• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کووِڈ-19 کے بعد کی صورتحال میں بزنس پلان بنانا

کووڈ-19کے باعث بہت سی کمپنیوں کا کاروباری ماڈل متاثر ہوا ہے۔ تاہم اس وقت دنیا کی ہر کمپنی کو ایک ہی سوال کا سامنا ہے:کووڈ-19ختم ہونے کے بعد کی صورتحال کیا ہوگی؟ وبائی مرض کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن اور اس کے بعد کی صورتحال میں گروسری اسٹورز اور پیکڈ اشیا بنانے والوں کی فروخت میں غیر متوقع اضافہ دیکھا گیا۔ 

مگر سوال یہ ہے کہ اضافے کا یہ رجحان کیا برقرار رہے گا؟ ہوٹلوں اور ایئر لائنز کی بکنگ میں خاطر خواہ کمی آئی، کیا ان کا کاروبار پہلے کی طرح چل پڑے گا؟ اس طرح کے اور بھی دیگر سوالات ہیں، جن کا حتمی جواب اس وقت ہی مل سکتا ہے جب یہ وباء ختم ہو جائے گی۔

یہ بات واضح ہے کہ روایتی اسٹریٹجک سوچ نے کمپنیوں کو نئی تبدیلیوں (New Normal) کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنے میں مدد نہیں کی۔ اس کے بجائے ہائبرڈ نقطہ نظر (اس میں روایتی کاروباری حکمت عملی کو سماجی سائنس اور جدت کے نظریہ کی تازہ ترین سوچ کے ساتھ جوڑتا ہے) اپنانے سے زیادہ اچھے نتائج دیکھنے کو ملے۔ بالآخر، وبائی امراض کے بعد کی دنیا کے لیے منصوبہ بندی کا مطلب ہے تین سوالوں کے جواب دینا۔ پہلا یہ کہ: آپ کے کاروبار میں کمائی کیسے ہوتی ہے؟ بہت سی کمپنیوں نے ابھی تک اس طرف توجہ دینے میں وقت نہیں لگایا ہے کہ پیسہ، اشیا اور معلومات کیسے ان کے سپلائرز سے صارفین تک پہنچتی ہیں۔ 

اگلا سوال یہ کہ ، کاروبار چلانے کے لیے کمپنی کس پر انحصار کرتی ہے؟ اپنے سب سے اہم اسٹیک ہولڈرز اور ان کے طرز عمل کی وضاحت کریں جو آپ کے کاروباری ماڈل کو متاثر کرتے ہیں۔ تیسرا اہم سوال یہ کہ وبائی مرض کے بعد لوگوں کا طرز عمل کیسا ہوگا؟ اس کا جواب دینا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔ اگرچہ وبائی مرض عارضی ہے، لیکن یہ کافی عرصہ تک موجود رہ سکتا ہے جو عارضی طرز عمل کو اسٹرکچرل تبدیلیوں میں بدل سکتا ہے۔ بحران کے اختتام پر، کچھ چیزیں اس طرح واپس آجائیں گی جیسے وہ پہلے تھیں، کچھ چیزیں بہت مختلف نظر آئیں گی اور کچھ چیزیں واپس نہیں آئیں گی۔

آخری سوال پر روشنی ڈالنے کے لیے اسٹیک ہولڈر کے روّیوں کی تین اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے:

٭ پائیدار روّیے (Sustained Behaviors) ایسی سرگرمیاں ہیں جو ممکنہ طور کووڈ-19سے پہلے کی حالت میں بنا کسی تبدیلی کے واپس آجائیں گی۔ مثال کے طور پر، نائن الیون واقعے کے بعد امریکا میں لوگوں نےکئی مہینوں تک ہوٹلوں میں رہنا چھوڑ دیا تھا، لیکن یہ رجحان تبدیل ہوکر بالآخر نائن الیون سے پہلے کی سطح پر واپس آ گیا۔ ہوٹلوں کو اس عرصہ میں صرف اپنے کاروبار کو قائم رکھنے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت تھی۔

٭ تبدیل شدہ روّیے (Transformed Behaviors) وہ سرگرمیاں ہیں جن کے بنیادی تبدیلیوں کے ساتھ بحران کے بعد واپس آنے کا امکان ہے۔ مثلاً نائن الیون کے بعد لوگوں نے ہوائی جہازوں میں سفر کرنا کم کردیا تھا۔ لیکن جب انہوں نے دوبارہ سفر کرنا شروع کیا تو انھیں ہوائی اڈوں پر سخت حفاظتی پروٹوکول کا سامنا کرنا پڑا۔ ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی ٹیکنالوجی کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی۔ اس سب کا سیکیورٹی سسٹم بنانے والوں کے کاروبار پر بہت مثبت اثر پڑا اور اس میں ترقی دیکھی گئی۔

٭ وجود برقرار نہ رکھنے والے روّیے (Collapsed Behaviors) وہ سرگرمیاں ہیں جن کے مکمل طور پر ختم ہونے یا ان کے متبادل کے ذریعہ تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

روّیے میں تبدیلی کی پیش گوئی کیسے کی جائے؟

پہلی نظر میں، یہ پیش گوئی کرنا ناممکن ہوسکتا ہے کہ روّیے کیسے بدلیں گے۔ خوش قسمتی سے ہم عادت کی تشکیل، ٹیکنالوجی کو اپنانے اور بیہورئیل اکنامکس پر کئی دہائیوں کی تحقیق کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ آگے کیا ہوگا۔ اسٹیک ہولڈرز کے روّیے میں تبدیلی کا اندازہ لگانے میں مدد کرنے کے لیے چار عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے:

1- میکانکس: کیا روّیہ ایک عادت ہے یا کسی طرح اس میں خلل پڑسکتا ہے؟ روٹین کا حصہ بننے سے یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ روّیہ جاری رہے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ عادت کی تشکیل کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ کسی روّیے کو تبدیل کرنے میں صرف کیا گیا وقت اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہے کہ وہ اپنا لیا جائے گا۔ مثال کے طور پر، ایک ہوم ڈیلیوری کمپنی نے اپنے آرڈرز کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے کے بعدیہ دریافت کیا کہ اسے کسی کو زندگی بھر اپنا گاہک (Loyal customer) بنانے کے لیے کم از کم چار آرڈر پورے کرنے ہوں گے۔

2- موٹیویٹرز: کیا اس روّیے کو جاری رکھنے سے اہم نفسیاتی یا مالی فائدہ ہوگا؟ مثال کے طور پر، وبائی مرض کے دوران گھروں میں قیام نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم دوسرے لوگوں کو کتنا یاد کرتے ہیں۔ 

ہم ریستوران میں جاکر کھانا کھانے سے ہچکچاتے تھے لیکن دوستوں کے ساتھ کھانے کے لیے باہر جانے کے مثبت نفسیاتی فوائد اس امکان کو بڑھاتے تھے کہ ہم ریستوران کھلنے کے بعد ایک بار پھر ان کے ساتھ ہوں گے۔ نفسیاتی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ذہنی اور دلی سکون مالیاتی فوائد سے کہیں زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔

3- دباؤ: انسان عموماً وہی کرنا پسند کرتا ہے جو باقی سب کر رہے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی ہائی وے پر تیز رفتاری سے جارہا ہے، تو ہم بھی رفتار بڑھا دیتے ہیں۔ روّیوں کا اندازہ لگاتے وقت اس بات کا جائزہ لیں کہ کون لوگ ان روّیوں کو جاری رکھنے کا کہہ رہے ہیں۔

4- روّیوں کے متبادل: لوگوں کو اگر اپنے روّیے کا بہتر متبادل مل جائے تو وہ پہلے والے روّیے کو ترک کر دیں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اپنانے کا نظریہ بتاتا ہے کہ ایسے متبادل اپنائے جائیں جنہیں لوگوں نے پہلے بھی اختیار کررکھا ہے۔ مثال کے طور پر، زوم ایپ کی ایجاد وبائی مرض کے دوران نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ پہلے سے ہی استعمال کیا جا رہا تھا۔

ایک ایک کرکے ہر اسٹیک ہولڈر اور آپ کے کاروبار کو چلانے والے اہم روّیوں پر ایک نظر ڈالیں۔ کیا آپ کے پاس یہ یقین کرنے کی کوئی وجہ ہے کہ روّیہ جاری رہے گا؟ یا کیا آپ کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ یہ روّیہ تبدیل ہوسکتا ہے؟ ایسی صورت میں یہ ایک منصوبہ کے ساتھ آنے کا وقت ہے۔

مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرنا ناممکن ہے کیونکہ چیزیں تیزی سے بدل سکتی ہیں۔ اس لمحے میں، سیکھنے اور دریافت کرنے کی ذہنیت کو اپنانا ضروری ہے۔ ان سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کرنے کے بجائے جن سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم اچھی طرح سے تحقیق شدہ تھیوریوں پر بھروسہ کر سکتے ہیں، جنہوں نے طویل عرصے کے دوران روّیے کی تبدیلی کی نشاندہی کی ہے۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ ایک ایسے منصوبے تیار کیے جائیں جو کووڈ-19کے بعد کی دنیا میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کریں۔