• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی حملوں نے قطر کی ایل این جی پیداواری صلاحیت 5 سال کیلئے 17 فیصد تک ختم کردی

قطر انرجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد الکعبی نے کہا ہے کہ ایران کے حملوں نے قطر کی ایل این جی پیداواری صلاحیت کو پانچ سال کے لیے 17 فیصد تک ختم کردیا ہے۔

غیر ملکی ایجنسی سے گفتگو میں سعد الکعبی نے کہا کہ ایرانی حملوں سے وہ تنصیبات متاثر ہوئیں جہاں سے 17 فیصد برآمدی ایل این جی تیار ہوتی تھی،  ان تنصیبات کی مرمت میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں، جبکہ مرمت کے اس کام پر 26 ارب ڈالرز لاگت آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ قطر کو ممکنہ طور پر پانچ سال کے لیے اٹلی، بیلجیم، جنوبی کوریا اور چین کے لیے ایل این جی سپلائی کے معاہدوں کو معطل کرنا پڑ سکتا ہے۔ معاہدے معطل کرنے کی یہ شق پہلے سے معاہدے کا حصہ ہوتی ہے۔ 

سعد الکعبی کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قطر بلکہ عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک بڑا بحران ثابت ہو سکتی ہے۔ قطر دنیا کو سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک ہے۔

خیال رہے کہ قطر کے راس الفان گیس پلانٹ پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں ہلچل مچ گئی۔ توانائی بحران شدت اختیار کر گیا۔ یورپ میں گیس کی قیمتوں میں 60 فیصد تک اضافہ رپورٹ کیا جارہا ہے۔ خلیجی ملکوں میں توانائی تنصیبات پر حملوں سے عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید