• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’آشرم-3‘ تنازع، شوٹنگ سے قبل ضلع انتظامیہ کو اسکرپٹ دکھانا لازمی

بھوپال(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں جاری ویب سیریز ’آشرم-3‘ کی شوٹنگ کے اسکرپٹ کے حوالے سے ہنگامہ آرائی کے بعد حکومت حرکت میں آ گئی ۔ حکومت شوٹنگ کے بارے میں نئی گائیڈلائن جاری کرے گی اور فلم کی شوٹنگ سے قبل ضلع انتظامیہ کو اسکرپٹ دکھانا ہوگا۔ فلمساز و ہدایت کار پرکاش جھا کی ویب سیریز آشرم-3 کی شوٹنگ کے بعد ریاست کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کا بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ آشرم-3 کی شوٹنگ کے تنازع کے بعد ہم ایک مستقل گائیڈ لائن جاری کرنے والے ہیں۔ اگر قابل اعتراض کوئی سین ہے، کسی مذہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے مناظر ہیں، تو وہ اسٹوری پہلے ایڈمنسٹریشن کو دیں۔نروتم مشرا کا کہنا ہے کہ اب شوٹنگ سے پہلے ضلع انتظامیہ کو اسکرپٹ دکھانا ہوگااور اس پر اجازت ملنے کے بعد ہی شوٹنگ کی جا سکے گی۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی کے میڈیا سیل کے ریاستی انچارج لوکیندر پراشر نے ٹوئٹ کر فلم کی اسکرپٹ اور نام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ خاتون کے استحصال کی جگہ کا نام ’آشرم‘ ہی کیوں؟ افغانستان کیوں نہیں؟قابل ذکر ہے کہ ’آشرم‘ ویب سیریز کے بارے میںبی جے پی کے کئی لیڈروں نے تلخ رد عمل پہلے بھی ظاہر کیا ہے۔ بی جے پی رکن اسمبلی رامیشور شرما نے ٹوئٹ کر کہا کہ آشرم پر ویب سیریز بنانے والے کیا کبھی مدارس پر ویب سیریز بنانے کی اوقات رکھتے ہیں؟واضح رہے کہ ویب سیریز آشرم-3 کا اسکرپٹ اور کچھ مناظر کے حوالے سے اتوارکو بھوپال میں ہنگامہ ہوا۔ بجرنگ دل کارکنوں نے پرانی جیل میں جاری شوٹنگ کی نہ صرف مخالفت کی تھی، بلکہ توڑ پھوڑ اور پتھر اؤ بھی کیا تھا۔ اس کے بعد سے ویب سیریز کے بارے میں تنازع شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔