• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی عدالتِ عظمیٰ کے احاطے سے باہر آ گئے، جس کے بعد نیب نے انہیں گرفتار کر لیا۔

اس موقع پر آغا سراج درانی نے کہا کہ میں پہلے بھی مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا، میں گرفتاری سے نہیں ڈرتا، سپریم کورٹ سے ریلیف مل سکتا تھا، اس لیے یہاں آئے تھے۔

نیب حکام کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو پہلے میڈیکل چیک اپ کے لیے پمز لے جایا جائے گا، میڈیکل چیک اپ کے بعد راہداری ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت لے جایا جائے گا۔

آغا سراج درانی عدالت کے حکم کے بعد سے اب تک سپریم کورٹ کے احاطے میں موجود تھے۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کو گرفتار کرنے کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر شعیب احمد اور ڈپٹی ڈائریکٹر آصف خان کی سربراہی میں نیب کی ٹیم سپریم کورٹ پہنچی تھی۔

مسجد میں رہ لیں گے، بلکہ نماز بھی پڑھیں گے

سپریم کورٹ کے احاطے میں آغا سراج درانی کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تحریری حکم نامہ آنے کا انتظار ہے، پھر باہر جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے کہا ہے کہ ٹرائل کورٹ میں سرینڈر کریں، آرڈر کا انتظار کر رہا ہوں۔

صحافی نے آغا سراج درانی سے سوال کیا کہ اگر آرڈر رات بھر نہ آیا تو کیا آپ یہیں رہیں گے؟ ایک اور شخص بھی یہاں رات بھر مسجد میں رہا تھا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے جواب دیا کہ ہم بھی مسجد میں رہ لیں گے، بلکہ نماز بھی پڑھیں گے۔

سپریم کورٹ کا سراج درانی کو سرینڈر کرنے کا حکم

اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے سرینڈر کرنے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی پہلے سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کریں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا کہنا تھا کہ آغا سراج درانی نیب کو گرفتاری دیں، ان کا کیس اگلے ہفتے سنیں گے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ نے میرٹ پر آغا سراج درانی کی ضمانت منسوخ کی۔

سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کے بغیر سپریم کورٹ اس معاملے پر سماعت نہیں کرے گی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے آغا سراج کے وکیل سے کہا تھا کہ جب ہائی کورٹ نے ضمانت منسوخ کی تو آپ کے مؤکل کو جیل میں ہونا چاہیئے تھا، آغا سراج درانی نے گرفتاری کیوں نہیں دی؟ ہم آپ کو خصوصی رعایت کیوں دیں؟

جسٹس عمر عطاء بندیال نے آغا سراج کے وکیل عامر رضا نقوی سے کہا تھا کہ اب نیب کا نیا قانون آ چکا ہے، نئے قانون میں ضمانت کا فورم طے کیا جا چکا ہے، ایک مسئلہ ہے کہ آپ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف آئے ہیں۔

سراج درانی کے وکیل عامر رضا نقوی کا کہنا تھا کہ ہم نے آپ کے سامنے خود کو سرینڈر کر دیا ہے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ نہیں نیب کے سامنے سرینڈر کریں، ہم نے پہلے بھی آپ کو رعایت دی تھی۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ آپ کے خلاف کھڑا ہے۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ عامر رضا نقوی نے استدعا کی تھی کہ ہمیں ٹرائل کورٹ میں دوبارہ ضمانت کے لیے رجوع کرنے کی اجازت دی جائے، سپریم کورٹ کو اختیار حاصل ہے، عدالتِ عظمیٰ ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرے۔

جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے اختیارات کا علم ہے، ہمیں پتہ ہے کہ کہاں اپنا اختیار استعمال کرنا ہے اور کہاں نہیں۔

وکیل نے کہا کہ بیانِ حلفی دے دیتے ہیں، سپریم کورٹ سے گرفتار نہ کیا جائے، خود سندھ میں گرفتاری دیں گے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا تھا کہ ہم نیب کے امور میں مداخلت نہیں کریں گے۔

نیب کے وکیل نے کہا تھا کہ ہماری ٹیم سراج درانی کے گھر 24 گھنٹے بیٹھی رہی، نیب کی ٹیم کو سراج درانی کے گھر میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا تھا کہ یہ نیب کا اپنا معاملہ ہے، ہم گرفتاری کے معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔

سپریم کورٹ نے آغا سراج درانی کو احاطۂ عدالت سے گرفتار نہ کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی تھی۔

واضح رہے کہ آغا سراج درانی نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی سمیت 11 ملزمان کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی تھی۔

نیب کی جانب سے الزام ہے کہ آغا سراج درانی نے غیر قانونی آمدنی سے بچوں کے نام پراپرٹی خریدی ہے۔

درخواستِ ضمانت مسترد ہونے کے بعد اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گرفتاری کے لیے نیب کی ٹیموں نے چھاپے مارنا شروع کر دیے جبکہ آغا سراج اس دوران روپوش ہو گئے تھے۔

عدالت کے فیصلے پر آغا سراج نے کیا کہا؟

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے سپریم کورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم قانون کی پیروی کرتے ہیں، ہماری قیادت نے ہمیں قانون کی پاسداری سکھائی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ ریلیف لینے کے لیے آئے ہیں، ہمیشہ مانتے آئے ہیں، عدالتوں میں پہلی بار نہیں آئے۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے یہ بھی کہا کہ اسمبلی کا اجلاس نہیں بلا سکتا، اسمبلی اپنے طریقۂ کار سے چلتی ہے۔

ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آپ گرفتاری یہاں دیں گے یا سندھ جا کر دیں گے؟

آغا سراج درانی نے جواب دیا کہ عدالت سے باہر نکلیں گے تو پتہ چلے گا کہ کہاں سے گرفتار ہونا ہے۔

قومی خبریں سے مزید