• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی کی جرأت نہیں تھی مجھ سے رابطہ کرتا نہ اب کوئی کر سکتا ہے،ثاقب نثار

کراچی (ٹی وی رپورٹ)سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نےانکشاف کیا ہے کہ کسی کی جرأت نہیں تھی مجھ سے رابطہ کرتا اور نہ اب کوئی کر سکتا ہے، رانا شمیم سے جو میری آخری گفتگو ہوئی وہ یہ تھی کہ آپ کی وجہ سے میری توسیع نہیں ہوئی،میں نے انہیں کہا کہ ایکسٹینشن تو میرا اختیار نہیں ہے وہ توحکومت کا ہے میں کیسے کرسکتا ہوں

ریلوے کے معاملات کلیئر تھے خواجہ سعد رفیق کے لئے اس سے بڑی کلیئرنس نہیں ہوسکتی کہ ان کے معاملات کلیئر تھے اسی لئے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی،ہمارے ملک میں ایسے ڈاکٹرز ہیں جو باہر سے لاکھوں کروڑوں چھوڑ کر ادھر آتے ہیں خدمت کرتے ہیں ۔

اکیلے وہ ڈاکٹر سعید تو نہیں تھے، آپ ایک ایک جج جو ہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان سے پوچھ لیں کیا کبھی ان سے کسی کی سفار ش کی کیاکبھی کہا کہ اس کے خلاف اس کے حق میں ہوجاؤ،دو دفعہ جسٹس شوکت صدیقی نے ان سے رابطہ کیا ملنے کی کوشش کی ۔ کہتے ہیں میں دانستہ نہیں ملا مجھے پتہ تھایہ کس لئے ملنا چاہ رہے ہیں اگر میں ملتا تو وہ بھی آج اسکینڈل بنا ہوتااور ان کو بھی مجھ سے رابطہ نہیں کرنا چاہئے تھاکیونکہ ان کا معاملہ ہمارے پاس تھا سپریم جوڈیشل کونسل میں تھا۔

صحافی نعیم اشرف بٹ نے کہا کہ پہلی مرتبہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکی وہ گفتگو جو اس سے پہلے کسی نے سنی نہ دیکھی وہ آج بتائیں گے ۔ ان کی یہ گفتگو ان کے قریبی ذرائع سے نجی ٹی وی تک پہنچی ہے ۔

اس میں وہ تمام معاملا ت ہیں جواس وقت بھی ایشوز بنے ہیں او ر جو اس وقت بھی تھے جب وہ چیف جسٹس تھے ۔ تقریباً کوئی نو دس معاملات ہیں تو آغاز لیتے ہیں ایک بڑے کیس سے جس کا بڑا چرچا رہاحتیٰ کہ سابق وزیراعظم نواز شریف ان کو سزا بھی ہوئی پاناما کیس سے اسٹارٹ لیتے ہیں۔پاناما کیس پر جب سابق چیف جسٹس سے قریبی ذرائع کی گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاناما کیس سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔ انہوں نے بالکل جان کر اس سے دوری اختیار کی وہ اس سے دور رہے وہ اس بنچ میں شامل ہوسکتے تھے جنہوں نے پاناما کے حوالے سے تمام فیصلے کئے جے آئی ٹی بنائی اس کے بعد دیکھتے رہے۔

لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ مانیٹرنگ جج اور باقی جو معاملات تھے روز کی سماعت ہونا یہ تمام معاملات آپ دیکھ رہے تھےتوانہوں نے کہا کہ میں بنچ سے دور ضرور تھالیکن یہ بھی بات ہے کہ میں بطور چیف جسٹس تمام تر چیزوں کا ذمہ دار ہوں اور تھا۔

یعنی میں اس سے بھاگ نہیں رہاادارے کا میں سربراہ تھا۔سب لوگ میرے ساتھی تھے ٹھیک ہے میں اس بنچ کا حصہ نہیں لیکن ذمہ داری میں لیتا ہوں جو بھی اس وقت ہوااور وہ اس لئے تھامانیٹرنگ جج کا معاملہ کیوں کہ اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اور یہ خدشہ تھا کہ کسی بھی طرح کیس پر اثر انداز ہوسکتے ہیں اس لئے مانیٹرنگ جج بھی ہوا۔

پھر چھ ماہ میں فیصلہ ہونا تھاوہ نہیں ہوااس لئے اس کو تیز کرنے کے لئے اور سماعت ہوئی۔جب ان سے پوچھا کہ اسی طرح کا کیس تھوڑا سا ملتا جلتا عمران خان کا تھااور وہ دو کیسز تھے اس میں آپ آگئے اس میں انہوں نے جواب دیا کہ بالکل اس میں مجھے آنا اس لئے تھا کہ جو پاناما کیس میں ججز تھے جسٹس آصف سعید کھوسہ اور دوسرے جو ججز تھے وہ اس میں تھے تو وہ ہی ججزاس میں نہیں ہوسکتے تھے وہ غلط ہوجانا تھااس لئے مجھے عمران خان کے دونوں کیسوں میں آنا پڑا۔

اہم خبریں سے مزید