• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موبائل فون کی ایجاد نے نا صرف رابطوں کو آسان بنایا بلکہ ٹیکنالوجی کو بھی نئی جدت بخشی ہے ۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر دن ایک نئی موبائل فون ایپ متعارف کروائی جارہی ہے،جسے دیکھ کر اور استعمال کرکے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے،ایسی ہی ایک منفرد ایپلیکیشن کراچی سے تعلق رکھنے والے 13 سالہ ہونہار طالب علم احمد جمال نےبولنے یا حرکت کرنے سے قاصر مریضوں کےلئے بنائی ہے ۔ اس ایپ کا نام ’’کیا بات ہے‘‘۔ مریض موبائل فون پر ٹچ کی مدد سے دوسروں کو اپنی کیفیت بتا سکتے ہیں۔

اس اپپ کی نمایاں خصوصیات یہ ہے کہ یہ اردو زبان میں بنائی گئی ہے ،جسے ہر کوئی با آسانی سمجھ سکتا ہے ، اس میں مرد اور خاتون کی آوازوں کے درمیان سوئچ کرنے کا آپشن موجود ہے، ایک الارم بٹن جو کسی ہنگامی صورت حال میں مریض کی دیکھ بھال کرنے والوں کو خبردار کرنے کے لیے ہے، ایک فوری چیٹ سیکشن بھی ہے کہ مریض جو کہنا چاہتا ہے اسے لکھ بھی سکتا ہے۔ اپیلکیشن کی زبان سادہ اور بٹن بڑے رکھے گئےہیں۔ 

اسے مفت ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ احمد جمال خان کا اپنی ایپ کے بارے میں کہنا ہے کہ انہیں ایپ کے اچھے ریوز مل رہے ہیں اور یہ لوگوں کےلئے فائدے مند ثابت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اپلیکیشن پر لوگوں کے اچھے کمنٹ آتے ہیں تو انہیں خوشی ہوتی کہ لوگ ان کی ایپ استعمال کر رہے ہیں اور اس کی مدد سے انہیں اپنی بات دوسروں کو بتانے میں آسانی ہوگئی ہے۔

بلاشبہ ان جیسے ذہین طالبعلم اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ناصرف ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں جدت پیدا کرنے میں اہم کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔