• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی بھی ملک کو افغانستان جیسی صورتحال کا سامنا نہیں، وزیر اعظم


وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کو افغانستان جیسی صورتحال کا سامنا نہیں، وہاں سالہا سال کرپٹ حکومتیں رہیں، افغانستان کےحالات کی وجہ سےسب سےزیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا، دنیا نےاقدامات نہ کیےتو یہ انسانوں کا پیدا کردہ سب سےبڑا انسانی بحران ہوگا۔

افغانستان کی تشویش ناک معاشی صورتِ حال پر او آئی سی وزرائے خارجہ کا غیرمعمولی اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس کے افتتاحی سیشن میں وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر شرکا موجود تھے۔

افغانستان میں عدم استحکام سے مہاجرین کا مسئلہ پیدا ہوگا، وزیر اعظم عمران خان

او آئی سی وزرائے خارجہ غیر معمولی اجلاس سے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تمام معزز مہمانوں کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی آبادی غربت کی لکیر سےنیچے آرہی ہے، المیہ یہ ہے کہ 41 سال پہلے پاکستان میں افغانستان کیلئے کانفرنس ہوئی تھی،افغانستان میں عدم استحکام سے مہاجرین کا مسئلہ پیدا ہوجائےگا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ افغانستان کا 75 فیصد بجٹ غیرملکی امداد پر رہا،اقوام متحدہ کے انڈرسیکرٹری مائیکل گرفٹ نے جواعداد وشماردیے وہ حیران کن ہیں،یہ مسئلہ افغان عوام کا ہے،ہم پہلے ہی تاخیرکا شکار ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ افغانستان میں عدم استحکام سے ایسے عناصر مضبوط ہونگے،میری طالبان کےوزیرخارجہ سےایک ملاقات ہوئی،وہ شرائط پرعملدرآمد کے لیے تیار ہیں،افغانستان کےلیے بیرونی امداد بند ہوچکی ہے۔

عمران خان کاکہنا تھا کہ افغان جنگ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا، خواتین اور انسانی حقوق کے بارے میں ہرمعاشرے کے اپنے خیال ہیں،ہم نےافغان سرحد کیساتھ اپنے علاقوں میں لڑکیوں کواسکول بھیجنے کیلئے اعزازیہ دیا،وہاں داعش سے خطرہ ہے، ہمیں بھی خطرہ ہے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے80 ہزار جانوں کی قربانی دی، ہم نے30 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا، اب بھی پاکستان میں لاکھوں افغان مہاجرین بس رہے ہیں،یورپ مہاجرین کی حساسیت کو سمجھ سکتا ہے، کشمیر اورفلسطین کے عوام بھی ہماری طرف دیکھ رہےہیں۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمےداری بھی ہے، دنیا میں اسلامو فوبیا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے،اسلاموفوبیا کےخاتمے کےلیے اوآئی سی کردار ادا کرے،فلسطین اورکشمیرکا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کےمطابق حل ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہاکہ ہمارےمعاشرے میں کچھ عناصر نفرت پھیلانے کے لیے مذہب کا استعمال کرتے ہیں،افغانستان کیلئےفوری،طویل مدتی اوروسط مدتی حکمت عملی کی اوآئی سی کی تجاویزخوش آئندہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی اور اسلام کو جوڑا گیا اور ریڈیکل اسلام کی ٹرم بنائی گئی،اس سب کے نتیجے میں اسلامو فوبیا پیدا ہوا،ہم نے پاکستان میں رحمت للعالمین اتھارٹی بنائی ہے،اس کا ایک مقصد ہےکہ اگرنبی کریمؐ کا کوئی خاکہ آئے تو اس کا سوچاسمجھا جواب دیا جائے،بدقسمتی سے اسلام کے بارے میں بہت پروپیگنڈا کیا گیا۔

او آئی سی وزرائے خارجہ کا 17 ویں غیر معمولی اجلاس میں  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان کے لوگوں کو خوراک کی کمی اور دواؤں کی قلت کا سامنا ہے، افغان معیشت کے لیے بینکنگ نظام فعال کرنا ہوگا۔

او آئی سی اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا خطاب

شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ اجلاس افغانستان کےلوگوں کے مسائل سے متعلق ہے، سعودی قیادت کا وزرائےخارجہ اجلاس بلانا قابل تعریف ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کےلوگوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے،سیکرٹری جنرل ابراہیم طحہ اوران کی کاوشیں قابل تعریف ہیں،افغانستان کو انسانی المیے سے بچانے کیلئے امت مسلمہ اپنا کردار ادا کرے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کےحوالے سے ہماری آواز دنیا تک پہنچ گئی ہے، غیرمعمولی اجلاس کیلئے پاکستان پر او آئی سی کا اعتماد خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت سےادویات اور خوراک افغانستان پہنچانےمیں سہولت دی، افغان عوام کے لیے یہ اجلاس ان کی بقا سے جڑا ہے،دنیا تمام چیزوں سے بالاتر ہو کر افغان مسئلے پر آگے بڑھے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہاکہ افغانستان میں ہزاروں بچوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے، افغان عوام کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم متحد اور ان کے ساتھ ہیں، 40 سال قبل بھی پاکستان نے افغانستان کیلئے اسی طرز کا اجلاس بلایا تھا۔

شاہ محمود نے کہاکہ افغانستان کی نصب آبادی کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے، پاکستان ایک بار پھرافغانستان میں انسانی بحران کے حل کے لئے کوشاں ہے، ورلڈ فوڈ پرگرام افغانستان میں خوراک کی کمی کے مسئلےکی نشاندہی کرچکا ہے۔

اجلاس کے انعقاد پر پاکستان سے اظہار تشکر کرتے ہیں، سعودی وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بعد سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اجلاس سے خطاب کیا اور کہا کہ پاکستان نے کم ترین وقت میں اجلاس کو ممکن بنایا، اجلاس کے انعقاد پر پاکستان سے اظہار تشکر کرتے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان

سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان میں کشیدہ صورتحال کےخطے اور دنیا پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اجلاس میں شرکت پر سیکریٹری جنرل او آئی سی اور دیگر کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام ہماری مدد کے منتظر ہیں، ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں،افغانستان کیلئے اجلاس اوربہترین انتظامات پر پاکستان کو مبارکباد دیتے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہاکہ افغانستان کے معاملے کوانسانی بنیادوں پر دیکھنا ہوگا، وہاں مالی بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے، افغانستان کو غذائی امداد اور مالیاتی اداروں کے استحکام کی ضرورت ہے، عالمی ادارے افغان عوام کی مدد کے لئے آگے بڑھیں۔

افغانستان کے عوام کو مدد کی اشد ضرورت ہے، سیکریٹری جنرل او آئی سی ابراہیم حسین طحہ

سیکریٹری جنرل او آئی سی ابراہیم حسین طحہ نےاپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان عوام کے پرتباک استقبال پر شکر گزار ہیں، پاکستان نےافغان بحران کے حل کے لیے عزم کا اظہار کیا، افغانستان کا امن خطےمیں امن کےلیے ضروری ہے۔

ابراہیم حسین طحہ نے کہا کہ پاکستان نےخطےمیں امن کےلیےکلیدی کردارادا کیا، افغانستان کے عوام کو مدد کی اشد ضرورت ہے، افغانستان میں امن کےخواہاں ہیں، او آئی سی نے ہمیشہ افغانستان کے مسئلے پر مضبوط موقف اپنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں،افغانستان کے مسئلے پر اجلاس بلانا خوش آئند ہے،افغانستان میں امن کیلئے علاقائی اورعالمی تعاون کی ضرورت ہے۔

او آئی سی سیکریٹری کا کہنا تھا کہ اجلاس بلا کر پاکستان نے افغان بحران کے حل کے عزم کا اعادہ کیا، افغانستان میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، یہ اجلاس افغانستان کی مدد کے لئے کامیاب ہوگا، افغانستان میں امن خطے کے لئے بہت ضروری ہے۔

افغان بحران پر مل کر قابو پانا چاہیے، ترک وزیر خارجہ

او آئی سی وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس سے ترک وزیر خارجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کو دیگر عالمی اداروں سے مل کرافغان بحران پرقابو پانا چاہیے،افغانستان میں انسانی بحران مسلم ممالک کےلیے چیلنج ہے۔

ترک وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کےبحران پر مثبت اقدامات کو سراہتےہیں، افغانستان کی صورتحال کےاثرات دیگر ممالک پربھی مرتب ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ افغان عوام کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے، افغانستان کے لاکھوں افراد کو بھوک کا سامنا ہے، ہم پاکستان اور سعودی عرب کو اجلا س کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

ترک وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں مالیاتی بحران بڑھ رہا ہے، حل تلاش کرنا ہوگا، افغانستان کا ابھرتا ہوا بحران خطے کو متاثر کرے گا۔

افغانستان اس وقت انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے، وزیر خارجہ اردن

اردن کے وزیرخارجہ نے او آئی سی وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس میں کہا کہ افغانستان اس وقت انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے،افغانستان کی عوام خوراک کی قلت کا شکار ہیں ان کی سلامتی کے لئے کام کرنا ہوگا۔

وزیر خارجہ اردن
وزیر خارجہ اردن

انہوں نے کہاکہ او آئی سی اجلاس بلانے پر پاکستان اور سعودی عرب کی کوششیں قابل تعریف ہیں، افغانستان کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا،افغان بحران خطے کو متاثر کرسکتا ہے، عالمی برادری کو مل کر مدد کرنا ہوگی۔

وزیر خارجہ اردن نے کہا کہافغانستان میں انسانی بحران مسلم ممالک کیلئے چیلنج ہے، اردن افغانستان کو انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کیلئے ہرممکن کوشش کریگا، افغانستان کیلئے درست فیصلے کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کوئی بھی تنہا افغانستان کے معاملے سے نمٹ نہیں سکتا، چیئرمین اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک

چیئرمین اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک (آئی ڈی بی ) سلیمان الجاسم نے او آئی سی وزرائے خارجہ کے غیرمعمولی اجلاس سے اپنے خطاب میں کہاکہ افغانستان میں انسانی امداد کےساتھ ترقیاتی منصوبوں کے لیے کام کرنا چاہیے،کوئی بھی تنہا افغانستان کے معاملے سے نمٹ نہیں سکتا۔

سلیمان الجاسم نے کہاکہ آئی ڈی بی علاقائی ممالک کو مختلف سہولیات فراہم کررہا ہے، افغانستان کو فوری طور پر خوراک، رقم کی فراہمی کی ضرورت ہے،بینک ٹرسٹی اور ایڈمنسٹریٹرکے طور پرافغانستان سے متعلق ٹرسٹ کو دیکھ سکتا ہے۔

چیئرمین اسلامی ترقیاتی بینک نے کہاکہ ہم افغانستان کیلئے فنڈ کے قیام کی تجویزکوخوش آمدید کہیں گے،ہمارے پاس ایسے فنڈزرکھنے کا تجربہ ہے،تعمیر نو کیلئےافغانستان کومستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

آئی ڈی بی کے چیئرمین نے مزید کہاکہ افغانستان کی 70 فیصد سےزائد عوام دیہات میں رہتے ہیں، افغانستان میں کاشتکاری سے وابستہ افراد کی بھی مدد کرنی چاہیے۔

افغانستان کا بحران بہت بڑا ہے، یو این نمائندہ

او آئی سی غیرمعمولی اجلاس میں اقوام متحدہ کے نمائندےنے اپنے خطاب میں کہا کہ 80 فیصد افغان عوام روزمرہ اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں،افغانستان کا بحران بہت بڑا ہے،وہاں بےروزگاری 29 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔

نمائندہ اقوام متحدہ نے کہاکہ افغانستان میں لاکھوں بچےتعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں،افغانستان میں 70 فیصد اساتذہ تنخواہوں سےٕمحروم ہیں، ملکی معیشت بحران اور کرنسی گراوٹ کا شکار ہے، بروقت اقدامات نہ کیے گئےتو پوری دنیا متاثر ہوگی۔

ان کاکہنا تھا کہ میرا خطاب یو این سیکرٹری جنرل کا خطاب ہے جو میں پڑھ کر سنا رہا ہوں،افغانستان ٹرسٹ فنڈ کو خوش آمدید کہتا ہوں،افغانستان کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں،

افغان عوام موسم سرما صرف مدد کے ساتھ نہیں گزار سکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں افغانستان کو صحت اورلائیولی ہڈ کےلیےمدد بھی دینا ہوگی۔

افغانستان کے عوام کی ہرممکن مدد کرنی چاہیے، نائیجر وزیر خارجہ

او آئی سی وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس میں نائیجر وزیر خارجہ اوصف محمد نے افریقن گروپ کی طرف سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں افغانستان کی اندرونی معاملات میں مداخلت کیے بغیر مدد کرنی چاہیے۔

ان کاکہنا تھا کہ افغانستان کے عوام کی ہرممکن مدد کرنی چاہیے، نائیجر وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ کورونا کے باوجود اس کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان کو مبارکباد دیتا ہوں۔

پاکستان کی اجلاس میں افغان عوام کی مدد کیلئے6 نکاتی حکمت عملی

اجلاس میں پاکستان نےاو آئی سی رکن ممالک کو افغان عوام کی مدد کیلئے6 نکاتی حکمت عملی جاری کردی جو درج ذیل ہے:

1- او آئی سی ممالک کو فوری طور پرافغان عوام کی مدد کرنا ہوگی، افغانستان میں تعلیم، صحت وتکنیکی شعبوں میں سرمایہ کاری کرناہوگی۔

2- یواین اور او آئی سی کا گروپ بنا کر افغانستان کو جائز بینکنگ سہولیات تک رسائی میں مدد دی جائے۔

3- افغان عوام کوخوراک کی فراہمی و فوڈ سیکیورٹی کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔

4- انسداد دہشتگردی و منشیات کے خاتمے کیلئے افغان اداروں کی استعدادکار بڑھائی جائے۔

5- افغانستان میں انسانی حقوق، خواتین و لڑکیوں کے حقوق کےافغان حکام کےساتھ انگیج کیا جائے۔

6- افغانستان میں دہشتگردی کی روک تھام کیلئےافغان حکام سےمل کرکام کیاجائے۔

اجلاس میں کون کون سے ممالک شریک ہوئے ؟

اجلاس میں ترکی، ایران، سیرالیون، گیبون، صومالیہ، گینیا بسا، ترکش ریپبلکن آف نارتھ قبرص، یو اے ای، تاجکستان، بنگلا دیش، اردن اور فلسطین کے وزرائےخارجہ اور سیکریٹری جنرل او آئی سی شریک ہیں۔

واضح رہے کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس میں مہمانوں کی آمد کا سلسلہ صبح سے ہی جاری تھا۔

پاکستان کی دعوت پر 20 ممالک کے وزرائےخارجہ اجلاس میں شریک ہو رہےہیں، اجلاس میں10 نائب وزرائےخارجہ سمیت70 وفود بھی شرکت کر رہے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید