• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے کافی سوچ بچار ہورہا ہے اور اس حوالے سے گزشتہ سالوں میں کچھ اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ کاربن کا اخراج ایک حقیقت ہے، جس کے خاتمے کے لیے سب کو اپنی اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔ درحقیقت، ایک طرف دنیا نے جہاں تیزرفتار صنعتی ترقی کی ہے، وہیں اس کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسز اور کاربن کے اخراج میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ایسی ہی ایک صنعت اسٹیل کی بھی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اسٹیل کی عالمی منڈی 2.5ٹن ٹریلین ڈالر سے زائد ہے اور یہ عالمی اخراج (Global emission) کا تقریباً 9فیصد پیدا کرتی ہے۔ 

اسٹیل کی تیاری میں کاربن کے اخراج کی مقدار اس کی پیداوار کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہوتی ہے۔ اسٹیل کی پیداوار فیڈ اسٹاک اور ایندھن دونوں کے طور پر کوئلے پر انحصار کرتی ہے۔ سیمنٹ کے برعکس، اسٹیل کی پیداوار کے عمل میں کاربن کا اخراج تیاری کے مختلف مراحل میں ہوتا ہے۔ اسٹیل کے پیداواری عمل میں متعدد بھٹیاں اور ذیلی یونٹ شامل ہوتے ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑے بلاسٹ فرنس اور آن سائٹ پاور پلانٹ ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کسی بھی صنعت میں گرین ہاؤس گیسز اور کاربن کے اخراج میں کمی پر عمل درآمد کیسے کیا جائے؟ کیا سپلائی میں خلل پیدا کردیا جائےاور اس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں مصنوعات اور ملازمتوں کا نقصان ہوجائے یا پھر ایک منصفانہ منتقلی کی جائے، جہاں ملازمتیں بھی برقرار رہیں اور ملازمین کو نئی ماحول دوست معیشت کے لیے تربیت دی جائے؟ اسٹیل کی صنعت ماحول دوست معیشت کا کلیدی حصہ ہے۔ ونڈ ٹربائن، بجلی سے چلنے والی گاڑیوں اور ماحول دوست مستقبل کی دیگر تمام مصنوعات کے لیے اسٹیل کی ضرورت ہوگی۔

اسٹیل کی صنعت میں ماحول دوست اقدامات کے نتیجے میں نوکریاں ختم ہونے کے بجائے ان کی نوعیت بدل جائے گی، مثلاً کچھ نوکریاں سہولت فراہم کرنے والی صنعتوں جیسے کہ ہائیڈروجن میں نکل آئیں گی، لیکن بہت سی نوکریاں پھر بھی اسٹیل کی صنعت کے مرکزی دھارے میں ہی رہیں گی۔ کلیدی بات یہ ہے کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ان نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل تعاون کی ضرورت ہوگی۔ 

اسٹیل کی صنعت کچھ انتہائی پسماندہ کمیونٹیز میں ہزاروں اعلیٰ معیار کی ملازمتیں فراہم کرتی ہے۔ اس صنعت میں روزگار کے بہتر مواقع اور تنخواہیں اچھی ہوتی ہیں، ساتھ ہی فیملیز اور کمیونٹیز کی مدد بھی کی جاتی ہے۔ لہٰذا، دنیا میں کوئی بھی شخص یا کمپنی ایسی ملازمتوں سے کسی بھی حالت میں محروم نہیں ہونا چاہتا۔

اسٹیل کی صنعت کو مستقبل کے تحفظ کے لیے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ماحول دوست طریقوں پر چل کر اسٹیل کیسے بنایا جائے۔ نہ تو اس صنعت سے وابستہ انٹرپرینیورز اور نہ ہی حکومتیں اس ذمہ داری سے دستبردار ہو سکتی ہیں۔ انھیں ماحول دوست اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیل انڈسٹری کو درکار سرمایہ کاری مہیا کرنے ہوگی۔

موجودہ اسٹیل پلانٹس کو ڈی -کاربنائز کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ذخیرہ کیا جائے۔ بعض صورتوں میں، تعمیراتی مواد تیار کرنے کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پانی اور پلانٹ کے فضلے کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے، جسے سلیگ کہا جاتا ہے۔ اس طرح اسٹیل کی صنعت کو اضافی آمدنی بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ دنیا کی ایک نامور اسٹیل بنانی والی کمپنی میں اس حوالے سے کچھ مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، فروخت ہونے والے ہر خالص ٹن اسٹیل پر کاربن سرچارج لگایا گیا ہے، اس سے حاصل ہونے والی رقم اسٹیل کے شعبے کو ڈی-کاربنائز کرنے میں مدد پر خرچ کی جاتی ہے۔ 

اس کے علاوہ، کچھ مزید تبدیلیاں بھی لائی جارہی ہیں، جیسے کہ توانائی کی بچت کرنے والے لائٹ بلب استعمال کرنا۔ بظاہر یہ کوئی بڑی تبدیلی معلوم نہیں ہوتی لیکن اس کا مجموعی اثر پڑتا ہے۔ دنیا بھر میں توانائی کی زیادہ لاگت اسٹیل کی صنعت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے جبکہ اس کے برعکس اسٹیل بنانے کے لیے تمام قابل عمل کم کاربن اخراج والے حل کے استعمال میں زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے۔ لہٰذا، یہ ضروری ہے کہ بجلی کی قیمتیں اس حد تک رکھی جائیں کہ جب الیکٹرک آرک ٹیکنالوجی یا کسی دوسری ٹیکنالوجی کا استعمال ہو تو یہ ایک پائیدار کاروباری ماڈل رہے۔

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ مستقبل ہائیڈروجن اسٹیل سازی کا ہوگا۔ لیکن اس کو حقیقت بنانے کے لیے حکومتی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بنیادی ڈھانچہ موجود ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ پہلا قدم کون اٹھائے؟ کیا کمپنیاں ہائیڈروجن پر منتقل ہوں گی یا پہلے حکومتیں بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کا عہد کریں گی؟ بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ چلنے اور نئی پیشرفت پر رد عمل ظاہر کرنے کا مطلب ہے کہ مسلسل موافقت، ردِ عمل اور موسمیاتی بحران مل کر جدت، سرمایہ کاری اور اختراعی سوچ کی ایک نئی لہر کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 

ہم جانتے ہیں کہ ہمارے سیارے کو پہنچنے والے نقصان کو محدود کرنے کے لیے ہمارے پاس وقت تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ اگر وقت کے ساتھ لائحہ عمل ترتیب نہ دیا گیا تو بعد میں اس کے سنگین نتائج برآمد ہونے کے امکانات ہیں۔