• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آڈٹ حکام کی چیکنگ کے بعد کھلبلی، کرپٹ افسران کارروائی سے بچنے کیلئے سرکاری ریکارڈ غائب کرنے میں مصروف

حیدرآباد (بیورو رپورٹ) حکومت سندھ کے محکموں میں فائز کرپٹ افسران قانونی کارروائی سے بری الذمہ ہونے کے لیے سرکاری ریکارڈ مبینہ طور پرگم کرنے میں مصروف ہوگئے‘محکمہ ایکسائز ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کے کروڑوں روپے کا ترقیاتی اور غیرترقیاتی اخراجات کاریکارڈ مبینہ آڈٹ حکام کو پیش نہ ہوسکا۔ محکمے کے باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹ افسران وعملے نے ساز باز کرتے ہوئے سرکاری ریکارڈ جانچ کے لیے آڈٹ حکام کو دینے کے بجائے گم کردیا ہے۔ دوسری جانب آڈٹ حکام کی جانب سے جانچ شروع کیے جانے کے بعد کرپٹ افسران وعملے میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ میں کرپٹ افسران کا راج برقرار ہے‘جنہوں نے قومی خزانے کی لوٹ کھسوٹ کو وطیرہ بنایا ہوا ہے‘ اس ضمن میں صوبائی حکومت کے مجاز حکام مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب متعدد محکموں میں کروڑوں روپے کے ترقیاتی اور غیرترقیاتی اخراجات کا ریکارڈ آڈٹ حکام کو دینے کے بجائے گم کرنا معمول بن گیا ہے‘ اس ضمن میں ”جنگ“ کو موصول ہونے والے دستاویزات کے مطابق ‘محکمہ ایکسائز ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کا 5 کروڑروپے سے زائد ترقیاتی اور غیرترقیاتی اخراجات کا ریکارڈ کئی برس بیت جانے کے باجود آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کو فراہم نہیں کیا گیا ۔ دستاویزات کے مطابق 2016ءاور 2017ءکے مالی سال کے دوران قومی خزانے سے ترقیاتی اورغیرترقیاتی کاموں کی مد میں متعدد اضلاع وتحصیلوں میں مجاز حکام کی جانب سے 5کروڑ5لاکھ روپے سے زائد کا بجٹ خرچ کیاگیا‘ اس ضمن میں آڈٹ جنرل آف پاکستان کی جانب سے مذکورہ خرچ کردہ رقم کا ریکارڈ محکمے سے مانگا گیا‘ لیکن مذکورہ محکمے کے مجاز حکام کی جانب سے برسوں بیت جانے کے باوجودآڈٹ حکام کو مثبت جواب نہیں دیا گیا ۔

ملک بھر سے سے مزید