• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کلبھوشن کا معاملہ قومی سلامتی کا ہے، اپوزیشن کو ادراک نہیں: فروغ نسیم


وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلبھوشن کا معاملہ قومی سلامتی کا ہے، اپوزیشن کو قومی سلامتی کا ادراک کیوں نہیں ہے؟ یہ پاکستان کی ریڈ لائن ہے، بل ایک آدمی کے لیے پاس نہیں ہوا، پاکستان عالمی عدالت میں کیس جیت چکا ہے، ہم نے اس قانون سازی کے ذریعے بھارت کے ہاتھ کاٹ دیئے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ پاکستان نہیں بھارت عالمی عدالت انصاف میں گیا تھا، بھارت کے ناپاک عزائم تھے کہ عالمی عدالت میں پاکستان کے خلاف توہینِ عدالت کا کیس فائل کیا جائے، عالمی عدالت میں بھارت نے کل بھوشن کو بری کرنے کی درخواست کی تھی، عالمی عدالتِ انصاف نے کلبھوشن کو بری کرنے کا حکم نہیں دیا، بھارت تو کیس ہار گیا۔

انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کا کیس تو ہمیں پچھلی حکومت سے ملا تھا، نوازشریف دور میں کلبھوشن کو قونصلر رسائی نہیں دی گئی، عالمی عدالتِ انصاف نے کہا کہ قانون سازی کی جائے، کسی نے کہا کہ امریکا بھی آئی سی جے کے فیصلے کو نہیں مانتا، ہم امریکا ہیں؟ امریکا الگ ملک ہے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ پاکستان بنانا ری پبلک نہیں، ایک ذمے دار ملک ہے، اپوزیشن نے اس معاملے کو اپنی سیاست کا ایک ٹول بنایا ہوا ہے، لگتا ہے کہ اپوزیشن کو اس چیز کی تمیز نہیں ہے، یعنی ادراک نہیں ہے، اگر یہ جان بوجھ کر ایسا کر رہے ہیں تو پھر بہت پرابلم ہے، عوام میں ڈس انفارمیشن پھیلانے کی کوشش کی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کونسل سے پاکستان کے خلاف قرارداد لانے سمیت بھارت کے عزائم اس قانون سازی سے خاک میں مل گئے، اپوزیشن کلبھوشن کے بل کے بارے میں غلط تاثر پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔

وفاقی وزیرِ قانون نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں تمام 34 بل مفادِ عامہ میں پاس ہوئے، ابتدا میں ہی رول 10 کا حوالہ دیا گیا، مجبوری میں آئین کے مختلف آرٹیکلز کا حوالہ دینا پڑا، کہا گیا کہ الیکٹورل ریفارمز کو عدالت میں چیلنج کریں گے، کسی نے الیکٹورل ریفارمز پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال لازم ہے، ای وی ایم کے استعمال سے 100 فیصد درستگی کا نہیں کہہ سکتے، پرانے طریقۂ کار میں دہری مہر اور غلط جگہ مہر لگانے کی شکایات سامنے آتی تھیں۔

فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ ای وی ایم پرانے طریقۂ کار سے بہتر ہے، کسی نے کہا کہ کوئی ای وی ایم کا ڈبہ اٹھا لے تو ڈبے تو پہلے بھی اٹھائے جاتے تھے، اگر ہم غلط ہوئے تو عدالت قانون ختم کر دے گی، ہماری دانست میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین زیادہ بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کو بیچ دیا گیا ہے، کئی لوگوں نے بیان دیا کہ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری بیچ دی گئی، اسٹیٹ بینک اپنے قانونی اختیارات منتقل نہیں کرے گا۔

فروغ نسیم نے مزید کہا کہ 1998ء کے بعد 2008ء میں مردم شماری کرانی چاہیئے تھی، تب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، پورے سندھ کا، بلوچستان کا مطالبہ تھا کہ دوبارہ مردم شماری کرائی جائے، مردم شماری کو کالعدم کرنے کی بجائے قومی مفاد میں نئی مردم شماری کا فیصلہ کیا، نئی مردم شماری اب ہونے جا رہی ہے، جس کے لیے جدید طریقہ کار اپنایا جائے گا، اس میں ماڈرن ڈیوائسز استعمال ہوں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی والے کہتے ہیں کہ حیدر آباد میں یونیورسٹی نہیں ہونی چاہیئے، ہمارا مؤقف ہے کہ ہر جگہ یونیورسٹیز اور تعلیمی ادارے ہونے چاہئیں، اگر آپ سچ پر بات کرتے ہیں تو پھر جیسے چاہیں تنقید کریں، جنسی زیادتی سے متعلق قانون میں کیمیکل کے استعمال کی شق ختم کر دی گئی ہے۔

قومی خبریں سے مزید