• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ کے شہر گلاسگو میں نومبر کے اوائل سے ماحولیات اور موسمی تغیرات کے حوالے سے آٹھ روزہ عالمی کانفرنس اختتام کو پہنچی۔ اس میں ایک سواٹھانوے ممالک کے سربراہان نے شرکت کی،بلاشبہ یہ اب تک سب سے بڑی عالمی کانفرنس تھی۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ماحولیات کے حوالے سے یہ چھبیسویں عالمی کانفرنس تھی۔ پہلی کانفرنس1995 میں منعقد ہوئی تھی۔ حالیہ کانفرنس میں ہالی وڈ کے اداکاروں کے علاوہ دنیا کی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی جس میں شہرت یافتہ کھلاڑی، سائنس داں ماہرین، دانشور،صحافی سب ہی شامل تھے ۔

عالمی رہنما رنجشیں، تنازعات اور مفادات سے بالا تر ہو کر ماحول کی فکر کریں اور اسے بہتر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں

گلاسگو میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے کانفرنس میں شریک سربراہان کے خلاف احتجاج کیا۔مظاہرے کئے، نعرے لگائے،سب کے ہاتھوں میں بڑے بڑے پلے کارڈ تھے جس پر موسمی تغیرات،ماحولیات اور آلودگی کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ سوئیڈن کے مشہور ماڈل اور ماحولیات کی غیرسرکاری تنظیم کی مدح رواں تھنمبرگ نے گلاسگو میں احتجاجی ریلی کی سربراہی کی۔

کانفرنس کا ایجنڈامختصر مگر واضح اور بامعنی تھا۔ کرہ ارض کا تحفظ، موسمی تبدیلیوں میں سدھار لانے کے لئے آلودگی کم سے کم کرو، متبادل انرجی عام کرو ،وغیرہ ایجنڈا کا حصہ تھے۔ اس عالمی کانفرنس میں اہم ترین شخصیات کی سیکورٹی کے لئے دوہزار سے زائدپولیس افسران اور اہلکار سیکورٹی پرمامور تھے۔ رائل نیسوی اور رائل ائیر فورس کوبھی ریڈ الرٹ رکھا گیاتھا۔ ظاہر ہے پوری دنیا کے سیاستدان سربراہان مملکت ایک چھت کے نیچے جمع تھے۔ سی او پی۔26کانفرنس کی ابتدائی روایات کے بعد پہلی تقریر برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ کی تھی جو ریکارڈ کرکے کانفرنس کے شرکاءکو دی تھی۔ اپنی تقریر میں ملکہ برطانیہ نے عالمی رہنمائوں کو قدرے سخت لہجہ میں کہا سب رہنما اپنی اپنی رنجشیں ، تنازعات اورمفادات سے بالاتر ہوکر ماحولیات کی فکرکریں، اور اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

برطانیہ کے وزیر اعظم جواس کانفرنس کے میزبان بھی تھے، کہا کہ گذشتہ کانفرنس کی قراردادوں پرتاحال کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ نشست ختم تمام وعدے بھی ختم، مگر یاد رکھیں یہ آخری موقعہ ہے۔ یورس ولسن نے موسمی تغیرات اور اس سے ہونے والے بھیانک نقصانات وخطرات اورخدشات سے بھی شرکا کو آگاہ کیا۔کانفرنس میں2015کے پیرس معاہدہ کا بہت تذکرہ رہا۔ پیرس کا عالمی معاہدہ موسمی تغیرات کے حوالے سے ایک جامع معاہدہ ہے جس پرتمام سربراہان اور وزرا خارجہ کے دستخط ہیں۔ 

اس معاہدہ کو ٹیبل کرانے اور سب کے دستخط کرانے کا سہرا سابق امریکی صدر اوباما اور پوپ فرانسس کو جاتا ہے۔ پیرس کا نفرنس بہت اہم تھی جس میں سرابراہان کے علاوہ چوٹی کے سائنس دان اور ماہرین نے بھی شرکت کی تھی، مگر طرفہ تماشہ یہ کہ چارسال بعدسابق امریکی صدر ٹرمپ نے اس معاہدے سے امریکہ کو الگ کرلیا اور ماحولیات میں بگاڑ کو قدرتی ماحول کا حصہ قرار دیا، جبکہ صدر جوبائیڈن نے حلف اٹھانے کے بعد پہلا حکم نامہ جاری کیا وہ پیرس معاہدہ میں امریکہ کی شمولیت کاتھا۔

مسئلہ یہ ہے کہ بیش تر رجعت پسند شخصیات قدرتی ماحول میں بگاڑ کو قدرتی موسمیات کا حصہ قرار دیتی ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ قدرتی ماحول وموسمیات اور آب وہوا میں اتار چڑھاو پروگرام اور بدلاو آرہے ہیں اس لئے اس تمام شورشرابے ہے کہ قطعی ضرورت نہیں ہے۔

گلاسگو کانفرس میں ترقی پذیر ممالک کے رہنماوں نے امیرممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا۔لون کا کہنا تھا کہ صنعتی طور پر ترقی یافتہ امیر ممالک قدرتی کوئلہ اورتیل کا زیادہ استعمال کررہے ہیں۔ وہ تمام خینری برقی آلات اور زرعی ادویات کا زیادہ استعمال کرتے ہیں جس سے آلودگی پھیلتی ہے۔ اس فہرست میں امریکہ ،چین، بھارت اور برازیل سرفہرست ہیں، لہذا ان ممالک کو ماحولیات کے بین الااقوامی فنڈز میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینا چاہیے۔امریکی صدر جو بائیڈن کانفرنس میں اس حوالے سے نمایاں رہے کہ ان کے دوبڑے حریف چین اور روس کے صدر نے شرکت نہیں کی۔ 

اس مسئلے پر امریکی صدر بائیڈن نے ان دونوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بہت تیزی سے متبادل انرجی اور سولر انرجی کے ضروری اقدام کررہا ہے اور امریکہ کے بیشتر بڑے صنعتی اداروں نے ماحولیات میں سدھار اور آلودگی میں کمی کرنے کے لئے بہت کچھ کیا اور مزید کررہے ہیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے بین الاقوامی فن برائے موحولیات میں ایک سوبلین ڈالر دینے کا اعلان کیا۔کہا جاتا ہے کہ اس ایک سوبلین ڈالر کی منظوری کا نگریس نے دیدی ہے۔ جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے کہا کہ کرہ ارض کاتحفظ ہم سب کی بلا لحاظ نسل، مذہب اور زبان فرض ہے، یہ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری انسانیت اور ہماری زمین کا ہے۔ آئندہ نسلوں کے تحفظ کا ہے۔ ہمیں اپنی نسلوں اور ان کی بقا کے بارے میں سوچنا ہے۔ جرمنی نے سولرانرجی اور متبادل انرجی پربہت کام کیا ہے دوسروں کوبھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہیے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم یورس ولسن نے کہا مجھے سخت مایوسی ہورہی ہے کہ جو فیصلے ہم نے دس سال پانچ سال پہلے کئے تھے ان پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے، تاہم میں نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے مجھے گلاسگو کانفرنس سے امید ہے۔ ہمارے رہنما ضرور نتیجہ خیز اقدام کریں گے۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندرمودی نے کہا2050تک ہم آلودگی میں کمی کے ہدف کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے اور بین الاقوامی فنڈ میں اپنا حصہ ضرور شامل کریں گے۔فرانس کے صدر مینوشل میکرون نے فرانس کی جاری کاوشوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور شرکا کو بتایا کہ فرانس کا خلا نورد جواس وقت خلا میں چکر لگارہا ہے، اس نے وہاں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کرہ ارض کی حالت بہت خراب ہورہی ہے اور یہ بگاڑ ایسے ہی جاری رہا تو نہ جانے کیا ہوگا۔ فرانسیسی خلا نوردکے بیان نے سب کو چونکادیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ یا عالمی گرماہٹ،عالمی دہشت گردی سے کئی گنا خطرناک ہے۔ اور یہ پوری انسانیت کا اولین مسئلہ ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم اس گھمبیر مسئلے سے آنکھیں نہیں چرا سکتے۔ پینے کا پانی کم ہورہا ہے، پانی آلودہ ہورہا ہے، فضاآلودہ ہورہی ہے۔کاروں کی تعداد گذشتہ بیس برسوں میں تین گنا بڑھ چکی ہے۔ ائیر کنڈیشن، ریفریجرٹر اور دیگر برقی آلات ہمارے اطراف کی فضا کو متاثر کررہے ہیں، زرعی کھاد فصلوں پر چھڑکنے والی ادویات فصلیں بوتے وقت زرعی زمین پر کیمیکل کا چھڑکاو یہ سب نہایت مضر ہیں جو زمین کو شدید متاثر اور آلودہ کررہے ہیں ۔

پھر کارخانوں فیکٹریوں کا استعمال شدہ آلودہ پانی جس کو سمندر میں بہادیا جاتا ہے، وہ آل حسیاتیات کو بری طرح متاثر کررہا ہے ماہرین کا کہنا ہے آبی حیات اور کئی قسم کی مچھلیاں رفتہ رفتہ کم ہورہی ہیں۔ فضا کارخانوں،ٹرانسپورٹ،فضا میں اڑنے والے ہزاروں طیاروں کی وجہ سے متاثر ہورہی ہے بہت سے نایاب پرندے معدوم ہوچکے ہیں۔سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اس سے پھیپڑوں کی بیماریاں اور کینسر پھیل رہا ہے۔ آنکھوں کی بیماریاں عام ہورہی ہیں۔ ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم نظام شمسی اور اطراف میں واحد سیارے ہیں جو نہ خوبصورت ہے بلکہ اس پر؟ 

ہم بستے ہیں اور واحد آباد وسیارہ ہے۔ ہم خلائی اور دیوہیکل ٹیلی اسکوپس کے ذریعے اپنی کہکشاں اور اطراف کامشاہدہ کیا اور مزید کررہے ہیں مگر زندگی کہیں نظر نہیں آئی۔ہم نے تخیلاتی خلائی مخلوق کے بارے میں ان گنت کہانیاں گھڑلیں، ناولیں لکھ دیں اور فلمیں بنالیں مگر خلائی مخلوق سے تاحال کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ امریکی فلائی ادارے کے ماہرین اور بیش تر سائنس دانوں کا مشورہ اور انتباہ ہے کہ اگر کوئی خلائی مخلوق ہے اور وہ ہم تک پہنچ گئی تو سب سے پہلے وہ ہمیں ختم کردے گی، وہ کبھی ہماری دوست نہیں ہوسکتی، اس لئے اس کی تلاش چھوڑ دیں۔ شہرہ آفاق سائنس داں اسٹفین ہانکس کا آخری پیغام تھا کہ، زمین کے سپوتو! تم زمین پرپیدا ہوئے ہویعنی تم زمین کی مخلوق اگر کسی سیارے پر پہنچ کروہاں آباد ہونے کی خواہش رکھتے ہوتو اس مسئلہ کو بھول جائو، کیوں کہ انسان کسی اور جگہ زندہ نہیں رہ سکتا۔

واقعی یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ ہم خلائوں میں نئے سیارے یازندگی تلاش کرنے کے لئے بھٹک رہے ہیں سراب کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور اس حسین منفرد سوزمین کرہ ارض کوتباہ کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔ کیا یہ ستم ظریفی نہیں ہے تو پھر کیا ہے۔ زمین انسانیت اور اس پر موجود تمام حیاتیات کی ماں ہےپالن ہار ہے۔ قدرت کا عظیم حسین اور منفرد تحفہ ہے۔ انسانوں کواس کی قدروفکر کرنا ضروری ہے۔ سب سے بڑی سے بڑی اہم بات یہ ہے کہ ہم اس کے نگراں ہیں، یہ ہمارے پس آئندوں نسلوں کی امانت ہے جس میں ہم کوئی خیانت نہیں کرسکتے ۔مگر افسوس کہ ہم جنگلات کاٹ کر لکڑی فروخت کررہے ہیں اورقدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں اور بہت کچھ غلط کررہے ہیں۔

پوپ فرانسس نے گلاسگو کانفرنس کے شرکاء کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ اس حسین سرزمین اور اس پر موجود حیاتیات کو ماحولیات اور موسمی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے بچانے کے لئے فوری اقدام کریں، کرہ ارض کے تحفظ کے لئے سب ایک ہو جائو، پوپ نے کہا کہ آلودگی میں اضافہ کے ہم سب ذمہ دار ہیں، اگر ہم نے ابھی اس وقت کچھ نہ کیا تو پھر یہ زمین جانداروں کے رہنے کے قابل نہیں ہوگی۔ واقعہ یہ ہے کہ پوپ فرانسس سے شہزادہ چارلس، ملکہ ایلیزبتھ سے شہزادہ محمد سلمان اور صدرجوبائیڈن سے عمران خان تک تمام اہم شخصیات زمین کو قدرتی آفات اور خطرات سے محفوظ رکھنے کی اپیلیں کررہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودگی میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ کانفرنس، سیمینار، مذاکرے اور بہت کچھ کرنے کے باوجود مثبت کچھ نہیں سامنے آیا صرف بگاڑ کی خبریں اور رپورٹس سامنے ہیں۔ جبکہ سائنس دان، ماہرین ماحولیات اور ماہرین ارضیات سب ہی دنیا کو خبردار کررہے ہیں مگرلگتا ہے اکثریت پر کوئی خاص اثر نہیں ہورہا ہے…

بیسویں صدی کے تیسرے عشرے سے اس ضمن میں خبریں عام ہورہی تھیں۔ ماحولیات پر اور آلودگی میں اضافہ پر کھل کر بہت کچھ کہا جارہا تھا، مگر آگہی نہ ہونے کے برابر تھی اور اب بھی لگ بھگ اسی نوے برس گزرنے کے باوجود عوام میں موسمی تغیرات کے نقصانات اور قدرتی ماحول میں بگاڑ کے سلسلے میں وہی آگہی کا فقدان ہے۔ آگہی آگہی تمام میڈیا ہائوسز، تمام ذرائع اور مساجد، کلیسا، مندر اور گردواروں میں پیغامات عام کئے جائیں۔ بچوں ، طلباء اور عام افراد کو بتایا جائے انہیں ان کی زبانوں میں سمجھایا جائے شاید کوئی بات بن جائے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتھونی گیٹریس نے گلاسگو کی عالمی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ یہاں موجود ہر فرد اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ ہماری پبلک ٹرانسپورٹ، لاکھوں کاروں، مال بردار ٹرکوں، ریل گاڑیوں اور دیگر گاڑیوں کے نکلنے والا کثیف دھواں ناک، حلق اور سینے کی مضر بیماریوں کا سبب بنتا ہے، اس طرح کیمیکل وغیرہ کا آلودہ پانی سمندر یا کھیتوں میں بہایا جاتا ہے اس سے آبی حیاتیات کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ آلودہ پانی میں اُگی فصلیں مثلاً اناج، سبزیاں اور فروٹ وغیرہ سے انسانی صحت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے خاص طور پر بچے بہت متاثر ہورہے ہیں، پھر یہ کہ موسمی تبدیلیاں نے بعض خطوں میں سیلابوں، طوفانوں، موسلادھار بارشوں اور خشک سالی سے بڑے نقصانات پہنچ رہے ہیں۔

امریکی تحقیقی ادارے ناسا نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ رواں صدی کے آخری عشرے تک کرہ ارض کا ایک تہائی حصہ خشک سالی کا شکارہوسکتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ ہزار برسوں میں کرہ ارض کے قدرتی ماحول میں اس نوعیت کی ماحولیاتی تبدیلیوں کا سراغ نہیں ملتا جس طرح کی تبدیلیاں سات آٹھ عشروں میں ہمارے سامنے آئی ہیں۔ 

ماہرین کہتے ہیں اگر قدرتی ماحول میں تبدیلیاں ہوتی ہیں ان تبدیلیوں کا سدباب بھی قدرتی طور پر ہوتا ہے۔ ایسا ماضی بعید میں بھی ہوتا رہا ہے، مگر جاری تبدیلیاں قدرتی نہیں ہیں۔ تبدیلیاں انسانی عمل کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے زمین پانی اور فضا میں زہریلے اور کیمیا فاضل مادے ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے میں زمین کے فطری ماحول میں بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ ہم جس فضا میں سانس لے رہے ہیں یہ زہر آلود ہوتی جاری ہے۔ جو پانی ہم پی رہے ہبں وہ مضر صحت بنتا جارہا ہے۔ جو اناج، سبزیاں، فروٹ ہم کھا رہے ہیں، اس کے ساتھ زہریلے مادے ہمارے جسم میں داخل ہورہے ہیں۔صرف یہی مسائل نہیں ہیں بلکہ آواز و شور کی آلودگی بھی ہماری سماعتوں کے لئے بڑا خطرہ بنتی جارہی ہے۔ ماہرین نے اس میں تحقیق کرکے بتایا کہ شور بڑھتا جارہا ہے۔ صبح تا رات تک ہم کسی نہ کسی نوعیت کی تیز آوازوں اور شور میں گھرے رہتے ہیں جس سے افراد پر اعصابی دبائو بڑھ رہا ہے۔ اعصابی دبائو خود ایک مضر بیماری ہے جو دبے پائوں آکر فرد کو گھیر لیتی ہے۔ آج کی جدید دنیا کا طرز زندگی اس حد تک بدل چکا ہے کہ ہم کسی طور اپنے اطراف اٹھنے والے شور سے دامن نہیں بچا سکتے۔

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ جوہری تابکاری جو سب سے زیادہ مضر ہے، ایٹمی بجلی گھروں اور ایٹمی تنصیبات سے خارج ہوتی ہے، ہر چند کہ تابکاری کو روکنے کے لئے جو طریقہ کار ہے اس پر بہت توجہ دی جاتی ہے۔ مگر چند برس قبل جاپان میں آئے سونامی کی وجہ سے جاپان کے ایٹمی گھروں کو زبردست نقصان پہنچا تھا جس پر دنیا دم بخود رہ گئی تھی، مگر واقعی جاپانی قوم منظم اور زیرک ہے۔ جاپان نے بہت کم وقت میں معاملہ کو سنبھال لیا تھا، تب سے ایٹمی بجلی گھروں پر انحصار کم سے کم کرنے کا رجحان فروغ پانے لگا۔ اس ضمن میں جرمنی نے اپنی قابل ستائش کارکردگی دکھائی اور ایٹمی بجلی پر اپنا انحصار کم کرنے کے لئے سولر انرجی پر بھرپور توجہ دینی شروع کردی اور اب جرمنی اور اس کے بیش تر ممالک سولر انرجی اور پن بجلی گھروں کی تعمیر کررہے ہیں جوہر طرح کی آلودگی سے پاک اور ماحول دوست تنصیبات ہیں۔

جن ترقی پذیر ممالک میں ایٹمی تنصیبات ہیں یہ ممالک ترقی یافتہ ممالک کی طرح تنصیبات کی دیکھ بھال اور ہنگامی صورت حال میں اس طرح مسئلے کو فوری حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں تفریق زیادہ ہے۔ معاشی، معاشرتی اور سماجی طور پر ترقی پذیر ممالک خاصے پیچھے ہیں۔ ان ممالک کے عوام کے لئے دو وقت کی روٹی بڑا مسئلہ ہے۔ وہاں قدرتی ماحول کے سدھار، آلودگی میں کمی اور ماحول دوست معاشروں کی تعمیر جیسے مسائل ان کی نظر میں امیروں کے چونچلے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے عوام کی اکثریت قدرتی ماحول میں بگاڑ کو اہمیت نہیں دیتی ہے۔ ان ممالک میں موجود ایٹمی تنصیبات کو ماہرین ماحولیات بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک پر زور دیتے ہیں کہ ایسے پسماندہ ممالک کی معاشی اور فنی طور پر مدد کی جائے۔

واضح رہے کہ گلاسگو کی عالمی کانفرنس میں فنڈز کے حصول اور تقسیم پر بعض سوالات اٹھائے گئے تھے، جس پر بعداز کانفرنس بھی مذاکرات جاری ہیں۔ اس عالمی فنڈز میں سے ترقی پذیر ممالک کو مالی مدد دی جائے گی کہ وہ ماحولیات میں سدھار لانے اور آلودگی میں کمی کرنے کے اقدام کریں، مگر ترقی پذیر ممالک میں تعلیمی، معاشی اور معاشرتی پسماندگی کے ساتھ آگہی اور سماجی شعور کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جو نہ صرف ان ممالک کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے بلکہ دنیا کے لئے بھی قابل غور مسئلہ ہے۔

جی۔20 کے شرکاء اختتام کانفرنس بوجھل ذہنوں کے ساتھ گلاسگو کی چھبیسویں عالمی کانفرنس میں پہنچ گئے وہاں بھی وہی مسئلے، وہی خدشات اور وہی مطالبے ان کے دامن گیر رہے، مگر گلاسگو کانفرنس سب سے بڑی عالمی کانفرنس تھی اس میں بھی ماحولیات موضوع تھا۔ اس کانفرنس میں یہ اہم بات سامنے آئی کہ کلین ٹیکنالوجی کو تیزی سے فروغ دینے کی پیہم جدوجہد جاری ہے۔ گلاسگو کانفرنس میں زور دے کر یہ بات کی گئی ہے کہ زیادہ آلودگی پھیلانے والے ممالک فوری طو رپر آلودگی میں بتدریج کمی لانے کے اقدام شروع کریں اور عالمی فنڈز میں زیادہ چندہ دیں۔ مثلاً امریکہ، چین، بھارت، برازیل اور روس کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ چین اور روس کے صدر نے کانفرنس میں شرکت ہی نہیں کی۔ اگر بڑے ممالک اس نوعیت کے روئیے اپنائیں گے تو واقعی اس دنیا کا کیا ہوگا۔ اتنے بڑے لیڈر حقائق کا سامنا کرنے کی اخلاقی سکت نہیں رکھتے۔

کانفرنس میں موجود سائنس دانوں نے زیادہ زور اس پر دیا کہ نائٹروجن، کاربن اور میتھون گیسز میں بتدریج کمی کی ضرورت ہے ۔اگر ان مضر گیسز کا اخراج اور ماحول کو متاثر کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو پھر دنیا کو بڑے خطرات کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

گلاسگو کانفرنس نے عالمی فنڈز میں ایک سویلین ڈالر کا ہدف رکھا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس میں کتنا فنڈ جمع ہوتا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے بڑے فنڈ کی توقع کی جارہی ہے۔ ماہرین نے دنیا میں شجرکاری پر بہت زور دیا۔ اس ضمن میں کچھ شجرکاری کے حوالے سے مبالغہ آرائی سے بھی کام لیا ہے، کیونکہ ان کے اس طرح کے بیانات کو فوری چیک نہیں کیاسکتا، نہ چیلنج کرسکتا ہے۔

گلاسگو کانفرنس کے ایجنڈے میں اہم نکتہ یہ تھا کہ درجہ حرارت میں کس طرح 1.5درجہ حرارت کم کیا جائے اور اس کو آگے نہ جانے دیا جائے۔ ماہرین کہتے ہیں اگر درجہ حرارت دو سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا اور کچھ یہ مزید آگے گیا تو خدشات ہیں کہ 2030ء تک کرہ ارض بہت زیادہ قدرتی آفات کا شکار ہوگا۔ اس لئے درجہ حرارت کو 1.5پر مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے لئے آلودگی پر کنٹرول کرنا، گرین ہائوس گیسزز کی مقدار کو کم کرنا اور ہر ایسے اقدام کا سدباب کرنا ہے جس سے قدرتی ماحول کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ بڑا مسئلہ یہ سامنے آرہا ہے کہ چین سب سے زیادہ قدرتی کوئلہ سے انرجی پیدا کرتا ہے، پھر بھارت اور برازیل ہیں۔ 

روس بھی قدرتی ایندھن کا بہت استعمال کرتا ہے، اس کے بعد دیگر ممالک ہیں۔ حال ہی میں برازیل نے قدرتی کوئلہ پر انحصار کرنے کے مسئلے پر نظرثانی کا وعدہ کیا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے جی۔2اور گلاسگو کانفرنس میں کچھ وعدہ کئے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ بھارت ان پر کس حد تک قائم رہتا ہے۔ قدرتی کوئلہ کا استعمال وہاں بھی بہت ہے۔ حال ہی میں دیوالی کا تہوار تھا جس میں چراغاں کیا گیا آتش بازی کی گئی اور بھارت کے آسمان آلودہ ہوتے رہے، پوری رات آلودگی میں اضافہ ہوتا رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ دیوالی پر بھارتیوں نے تقریباً 1.2ارب ڈالر پھونک ڈالے۔ اس پر بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید بھی کی گئی ہے۔ ماحولیات اور موسمی تغیرات کو مدنظر رکھتے ہوئے قوموں کے اپنے تہوار اور تقریبات میں پرانی روایات پر نظرثانی کرنا چاہئے۔

جرمنی کے ماحولیاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیمیاوی تجربہ ناکام ہوتا ہے تو اس سے نقصان ہوتا ہے اس طرح نائٹروجن اور کاربن گیسز کا اخراج ہمارے سمندروں اور فضائوں کو متاثر کررہی ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ان ماحول دشمن گیسز کا ملاپ سمندری گیسز پر رہا ہے، جس کی وجہ سے سمندروں کا قدرتی نظام متاثر ہورہا ہے اور شدید خدشہ ہے کہ چند برس بعد صورت حال بہت مخدوش ہوجائے گی۔ 

عالمی سطح پر مختلف ترقی یافتہ ممالک کے تحقیقی ادارے اپنی اپنی رپورٹس اور جائزوں میں قدرتی ماحول میں بگاڑ، آلودگی میں اضافہ اور اس کے موسمی تبدیلیوں پر اثرات کے حوالے سے انکشافات کرتے ہیں، مگر گھوم پھر کے بات وہیں آکر ٹھہرتی ہے کہ ان تمام ماحولیاتی مسائل کا سدباب کون کرے گا۔ 

امیر ممالک اور ترقی یافتہ ممالک کے حکمرانوں کے پاس اپنے بہت سے مسائل ہیں جن کا تعلق عوامی مسائل سے کم ہوتا ہے وہ ماحولیات کے مسائل کی طرف آخری لمحوں میں مائل ہوتے ہیں۔ سربراہان مملکت کے سرد رویوں اور ان کی آپس کی رنجشوں کے خلاف گلاسگو میں طلبہ نے بہت بڑی تعداد میں مظاہرے کئے اور دھرنے دئیے،جن کا یہی مطالبہ تھا کہ سربراہان اپنی آنکھیں کھولیں اور حقیقی مسائل پر توجہ دیں۔ گلاسگو کے نوجوان اور طلبہ مظاہروں میں یورپی ممالک کے طلبہ بڑی تعداد میں شریک تھے۔ 

دیگر ممالک کے طلبہ بھی احتجاجی ریلی میں شرکت کے لئے گلاسگو آئے تھے۔ زیادہ تر اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ اس احتجاج میں شریک تھے۔ نوجوانوں اور طلبہ کی اس تحریک کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں یہ آگہی ہے کہ ہماری زمین، ہمارے سمندروں، ہماری فضائوں اور ہمارے جنگلات کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ اس کرہ ارض کے مستقبل کے ساتھ کیا کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ مفادات کے حصول کی بے لگام دوڑ نے اس دھرتی کا کیا حشر کردیا ہے۔

یہ نوجوان نسلوں کا گمبھیر مسئلہ ہے۔ ان کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے رہنما عوامی رجحان کو دیکھ کر بات کرتے ہیں مگر حقیقی مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دیتے۔ اس طرح ترقی پذیر ممالک کے مسائل مزید بڑھ رہے ہیں۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ماحولیات کے سینٹر میں جمع شدہ ڈیٹا کے مطابق 1880ء سے 2006ء تک کے ریکارڈ کے مطابق ہر سال ماہ جولائی سب سے زیادہ گرم مہینہ رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل کے استوائی حصے میں موسمی تبدیلیوں سے اندازہ کرلیا گیا تھا کہ 2015ء گرم سال اور جولائی بدترین گرم مہینہ ہوگا۔

غرض کہ عالمی کانفرنس کا یہ اجلاس جو اقوام متحدہ کے زیر انتظام 26ویں عالمی کانفرنس تھی اختتام پذیر ہوئی۔

گلاسگو کانفرنس کے چیدہ چیدہ نکات

 کانفرنس نے مختصر طور پر قراردادیں منظور کیں اور مطالبات دہرائے۔ مثلاً…

* آئندہ برس سی اوپی۔7شرم الشیخ مصر کے شہر میں منعقد ہوگی۔

* ایک سو ملین ڈالر فنڈ جلد جمع کیا جائے گا۔

* شرکاء عالمی فنڈ میں ایک ٹریلین ڈالر جمع کرنے کی سعی کریں گے۔

* تمام ممالک آلودگی میں کمی لانے کی کوشش کریں اور درجہ حرارت میں اضافہ کریں۔

* 1.5ڈگری درجہ حرارت کم کیا جائے اور اس میں اضافہ نہ ہونے دیں۔

* قدرتی ایندھن سے سولر انرجی اور متبادل انرجی اپنانے کی تیاری کریں۔

* زمین اور انسانیت کو تحفظ فراہم کرنا سب کا فرض ہوگا۔

* تمام امیر ممالک ہر سال مطلوبہ فنڈز فراہم کرتے رہیں گے۔

* اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تنظیم اپنی رپورٹس اور جائزے تمام سربراہان کو ارسال کرتی رہے گی۔

اس طرح کی قراردادیں پہلے بھی سامنے آتی رہیں۔ بلند بانگ دعوے بھی کئے گئے مگر پرنالہ وہیں گرتا رہا اور اب بھی وہیں گر رہا ہے۔ اب تو تمام دنیا کے سربراہان آگے چلے گئے۔ کیا پرنالہ وہیں گرتا رہے گا۔ ماہرین ڈوس ڈے کے بارے میں بھی بتادیا ہے۔ اس کا انتظار کرلو۔