• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وبا کی صورتحال پھر سنگین ہوگئی، یورپ میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز نے برطانیہ میں خطرے کی گھنٹی بجادی

لندن (وجاہت علی خان) یورپ کے بعض ممالک میں ایک دفعہ پھر تیزی سے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسسز کی وجہ سے پابندیوں اور لاک ڈائون نے برطانیہ میں بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور برطانیہ بھی یورپ کی پیروی کر سکتا ہے۔دوسری جانب برطانوی سائنسدانوں اور حکام کو یقین ہے کہ برطانیہ اس بدترین صورتحال سے محفوظ رہے گا کیونکہ برطانیہ حالیہ موسم سرما میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مضبوط پوزیشن میں ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انگلینڈ کے برعکس یورپ کے بہت سے ممالک نے زیادہ عرصہ تک کووڈ کی پابندیاں برقرار رکھی تھیں جبکہ برطانیہ جولائی کے وسط میں مکمل طور پر کھلا ہوا تھا اور یورپ کے زیادہ تر ممالک نے خزاں تک سخت پابندیاں رکھیں۔دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برطانیہ زیادہ متعدی وائرس مثلاً ’الفا ویرینٹ‘ اور ’ڈیلٹا ویرینٹ‘ سے پہلے ہی نمٹ چکا ہے جبکہ باقی یورپ میں یہ ویرینٹ اب ظاہر ہوئے ہیں، برطانوی ماہرین نے گرمی کے موسم میں پابندیاں ہٹانے کی تجویز اس لئے دی تھی کہ بہتر موسم میں زیادہ سے زیادہ وقت گھروں سے باہر گزارنے سے وائرس کے پھیلائو میں کمی ہوگی علاوہ ازیں زیادہ آبادی کو ویکسین لگانے کی شرح بھی برطانیہ بھر میں بہتر تھی بلکہ برطانیہ بوسٹر ویکسین لگانے میں بھی دیگر ملکوں کے مقابلہ میں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جس سے حالیہ سردی کے موسم میں لوگوں کو بہترین تحفظ حاصل ہو سکے گا۔ اس سلسلہ میں سرکردہ محقق ڈاکٹر لائیڈ چپ مین نے کہا کہ ہے برطانیہ نے یہ بہتر صورتحال حاصل کرنے کیلئے بڑی قیمت ادا کی ہے مغربی یورپی ممالک کے مقابلہ میں برطانیہ نے اس لئے ادا کی ہے کہ یہاں یورپ کے مقابلہ میں زیادہ سنگین بیماریاں اور بڑے پیمانے پر اموات واقع ہوئی ہیں چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ یورپ کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جس نے کم پابندیوں کے باوجود زیادہ استحکام حاصل کیا ہو۔

یورپ سے سے مزید