• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی کیلئے تبدیلی قبول کرنا سیکھیں

انسان حیرت انگیز صلاحیتوں کا مالک ہے مگر پھر بھی بعض اوقات پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کے بارے میں اس کے نقطہ نظر میں الجھن ہوتی ہے۔ اگرچہ انسان پہاڑ سر کر سکتا اور آبشار سے چھلانگ لگا سکتا ہے، لیکن وہی انسان بعض اوقات اپنی عملی زندگی میں نمایاں تبدیلی لانے کے حوالے سے ایک جگہ منجمد ہوکر رہ جاتا ہے، اور یہ ایک عام بات ہے۔

اپنے طور پر ہر کوئی تبدیلی کے خوف کے مرحلے سے ضرور گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ’’کمفرٹ زون‘‘ میں رہیں، جہاں سے ناتو وہ کبھی باہر آئیں اور ناہی کوئی ان کے کمفرٹ زون سے چھیڑچھاڑ کرے۔ اگر آپ بھی اپنے کمفرٹ زون کے بارے میں ایسا سوچتے ہیں تو آپ اکیلے نہیں، بہت سارے لوگ تبدیلی سے گریز کریں گے کیونکہ ان کے خیال میں تبدیلی تکلیف دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ہارورڈ بزنس ریویو میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں تبدیلی کے خوف پر کیے گئے ایک مطالعے کا حوالہ دیا گیا ہے کہ لوگوں کے لیے تبدیلی کا انتخاب اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے، چاہے وہ اپنے کیریئر کے حوالے سے اچھی جگہ پر نہ ہوں۔

تبدیلی کے خوف کے حوالے سے ایک اچھی خبر ہے۔ جتنا آپ یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ آپ تبدیلی سے کیوں ڈرتے ہیں ، آپ اس خوف سے نمٹنے اور اس پر قابو پانے کے لیے مزید اقدامات کرپائیں گے۔ یہ کیوں ضروری ہے؟ کیونکہ آپ تبدیلی کے خوف کی وجہ سے خود کو زیادہ عرصہ ایسی جگہ یا ادارے کے ساتھ منسلک نہیں رکھ سکتے جو آپ کے لیے نقصان دہ ہو یا جو آپ کو ترقی کے مواقع فراہم کرنے میں دلچسپی نہ رکھتی ہو یا وہ جگہ آپ کو اپنی پوری صلاحیتوں کے مطابق زندگی گزارنے کا فائدہ نہ اُٹھانے دے رہی ہو۔ ہم تبدیلی سے ڈرنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے ، شاید ہم نے یہ سیکھا ہے۔ تبدیلی کا خوف بچپن کے تجربات ، خاندانی خیالات ، ذاتی نقطہ نظر، موجودہ حالات اور یہاں تک کہ لوگوں کے دماغ اور خیالات کو جس طرح ڈھالا جاتا ہے، کے نتیجے میں پیدا ہوسکتا ہے۔

اگر آپ کے والدین قدامت پسند تھے اور تبدیلی کا خوف رکھتے تھے ، تو آپ بھی یہی طرزِ عمل اختیار کرسکتے ہیں۔ نیز ، انسان فطری طور پر حالات کو قابو میں رکھنے کا خواہش مند ہوتا ہے، یہ ارتقائی عمل ہے۔ لہٰذا، تبدیلی کا خوف فطرت اور پرورش دونوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔

ہمارے دماغ کو اس طرح ڈھالا گیا ہے کہ ہم جاننے میں سکون حاصل کرتے ہیں۔ جب ہم نہیں جانتے کہ کیا ہوگا، تو ہم اپنے نقطہ نظر سے منظرنامے تخلیق کرتے ہیں اور بدلے میں اپنے لیے اضطراب اور پریشانی پیدا کرتے ہیں۔ پھر ہم ان جذبات سے بچنے کے لیے سب کچھ کرتے ہیں جیسے کہ اپنے کیریئر میں آگے بڑھنے کے مواقع سے فائدے حاصل نہیں کریں گے یااپنی اسٹارٹ- اَپ قائم نہیں کریں گے، کیوں کہ آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ نئی جگہ آپ دوست بناپائیں گے یا نہیں، وہاں آپ کو اپنے مزاج کے مطابق ساتھی کارکن ملیں گے یا نہیں، آپ وہاں طرزِ زندگی سے لطف اندوز ہوں گے یا پھر آپ کے وہی معمولات ہوں گے۔ لہٰذا ، آپ کچھ بھی نہ کر کے ان تمام نامعلوم باتوں سے بچتے ہیں۔ تبدیلی کے خوف پر قابو پانے میں آپ کی مدد کے لیے ذیل میں کچھ بصیرتیں پیش کی جارہی ہیں۔

تبدیلی اور کمزوری کو قبول کریں 

اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنا آپ کو ایسی جگہ پر رکھتا ہے، جہاں آپ اپنے خوف کا سامنا کر سکتے ہیں۔ اس طرح آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہر چیز آپ کے کنٹرول میں نہیں ہے لیکن آپ کسی بھی صورتِ حال یا حالات کا سامنا اور ان پر قابو پا نے کا انتظام کر سکتے ہیں۔ جب آپ تبدیلی کا خیرمقدم کر سکتے ہیں (اس کے تمام اچھے اور بُرے امکانات کے ساتھ)، آپ حالات پر قابو پانے اور طاقتور ہونے کا احساس دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

چھوٹےحصوں میں کام تقسیم کریں 

آپ کو حد سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ زندگی کثیرالجہتی ہوتی ہے، جیسے صحیح نوکری کی تلاش، جیون ساتھی کا انتخاب اور دیگر کئی اہم کام۔ ان تمام تبدیلیوں کے بارے میں ایک ہی وقت میں غور کرنا یقیناً انسان کو جذبات کے رَو میں بہا کر لے جاسکتا ہے اور انسان جذبات کے زیرِ اثر غلط فیصلے کرسکتا ہے۔ اس صورتِ حال سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ مختلف کاموں کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کردیں اور ایک وقت میں ایک چیز کو تبدیل کرنے پر توجہ دیں۔

آپ کیا کرنے کیلئے پیدا ہوئے ہیں؟

آپ زندگی میں واقعی کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اپنے مقصد کی وضاحت کرکے ، آپ تبدیلی کے خوف کو کم کرسکتے ہیں۔ اگر آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا چاہتے ہیں ، تو کوئی بھی فیصلہ ڈرا دینے والا ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر آپ اپنے مقصد کو سمجھتے ہیں تو پھر جب آپ کو فیصلے کرنا ہوں گے یا کوئی تبدیلی لانا ہوگی تو آپ اپنے آپ سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا یہ آپ کے مقصد کے مطابق ہوگا۔ اس سے مختلف آپشنز کو ختم کرکے کوئی ایک اور حتمی فیصلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مثبت رویہ اپنائیں

اگرچہ حتمی نتائج آپ کے قابو میں نہیں ہوتے لیکن آپ کے پاس منصوبے ضرور ہو سکتے ہیں۔ آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ایک کام میں آپ بُری طرح ناکام ہو جائیں تو آپ کیا کریں گے تاکہ اس کے اثرات کو ہر ممکن حد تک کم کر سکیں۔ نیز، ایک مثبت نقطۂ نظر رکھنے کے لیے بہترین کی امید رکھیں کیونکہ آپ کی مثبت توانائی مثبت نتائج پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ آپ کی مثبت توانائی آپ کے اردگرد ایسے لوگوں کو آپ کی طرف کھینچے گی جو مثبت توانائی رکھتے ہیں۔

پانچ افراد

زندگی میں ، آپ کے ارد گرد ہمیشہ منفی اور مثبت دونوں لوگ ہوں گے۔ کوشش کرکے خود کو ایسے پانچ لوگوں سے گھیر لیں، جو مثبت توانائی رکھتے اور آپ کا خیال رکھتے ہوں۔ اپنی زندگی میں ان لوگوں کی موجودگی کا فائدہ اُٹھائیں جو آپ کی معاونت کرتے اور درست سمت میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

اپنے آپ کو انعام دیں

اپنے آپ میں چھوٹی سے چھوٹی تبدیلی لانےپر خود کو شاباشی دینا نہ بھولیں، اپنے دماغ کو اس طرح ڈھالیں کہ آپ مثبت تبدیلیوں کی راہ پر گامزن ہیں اور ہر اچھا نتیجہ حاصل کرنے پر خود کو انعام دیں، جیسے سیر و تفریح پر جانا اور چائے کے کپ پر دوستوں کی محفل سجانا وغیرہ۔

نامعلوم کو کم کریں

کوئی بھی تبدیلی لانے پر کام شروع کرنے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھیں کہ آپ کو اس میں کس چیز سے ڈرلگ رہا ہے؟ اس کے بعد آپ ممکنہ نتائج اور پہلوؤں کو لکھ سکتے ہیں جن سے آپ سب سے زیادہ ڈررہے ہیں۔ اس فہرست سے آپ ممکنہ منفی نتائج کو کم کرنے کے لیے کچھ تحقیق کر سکتے ہیں یا کسی ایسے شخص سے بات کر سکتے ہیں جس پر آپ اعتماد کرتے ہیں۔ آپ جس چیز سے ڈرتے ہیں، اس کو جاننے سے آپ اس خوف پر قابو پا سکیں گے اور ایک حکمتِ عملی کے تحت اس کا سامنا کریں گے۔

’’یہاں اور اب‘‘ میں رہیں

اگرچہ ماضی آپ کو منفی اور مثبت دونوں تجربات فراہم کر سکتا ہے، آپ کو اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اس وقت آپ کہاں کھڑے ہیں اور یہاں سے آگے کس طرف جانا ہے۔ اپنی موجودہ صورتِ حال اور معلومات کی بنیاد پر فیصلے کریں، مستقبل بعید میں رہنا نامعلوم ہے، جس سے اضطراب میں اضافہ ہوتا ہے۔ ’’اب اور اسی وقت‘‘ میں رہنا مواقع کے دروازے کھولتا ہے۔ آپ کی نظر اس بات پر رہنی چاہیے کہ آپ آج ، آنے والے کل اور آئندہ چھ مہینوں میں کیا کر سکتے ہیں۔