• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاروبار میں کیش فلو کس طرح متاثر ہوسکتا ہے؟

کاروبار کرنے والے لوگ اکثر بہت سی کاروباری سرگرمیوں میں گھرے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے پاس کیش فلو کو منظم کرنے یا کمپنی کے مالی معاملات پر اپنا سر کھجانے کے لیے بہت کم وقت بچتا ہے۔ دوسری طرف، کمپنی کے مالی معاملات کا نظام درست طریقے سے نہ چلانا کسی بھی کاروبار کی ناکامی کا باعث بن سکتا ہے۔ 

اگرچہ آپ کے پاس بہترین خیالات ہوں اور آپ کی کمپنی پہلے دن سے ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو لیکن اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ 80فیصد کاروبار، چاہے وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، بالآخر ناکام ہوجاتے ہیں یا انھیں بند کرنا پڑجاتا ہے، صرف اس وجہ سے کہ وہ اپنے کیش فلو کو منظم نہیں کر سکتے۔ ساتھ ہی کچھ پوشیدہ اخراجات جن کا ادراک نہیں کیا جا سکتا، کیش فلو پر منفی اثر ڈالتے ہیں اور ان کا انتظام کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں کیش فلو کی کچھ ایسی ہی غلطیوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو کاروبار کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

کاروبار کا آغاز

کاروبار کے آغاز پر زائد عملہ رکھنے، بڑا دفتر حاصل کرنے، نئی مصنوعات کی فراہمی وغیرہ پر ضرورت سے زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ کوشش کرکے ایسے اقدامات اور اخراجات کرنے چاہئیں تاکہ آپ کے روزمرہ کاموں کے لیے رقم کی دستیابی پر اثر نہ پڑے۔ وقت کے ساتھ کیش فلو کا مؤثر انداز میں حساب رکھنا آپ کو ضروری حالات میں رقم کی دستیابی میں مدد کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، عموماً دیکھا گیا ہے کہ کاروبار کے آغاز پر لوگ سوشل میڈیا مارکیٹنگ پر زیادہ پیسہ خرچ کردیتے ہیں مگر اس حساب سے ان کو آمدنی نہیں ہوپاتی۔ یوں اپنی کمائی سے زیادہ خرچ کرنے پر ان کے کیش فلو کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ کمپنیوں کو اس کا فائدہ بھی ہو لیکن اس کی شرح کم ہے۔

سیلز پر زائد رقم خرچ کرنا

چھوٹے کاروبار کے لیے نقصان اٹھانے کے باوجود صارفین کی توجہ حاصل کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ اس میں دو باتیں ہوتی ہیں، ایک تو صارفین کی توجہ حاصل کرنے پر صرف ہونے والی رقم اور دوسرا اس کی 'لائف ٹائم ویلیو (صارفین کے ذریعے طویل مدت تک حاصل ہونے والی کل آمدنی)۔ اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ لائف ٹائم ویلیو، صارفین کی توجہ حاصل کرنے پر آنے والی لاگت سے زیادہ ہو۔ اس طرح کمپنی کے کیش فلو پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ صارفین بنانے پر زائد رقم خرچ کرنا ممکن ہے کہ صارفین کی کم تعداد اور کم آمدنی کا باعث بنے۔ 

بہت سے کاروباری لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جتنے زیادہ صارفین ہوں گے، منافع بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ صارفین کو متوجہ کرنے پر بہت سے پوشیدہ اخراجات بھی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سیلز پرسن کی تنخواہ، اس کے موبائل اور انٹرنیٹ کنکشن پر خرچ کی گئی رقم، دفتر میں اس کی سیٹ کی قیمت، اس کے کمیشن وغیرہ۔ لہٰذا لاگت کا صحیح حساب لگانے کے لیے ان تمام بالواسطہ اخراجات کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو نادانستہ طور پر آمدنی سے زیادہ رقم خرچ ہوسکتی ہے، جس سے کیش فلو متاثر ہوسکتا ہے۔

منافع کا غلط حساب

کئی بار کاروبار میں ایسا لگتا ہے کہ ہر لین دین سے کافی منافع ہورہا ہے۔ تاہم، پھر بھی تمام سائز کے بیشتر کاروبار نقد رقم کی شدید پریشانیوں کا شکار رہتے ہیں کیونکہ ان کے اوور ہیڈاخراجات بہت ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ کمپنی کے لیے مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ اخراجات کو برقرار رکھے کیونکہ اس طرح تمام نقدی ختم ہوجاتی ہے۔ کمپنی کی ترقی کے لیے اخراجات اور ان کے نتائج کا اندازہ لگانا ضروری ہے۔ وہ تب ہی منافع بخش ہو سکتی ہے جب تمام اخراجات کی ادائیگی کے بعد بینک کھاتوں میں کافی رقم باقی ہو۔

موسمی نوعیت نظر انداز کرنا

یہ ایسے کاروباروں پر لاگو ہوتا ہے، جن کا کام سال بھر کا نہیں ہوتا۔ یہ کاروبار اپنے عروج کے دور میں بہت زیادہ آمدنی کماتے ہیں،مگر ساتھ ہی انھیں روزانہ کیش فلو کو سنبھالنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب آمدنی سے بھرپور سیزن شروع ہوتا ہے، تو اس میں آف سیزن اخراجات کا بھی تعین کرنا پڑتا ہے جیسے کہ خریداری کے لیے صارفین کو رعایتیں اور پیشکشیں دینا تاکہ اپنا منافع کم کرتے ہوئے سیلز کی سطح کچھ حد تک برقرارکھی جاسکے۔ آپ کے مالیاتی پلان میں آف سیزن کے لیے کافی انتظامات ہونے چاہئیں تاکہ سارا سال بآسانی کیش فلو منیج کیا جاسکے۔

دیر سے ادائیگیاں

سیلز کے بعد رقم کی دیر سے وصولی کاروبار کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ بظاہر یہ معمولی بات لگتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب صارفین ادائیگیوں میں تاخیر کرتے ہیں تو آپ کو اپنے وینڈر کو ادائیگی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ، اگر وینڈر اپنی رقم کے لیے انتظار نہیں کرتا تو اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے کمپنی کو اسے ادائیگی کرنا پڑے گی۔ نتیجتاً ورکنگ کیپیٹل میں کمپنی کے فنڈز کا ایک بڑا حصہ بلاک ہوجائے گا اور وہ آپریٹنگ اخراجات بآسانی نہیں کر پائے گی۔

ٹیکسوں کا غلط انتظام

ٹیکس قانونی ذمہ داریاں ہیں جنہیں لازمی وقت پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر تاریخ پر ٹیکس ادا نہ کیا جائے تو جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔ ٹیکس کی تخمینی رقم کی نشاندہی کرنے میں ماہر ٹیکس کنسلٹنٹ کی مدد لی جاسکتی ہے۔ٹیکسوں کی شرح میں تبدیلی کیش فلو کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کی مصنوعات یا خدمات کو پہلے ٹیکس سے استثنیٰ یا رعایت دی گئی ہو اور بعد میں اسے قابل ٹیکس کردیا جائے۔ لہٰذا، کسی بھی ایسی غیریقینی صورتحال کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہمیشہ دانشمندانہ ہوتا ہے۔

ناگہانی حالات کیلئے رقم نہ رکھنا

ناگہانی صورتحال پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوتا اور یہ بالکل غیر متوقع اخراجات کا باعث بنتی ہے۔ اس کی وجہ سے کمپنی کا کیش فلو شدید متاثر ہوسکتا ہے۔ قدرتی آفت ملک میں یا اس جغرافیائی زون میں افراتفری کا باعث بن سکتی ہے، جس میں کمپنی کام کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، آپ کی کمپنی کے باصلاحیت ملازم کا کمپنی چھوڑنا یا آپ کے صارفین کی طرف سے منفی شکایات موصول ہونا، یہ ایسی چیزیں ہیں جن کا پہلے سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور بالآخر کاروبار کو کافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کسی بھی کمپنی کو ان حالات یا حادثات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک ہنگامی منصوبہ ہونا چاہیے۔

ملازمت کیلئے غلط بھرتی

اگر کسی کمپنی میں ملازمت پر درست بندے کا انتخاب نہیں کیا جاتا تو ان کی تنخواہ اور دوران ملازمت تربیت پر آنے والی رقم ضائع ہوجاتی ہے، جس سے کیش فلو کو نقصان پہنچتا ہے۔ ساتھ ہی نئے سرے سے کسی دوسرے شخص کو بھرتی کرنا اور اسے تربیت دینا وقت کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔

متفرق پوشیدہ اخراجات

کچھ اخراجات شروع میں غیر معمولی لگتے ہیں، لیکن عام طور پر سالہا سال جمع ہوتے رہتے ہیں اور جب یہ اثر انداز ہوتے ہیں تو ان کا کمپنی کے کیش فلو پر کافی اثر پڑتا ہے۔ ان اخراجات میں انشورنس کوریج، کریڈٹ کارڈ کے واجبات، پرمٹ/ لائسنس، تجارتی اور قانونی فیس، سامان پر ڈٹینشن چارجز وغیرہ شامل ہیں۔ ان اضافی اخراجات کا پہلے سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا لیکن اس کا نتیجہ مالکان یا منیجرز کی کم علمی یا آگہی کی کمی کی وجہ سے منفی نکل سکتا ہے۔

حرفِ آخر

اخراجات پانی کی طرح ہوتے ہیں لیکن اگر کمپنی کے پاس ایک مناسب مالیاتی منصوبہ ہے جو ہر قسم کے اخراجات (خواہ وہ ضروری ہوں، ہنگامی حالات ہوں یا پہلے سے سوچے سمجھے ہوں) کا تخمینہ لگاسکتا ہے تو یہ کمپنی کے لیے ہمیشہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس سے مالکان کو ہر قسم کے حالات کے لیے تیار رہنے اور ورکنگ کیپیٹل کے زائد استعمال سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ مندرجہ بالا غلطیوں پر قابو پاتے ہوئے کیش فلو کی متوقع پریشانی سے بچا جاسکتا ہے۔