاد یہ حدیث ہے کہ : "ثلاث جدهنّ جدّ و هزلهنّ جدّ" امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو’’حسن غریب‘‘ کہا ہے اور تمام اہلِ علم کا اس کےموافق عمل ذکر کیا ہے۔ اس حدیث کی روسے گواہوں کی موجودگی میں مذاق کے طور پر بھی ایجاب وقبول کے الفاظ صحت نکاح کے لیے کافی ہیں تو اِکراہ واِجبار کی صورت میں بطریقِ اولیٰ کافی ہوں گے، کیوں کہ مذاق کی صورت میں جانبین کا سرے سے رشتہ کاکوئی ارادہ ہی نہیں ہوتا ہے اور گفتگو محض مذاق ، دل لگی اور تفریحِ طبع کے طور پر ہوتی ہے، جب کہ جبر کی صورت میں ایک فریق تو پورے طور پر کامل اور سنجیدہ ہوتا ہی ہے۔

دوسرا فریق بھی اپنے نفع ونقصان کو سوچ کر ہی فیصلہ کرتا ہے اور بادل نخواستہ ہی سہی بڑی مضرت کی بہ نسبت کم تر مضرت پرراضی ہوجاتا ہے۔بہرحال جبر و اِکراہ کے طورپر کیا گیا نکاح (مجبور کے قبول کرلینے کے بعد) منعقد ہوجائے گا اور اگر کسی لڑکے یا لڑکی کا نکاح جبراً کیا گیا اور اس نے قولًا و عملًا قبول نہیں کیا، بلکہ اسے رد کردیا تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ اگر تفصیلی دلائل درکار ہوں تو شروحِ حدیث اورکتبِ فقہ کی طرف مراجعت کی جاسکتی ہے۔