• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ٹک ٹاک کی ممکنہ نقصان دہ چیلنجز، دھوکہ دہی کے اثرات پر عالمی رپورٹ جاری

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

ٹک ٹاک نے ممکنہ نقصان دہ چیلنجز اور دھوکہ دہی کے اثرات پر عالمی رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق دھوکادہی کا سامنا کرنے والے 63 فیصد افراد نے کہا ہے کہ دھوکہ دہی سے پڑنے والے منفی اثرات نے اُن کی ذہنی صحت کو متاثر کیا۔

ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں اس نے کہا کہ ممتاز عالمی ویڈیو پلیٹ فارم ٹک ٹاک تفریح میں اضافے، رابطے اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور ایک ایسے ماحول کو فروغ دیتے ہوئے جہاں تخلیقی اظہار کی کوششوں کے فروغ کو ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے جہاں آن لائن کمیونٹی، بالخصوص کمیونٹی کے نوجوان افراد کے، تحفظ کو ترجیح دی جاتی ہو۔

اس کا کہنا تھا کہ اس مشن میں ٹک ٹاک والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کے مفادات میں شریک ہیں اور انہیں سننے اور ان کوششوں کے بارے میں مطلع کرنے کے لیے بیرونی ماہرین کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

اس نے رپورٹ جاری کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی رپورٹ اس لیے جاری کی تاکہ نوجوان افراد کی ممکنہ طور پر نقصان دہ چیلنجوں اور دھوکہ دہی کی مشغولیت کو بہتر انداز میں سمجھا جاسکے۔ اگرچہ یہ بات کسی بھی دوسرے پلیٹ فارم کے لیے منفرد نہیں ہے لیکن اس کے اثرات اور خدشات تمام فریقین کو محسوس ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹک ٹاک یہ بات جاننے کے لیے تیار ہے کہ یہ کس طرح زیادہ مؤثر ردِعمل تیار کیے جاسکیں کیوں کہ یہ نوعمر افراد، والدین اور اساتذہ کی بہتر اعانت کے لیے کام کر رہا ہے، اسے امید ہے کہ وہ اس شعبے میں وسیع تر تفہیم پیدا کر سکے گا۔

رپورٹ کے شرکاء میں سے 31 فیصد نو عمر افراد ایسے ہیں جنہیں  ان دھوکا دہی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے جن میں سے 63 فیصد نے کہا کہ اِن منفی اثرات نے اُن کی ذہنی صحت کو متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹک ٹک نے وارننگ اور خود اپنے ساتھ دھوکہ دہی کی ویڈیوز ہٹا کر تحفظ کو مضبوط بنایا ہے۔

بتایا گیا کہ اس رپورٹ کی تیاری کا مقصد کمیونٹی کو محفوظ رکھنے میں مدد کرنا اور اسی کے ساتھ ٹک ٹاک پر تفریح کرنا ہے۔

ٹک ٹاک کے مطابق اس پہلے قدم کے ذریعے اور اس موضوع پر مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لیے، ٹک ٹاک کا مقصد اس کام کو دنیا کے ممتاز ماہرین کے ساتھ استعمال کرنا ہے تاکہ آن لائن خاندانوں کے تحفظ اور دفاع کے لیے بامعنی حصہ بنانا ہے۔

اس نے مستقبل کے لیے مزید بہترین کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی کی جانب سے ٹک ٹاک مزید اقدامات تلاش کرتا اور عمل درآمد کرتا رہے گا۔

مزید برآں، ٹک ٹاک نے سوشل میڈیا سے آگاہی کی مہمات مثلاً AapSafeTohAppSafe# بھی چلائیں تاکہ پلیٹ فارم پر تحفظ کو فروغ دیا جا سکے اور حال ہی میں، اس نے اردو زبان میں بھی آن لائن سیفٹی سینٹر قائم کیا جو استعمال کرنے والوں کو تحفظ، سیکیورٹی اور پرائیویسی، رہنمائی اور پالیسیاں فراہم کرتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق ٹک ٹاک نے پاکستان کی ممتاز پبلیکیشنز سے مل کر عوامی ویبنارز بھی منعقد کیے ہیں تاکہ تحفظ کو فروغ دیا جاسکے اور ایسی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے جن سے پلیٹ فارم کا اپنے استعمال کرنے والوں کے لیے محفوظ جگہ بنائی جاسکے۔

ٹک ٹاک نے کی رپورٹ کے لیے مطالعے میں 10,000 سے زائد افراد نے شرکت کی جن میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، جرمنی، اٹلی، انڈونیشیا، میکسکو، برطانیہ، امریکا اور ویتنام سے تعلق رکھنے والے نو عمر افراد، والدین اور اساتذہ شامل تھے، اس کے علاوہ دنیا بھر کے ماہرین سے بھی مشاورت کی گئی۔

مطالعے کے دوران ہونے والے اہم انکشافات اور سفارشات پر مبنی رپورٹ لکھنے کے لیے ایک خودمختار سیف گارڈنگ ایجنسی پرائیزیڈیو سیف گارڈنگ (Praesidio Safeguarding) کی خدمات حاصل کی گئیں۔

یہ رپورٹ پرائیزیڈیو سیف گارڈنگ کے بانی اور ڈائریکٹر، ڈاکٹر زوئے ہلٹن نے تحریر کی۔

اس مطالعے میں دنیا بھر سے نوجوانوں کے تحفظ کے 12ممتاز ماہرین نے شرکت کی جس نے ڈاکٹر ہلٹن کی رپورٹ کا جائزہ لیا اور اپنی رائے دی، اُن کے ساتھ کلینکل چائلڈ سائیکاٹرسٹ، جو صحت مند نو عمر افراد کی بہتری میں اسپیشلائزیشن رکھنے والے ڈاکٹر رچرڈ گراہم اور نو عمر افراد کے رسک پریوینشن میں اسپیشلائزیشن رکھنے والی بی ہیورل سائنٹسٹ، ڈاکٹر گریچین برائن-مائسلس (Dr.Gretchen Brion-Meisels) بھی شریک تھے جنہوں نے نوعمر افراد کی رسک پریوینشن میں رہنمائی فراہم کی اور ہمیں مشورے فراہم کیے۔


مکمل رپورٹ کے مطالعے کیلیے براہ مہربانی https://praesidiosafeguarding.co.uk/reports کا وزٹ کیجیے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید