• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پرانتھا کمارا کے حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، فیکٹری مالک

سیالکوٹ میں فیکٹری ملازمین کے ہاتھوں قتل ہونے والے منیجر کے حوالے سے فیکٹری مالک کا موقف سامنے آگیا، انہوں نے کہا کہ پرانتھا کمارا کےحوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی۔

فیکٹری مالک نے کہا کہ جب اس معاملے کی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کے ہتھےچڑھ گیا تھا۔

فیکٹری مالک کا کہنا ہے کہ پولیس کو تقریباً صبح پونے 11 بجے اطلاع دی تھی، جب پولیس پہنچی تو نفری کم تھی۔

پرانتھا کمارا نے 2013 میں بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا تھا، پرانتھا کمارا محنتی اور ایماندار پروڈکشن منیجر تھے۔

فیکٹری مالک نے مزید کہا کہ پولیس کی مزید نفری پہنچنے سے پہلے پرانتھا ہلاک ہوچکا تھا۔

واضح رہے کہ سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کے تشدد سے ہلاک ہوگیا تھا، مشتعل افراد نے لاش کو سڑک پر گھسیٹا اور آگ لگادی تھی۔

مشتعل افراد کا دعویٰ تھا کہ مقتول نے مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے تھے، مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

ڈی پی او کا کہنا ہے کہ غیرملکی منیجر کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔

عثمان بزدار نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

بطور مسلمان سیالکوٹ واقعے پر شرمندہ ہوں، طاہر اشرفی

طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعے کی مذمت کرتے ہیں، بطور مسلمان اس واقعے پر شرمندہ ہوں، ان افراد نے اسلام کو مسخ کیا۔

طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ایسا کرنےوالوں نے اسلام کو بدنام کیا ہے، توہین مذہب کے قوانین موجود ہیں، جو بھی مجرم ہیں ان کو چھوڑا نہیں جائےگا، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائےگا۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ جن عناصر نے یہ کام کیا انہوں نے کوئی خدمت نہیں کی بلکہ توہین مذہب سے متعلق قانون کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ کوئی ایک ایف آئی آر بھی توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کی درج نہیں کی گئی، اسی ہفتے سری لنکا کے سفارتخانے میں تمام مکاتب فکر کے افراد تعزیت کیلیے جائیں گے۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ اب تک 50 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، سی سی ٹی وی ویڈیو کی مدد سے دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

پولیس کی غفلت نظر آئی تو کارروائی کریں گے، حسان خاور

ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعے پر ہم فیکٹس کو دیکھ رہے ہیں، اگر پولیس کی غفلت یا کوتاہی سامنے آئی تو فوری کارروائی ہوگی۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حسان خاور نے کہا کہ 48 گھنٹے میں انکوائری رپورٹ طلب کی گئی ہے، ملزموں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دیں گے۔

حسان خاور نے کہا کہ فون کال اور پولیس رسپانس میں 20 منٹ کا وقت لگا ہے، 48 گھنٹوں میں اس بات کا تعین کریں گے کہ کیا کسی سرکاری افسر کی کوئی کوتاہی تھی یا نہیں۔

سیالکوٹ واقعے پر ٹی ایل پی کا موقف

تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی ) نے سیالکوٹ واقعے پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ واقعہ افسوس ناک ہے، اس کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

ترجمان ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعے کو تحریک لبیک پاکستان سے منسوب کرنا بھی افسوس ناک ہے، سیالکوٹ واقعہ کا پس منظر اور سازش سمیت تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر غیر جانبدارنہ تحقیقات کی جائیں۔

ٹی ایل پی نے کہا کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث کرداروں کو گرفتار کرکے سامنے لایا جائے، ملک میں قانون کی بالا دستی ہوگی تو کسی کو قانون ہاتھ میں لینےکی جرات نہیں ہوگی۔

ترجمان ٹی ایل پی نے کہا کہ ملک کسی خون خرابے اور فساد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

قومی خبریں سے مزید