• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناظم جوکھیو کے موبائل فون کا ڈیٹا ریکارڈ مل گیا


ناظم جوکھیو قتل کیس میں پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی جام اویس سمیت 3 ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کردی گئی، مقتول کے موبائل فون کا ڈیٹا ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کی عدالت میں ایم پی اے جام اویس سمیت گرفتار 3 ملزمان کو انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں عدالت میں پیش کیا گیا۔

ملزمان کی پیشی کے موقع پر عدالتی راہداری میں بھی غیر متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مقتول کے موبائل فون کا ڈیٹا ریکارڈ حاصل کرلیا گیا ہے، تاہم ویڈیو میں نظر آنے والی گاڑی کا ریکارڈ ایکسائز کے پاس سے نہیں ملا ہے، کسٹم حکام سے گاڑی کی تفصیلات حاصل کر رہے ہیں۔

پیشی کے دوران پولیس کی جانب سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے جام اویس سمیت دیگر ملزمان کے ریمانڈ میں 16 نومبر تک توسیع کردی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز تفتیشی ٹیم کی جانب سے جمع کیے گئے ابتدائی شواہد کے مطابق ناظم جوکھیو کے قتل کےوقت جام عبدالکریم، جام اویس کے جام ہاؤس میں موجودگی کے شواہد ملے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نےڈیجیٹل ریکارڈ کیس کا حصہ بنالیا، گواہوں کے بیانات بھی لیے گئے،جام کریم کے سیکریٹری نیاز سالار کا ناظم جوکھیو کے بھائی افضل کو کیے فون کا ریکارڈ بھی مل گیا۔

نیاز سالار کے فون کے بعد ناظم جوکھیو کی لوکیشن قتل کی جگہ پر آئی،ناظم جوکھیو اپنے بھائی افضل کے ہمراہ تقریبا رات 12 بجے جام ہاؤس پہنچا، اسے مبینہ طور پر جام کریم نے تھپڑ مارے، گن مینوں نے بھی معمولی تشدد کیا، مبینہ طور پر جام کریم نے کہا کہ ناظم جوکھیو کو قید کرلیا جائے، صبح فیصلہ ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رات 3 بجےناظم جوکھیو کے بھائی افضل کو گھر روانہ کرا دیا گیا،افضل کو روانہ کیے جانے کے بعد مبینہ طور پر جام کریم سونے چلے گئے، رات تقریباً3 بجے جام اویس جاگے تو انہیں ناظم جوکھیو کے قید ہونے کا پتہ چلا۔

جام اویس کے اٹھنے کے بعد ناظم جوکھیو پر بدترین تشدد کیا گیا، پوسٹ مارٹم میں ناظم جوکھیو کے قتل کا وقت بھی صبح 5 بجے کا ہے، تشدد میں جام اویس خود ملوث تھے یا ان کے کہنے پر کیا گیا اس کی تفتیش جاری ہے جبکہ گرفتار ملزمان کے بیانات لے لیے گئے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید