اسکاٹ لینڈ کے گلاسگو اسکول آف آرٹ کی طالبہ ایملیا ایوانز-منٹن نے تقریباً 200 فٹ کورڈرائے کپڑے استعمال کرتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا کھلونا سوکس منکی (موزے والا بندر) تیار کیا ہے۔
22 سالہ ایملیا نے بتایا کہ یہ منصوبہ دراصل ان کے ڈگری شو کے لیے ایک شوقیہ پراجیکٹ تھا لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا سوکس منکی بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ والد نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس کارنامے کو گنیز ورلڈ ریکارڈز سے رجسٹر کروائیں۔
یہ دیوہیکل کھلونا 40 بھوسے کے گٹھوں سے بھرا گیا اور اس کی لمبائی 49 فٹ 6 انچ ہے۔ ایملیا کے مطابق ان کی فنکارانہ سوچ کا بڑا حصہ "پیمانے" پر مرکوز ہے تاکہ بالغ افراد بھی اس بڑے مجسمے کے سامنے خود کو چھوٹا محسوس کریں اور اپنے اندر چھپی ہوئی بچپن کی حیرت کو دوبارہ دریافت کریں۔
اس بندر کی آنکھوں کے لیے ایملیا نے ری سائیکل شدہ لکڑی سے بنے بڑے بٹن استعمال کیے، جن کا قطر 1.5 میٹر (5 فٹ) تھا۔
یہ منفرد تخلیق عوام کے سامنے فیلڈ مینیوورز فیسٹیول، نورفولک، انگلینڈ میں پیش کی گئی، جہاں لوگوں کو اس کے ساتھ کھیلنے اور تعامل کرنے کی ترغیب دی گئی۔
ایملیا کا کہنا تھا، "جتنا زیادہ کوئی نرم کھلونا دب جاتا ہے یا اپنی شکل کھو دیتا ہے، اتنا ہی زیادہ وہ پیار کیا گیا ہوتا ہے۔ لوگوں کی شرکت اس محبت کو دوبارہ زندہ کرتی ہے اور سوکس منکی کو نئی چاہت ملتی ہے۔"
فی الحال اس بندر کا بھوسہ نکال دیا گیا ہے اور اسے ایملیا کی نانی کے اٹاری میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔