• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چینل میں 27 تارکین وطن کی ہلاکت، برطانوی حکومت کا انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

لندن، پیرس (پی اے، ایجنسیاں)چینل عبور کرتے ہوئے 27افرادکے ڈوب کر ہلاک ہونے کے واقعے کے بعد برطانوی حکومت نے انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈائون کاحکم دیاہے،امیگریشن سے متعلق امور کے وزیر کیون فوسٹر نےایک ہی واقعے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت پر کہا کہ برطانیہ ،فرانس اورپورے یورپ کو مل کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ،اس کراسنگ کے حوالے ایک پانچویں شخص کو گرفتار کرلیا گیاہے ،ہلاک شدگان میں 6خواتین بھی شامل ہیں،اس سے پہلے اطلاع دی گئی تھی کہ 31 افراد ہلاک ہوئے تھے،لیکن جمعرات کی رات کو تعداد پر نظرثانی کی گئی،امیگریشن کے وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ سفاک جرائم پیشہ عناصر مخدوش کشتیوںپر مناسب اکیوئپمنٹ کے بغیر لوگوں کو چینل کے خطرناک پانی میں بھیج رہے ہیں۔ ان کشتیوں کاانتظام کرنے والے صرف چینل کراس کرنے والوں کو دیکھتے ہیں کیونکہ یہ ان کیلئے منافع کمانے کا موقع ہوتا ہے ،ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی شناخت معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مائیگریشن سے متعلق بین الاقوامی تنظیم نے 2014 کے بعد سے چینل میں انسانی جانوں کے زیاں کا یہ سب سے سنگین واقعہ قرار دیا ہے ۔وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ اس حادثے کی خبر سن کر انھیں بہت دکھ ہوا ہے انھوں نے کہا کہ برطانوی حکومت انسانی اسمگلنگ کے گینگز کو روکنے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی، انھوں نے کہا کہ اگرچہ اور فرانس اور برطانیہ کے درمیان ایک معاہدہ موجود ہے لیکن اس حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ فرانس کو صورتحال کے مدنظر کارروائی کرنے پر مجبور کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہے ،بدھ کو کوبرا اجلاس کے بعد وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ فرانس مائیگرنٹ کی کشتیوں کوروکنے کیلئے مناسب اقدامات نہیں کررہاہے انھوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ فرانس اپنے ساحل کے ساتھ مشترکہ گشت کی پیشکش کو قبول کرلے گا۔ برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل اس المیے پر فرانسیسی وزیر داخلہ سے بات کریں گی۔ دوسری جانب دھر فرانسیسی حکام نے کہا ہے کہ فرانس کے صدر میکرون نے وزیر اعظم بورس جانسن سے کہا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ برطانیہ مکمل تعاون کرے گا ۔برطانیہ نے ساحل کے ساتھ پولیس کا گشت بڑھانے ،فضائی نگرانی میں اضافہ کرنے اوربندرگاہوں پر سیکورٹی انفرااسٹرکچر میں اضافہ کرنے کیلئے فرانس کو54 ملین پونڈ ادا کرنے کاوعدہ کیاہے۔صدر میکرون کاکہناہے کہ ہم چینل کو قبرستان نہیں بناسکتے ۔انھوں نے بتایا کہ رواں سال کے آغاز کے بعد سے اب تک جنوبی فرانس سے1552اسمگلر گرفتار کئے جاچکے ہیں اور اسمگلروں کے44نیٹ ورک تباہ کئے جاچکے ہیں اس کے باوجود اس سال چینل عبور کرکے برطانیہ پہنچنے کی 47ہزار کوششیں کی جاچکی ہیں اور7800مائیگرنٹس کو بچایا جاچکاہے۔ صدر میکرون نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمگلر انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں ،فرانس سے برطانیہ جانے والے مشہور سمندری چینل کو پناہ گزینوں کا قبرستان نہیں بننے دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روزفرانس سے برطانیہ جانے والے غیرقانونی تارکینِ وطن کی کشتی کے چینل میں الٹنے سے 5 خواتین سمیت 27افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے ، جسے 2014 کے بعد تارکین وطن کے ڈوبنے کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا جارہا ہے، تارکین فرانس سے برطانیہ جارہے تھے کہ ان کی بوٹ الٹ کر ڈوب گئی اوردرجنوں لقمہ اجل بن گئے۔ ایک مقامی ماہی گیر نے الٹی کشتی کے قریب بے حس و حرکت انسانوں کو دیکھ کر مقامی انتظامیہ کو اطلاع دی ۔ جس کے بعد تلاش کیلئے مشن میں تین ہیلی کاپٹر زاور تین کشتیاں استعمال کی گئیں، امدادی اداروں نے دو افراد کو زندہ بچانے کی تصدیق کی ہے۔

یورپ سے سے مزید