• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 2021ء میں کورونا سے لڑائی اور چہرے پر ماسک چڑھا کر صوبہ سندھ میں ثقافتی سرگرمیاں کروٹ لیتی دکھائی دیں۔ قومی ورثے اور ثقافت کو جدید طور طریقوں سے آراستہ کرتے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نسل نو محفوظ کرتی نظر آئی۔ مخصوص ثقافتی اشیاء پر مشتل لباس، گھریلو استعمال کی اشیاء اور فرنیچر کا کاروبار بھی زور و شور سے جاری رہا۔ اجرک کے کئی ڈیزائن، روایتی رنگوں سے ہٹ کر دیکھے گئے۔ بہرحال سندھ کے روایتی ثقافتی ہنر بڑے شہروں خصوصاً کراچی میں اپنی جگہ بنائی۔ گزرتے برس سندھ میں ثقافتی میدان میں کیا کچھ ہوا، مختصر جائزہ ملاحظہ کریں۔

وقت بھلا کب ٹھہرا ہے، جو اب ٹھہرے گا۔ دو ڈھائی سال میں تو دنیا ہی بدل کے رہ گئی۔ وقت تو نہیں تھما لیکن لوگ مقید ہوگئے، اپنے گھروں میں، اپنے شہروں میں۔ بازار و کوچے بند، آمدورفت نہ ہونے کے برابر، انسان انسان سے ہی کٹ کررہ گیا۔ کورونا نام کی وباء نے کسی ایک ملک یا کسی مخصوص خطے پر حملہ نہیں کیا بلکہ ایک ہی وقت میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ان حالات میں پوری انسانیت ہی اندوہناک المیوں کا شکار ہوگئی۔ 

بیماروں کی عیادت ممنوع تو دنیا سے رخصت ہونے والا بھی سفر آخرت پر تنہا ہی روانہ کیا گیا۔ حد تو یہ ہوگئی کہ اپنے خون کے رشتے بھی اس کی آخری رسوم میں شرکت سے روک دیئے گئے۔ یہ انسانی المیئے تو بذات خود اتنی داستانوں کو جنم دے چکے ہیں کہ جب دنیا ہوش میں آئے گی اور لوگ اپنے اوپر گزرنے والے صدمات کا اظہار کریں گے اور مل بیٹھ کر اپنے پیاروں کے جانے کا دکھ بانٹیں گے تو شاید اس وقت ضبط کے سارے بند ٹوٹ جائیں گے۔

اس ماحول اور ان حالات میں ہر طرف تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی دنیا میں اپنے ملک ، صوبے اور لوگوں کو بھی بدلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ شہروں اور دیہات کی ثقافت اور اقدار کا جائزہ لیتے ہوئے اندازہ ہوا کہ پچھلی دو دہائیوں میں عموماً اور پچھلے دو سالوں میں بہت کچھ تیزی سے بدلا ہے،جس کا اندازہ گزرتے سال بخوبی ہوا۔ میں اپنے آپ کو سندھ تک محدود کرتے ہوئے جب ثقافتی اقدار کا جائزہ لیتی ہوں تو بہت کچھ بدلا ہوا دیکھ رہی ہوں لیکن پھر یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں ’’ثبات‘‘ تو صرف ’’تغیر‘‘ کو ہی ہے۔

جب تبدیلی ناگزیر ہے تو پھر ماضی کو احترام سے یاد رکھنا اور محفوظ رکھنا بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ اسی طرح بدلتے ادوار سے انسان کی طویل تاریخ بنتی اور مٹتی ثقافتوں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔حروف مصنف Di Rosi نے ہی کہیں لکھا ہے کہ ’’ثقافت بھی کہاں ایک ہی رہتی ہے۔ وہ تو ایک دریا کے مانند ہوتی ہے جو اپنی لہروں سے آس پاس کی چیزوں کو اپنے اندر کبھی سمیٹتی اور کچھ کناروں پر چھوڑتی آگے بڑھتی جاتی ہے لیکن بس ایک چیز یقینی ہے کہ وہ ہمہ وقت تحرک میں رہتی ہے۔‘‘

صوبہ سندھ کی ثقافتی تغیر میں بنیادی طور پر زمین سے وابستگی، اپنی روایات کی پاسداری، زبان سے محبت، رسوم و رواج اور مذہب کا احترام، عقائد کو ساتھ لے کر چلنا، اپنے مخصوص لباس کی شناخت کے ساتھ خود کو جوڑنا، ادب، موسیقی اور فنون لطیفہ کی شاندار مثالیں سامنے رکھ کر سندھ کی قدیم روایات اور شناخت کے تسلسل کو قائم رکھا جارہا ہے لیکن آج کا سندھ یقیناً وہ نہیں جو آج سے پچاس سال پہلے تھا اور جو پچاس سال پہلے تھا، وہ بھی ماضی سے کہیں مختلف تھا لیکن بہت سی چیزیں نسل در نسل منتقل بھی ہوتی رہتی ہیں اور ان کو اپنے بزرگوں کی طرف سے دیئے گئے درس اور تربیت کو لاشعوری طور پر زندگی کے طور طریقوں میں شامل رکھا جاتا ہے۔ 

ایسی چیزوں میں کچھ رسوم ورواج خاندان اور قبائل اپنے اپنے طریقے سے برتتے چلے جاتے ہیں اور کچھ اقدار بحیثیت ایک قوم کے ایک صوبے اور خطے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اجتماعی طور پر اپناتے ہیں۔ ان میں اپنی زبان سے محبت اور اس کی ترویج کیلئے کوششیں جو انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہوتی ہیں اور حکومت سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں کی سرپرستی کرے جس سے سندھی ادب، شاعری، موسیقی کی روایات کو قائم رکھا جاسکے ،ساتھ ہی معاشرتی طورطریقوں میں آنے والے بدلائو کو بھی نظر میں رکھنے کی ضرورت ہے اور رکھی بھی جاتی ہے۔ 

کسی بھی معاشرے کی صورتحال محض ادب اور فنون تک محدود نہیں رہتی بلکہ آگے بڑھنے کیلئے روزگار کے ذرائع، تعلیم، حصول انصاف، احساس، تحفظ اور وسائل کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ سندھ اپنے خمیر میں ایک صلح پسند اور صوفی سوچ کا حامل خطہ جانا جاتا رہا ہے۔ سارے مذاہب اور مختلف عقائد کا احترام کرنا، ہماری روایات کا حصہ رہا ہے۔ زمین، زبان اور پانی (دریا) کے بچائو کیلئے بس ایک آواز لگانے کی دیر ہوتی ہے، سارے لوگ سیاسی اور گروہی اختلافات بھلا کر ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ بدلتی ٹیکنالوجی نے کم تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی باقی دنیا سے جوڑ دیا ہے۔ 

مشکل معاشی حالات نے لوگوں کو اپنے گھر اور دیہات چھوڑ کر بڑے شہروں بلکہ ملک سے باہر جانے کے راستے دکھا دیئے ہیں۔ اب سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں کے مزدور پیشہ لوگ دبئی اور سعودی عربیہ کا رخ کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے لڑکیوں کو پڑھانا ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن اب دیہات کے لوگ بھی لڑکیوں کے اسکول کا تقاضا کرتے ہیں۔ جہاں شہر اور دیہات کے رہن سہن میں فرق ہے، اسی طرح سندھ کے باقی علاقوں سے حیدرآباد اور کراچی یا سکھر جاکر بسنے والے لوگ بھی اپنے آپ کو جدید طورطریقوں میں ڈھال لیتے ہیں۔

چھوٹے بڑے تہوار کے مواقع خصوصاً چھوٹی اور بڑی عیدیں آئیں تو لوگ اپنے آبائی گھروں کا رخ کرتے تھے لیکن اب یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ مشکل معاشی حالات میں لوگ پورے خاندان کے سفر کا خرچہ اٹھانے سے قاصر ہیں لہٰذا اب جو جہاں ہے، اس کی عیدیں بھی وہیں ہیں۔ سندھ کے لوگ عام طور پر مہمان نواز ہوتے ہیں اور دل و جان سے گھر آئے لوگوں کی خاطرمدارات کرتے ہیں۔ گائوں میں تو یہ ہوتا رہا ہے کہ مہمان گھر میں داخل ہی ہوتے ہیں تو گھر میں پلنے والی مرغیوں میں سے کوئی ایک ان کی خاطرداری میں ذبح کی جاتی تھی لیکن اب ایسا کم ہی ہوتا ہے۔ 

بڑے شہروں میں تو کم جگہ اور تنگ کمرے، دور سے آئے مہمانوں کو دل میں تو جگہ دے سکتے ہیں لیکن چھوٹے سے دالان میں ایک چارپائی کے ساتھ دوسری چارپائی کی گنجائش بھی نہیں نکلتی۔پچھلی دو دہائیوں میں سندھ نے بہت سیاسی اور معاشرتی اونچ نیچ دیکھ لی ہے۔ ’’قومی یکجہتی‘‘ کی گردان صرف قومی دنوں پر صدر اور وزیراعظم کی لکھی ہوئی تقریروں میں تو ہوتی ہے لیکن کسی نے بھی قوم کو ’’ایک‘‘ بنانے کیلئے نیک نیتی سے کام نہیں لیا۔ ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہئے کہ قومی یکجہتی کیلئے معاشی، سماجی، طبقاتی اور سیاسی عناصر ایک بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 

دراصل دیکھا جائے تو انسان کی پوری جدوجہد اور جذبوں سے اس کی غربت کے خلاف جنگ ہی اب تمام عوامل کو علم اقتصادیات کی شکل دے چکا ہے اور یہ علم گویا انسان کے ان تجربوں کا نتیجہ اور نچوڑ ہے۔ پچھلے دو برسوں میں خصوصاً2021 ء میں سندھ کے دیہات معاشی طور پر پیچھے چلے گئے ہیں اور چھوٹے، درمیانے اور بڑے شہر ادھر ادھر سے آنے والے لوگوں کو اپنے اندر سمونے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کی مالی پسماندگی کو دور کرنے سے وہ بھی قاصر نظر آئے کہ ان تمام عوامل سے حکومت ہی نبردآزما ہوسکتی ہے جہاں ہمیں موثر حکمرانی مفقود نظر آتی ہے۔

سندھ کے بڑے شہر بشمول سکھر، لاڑکانہ، حیدرآباد اور خصوصاً کراچی، افغان جنگ کے نتیجے میں باہر سے آنے والوں کے بوجھ کو سہار رہے ہیں۔ ہم بڑی بحث میں جائے بغیر کہ حکومت اس سلسلے میں کیا کررہی ہے، گزرتے سال ہم نے یہ محسوس کیا اور یہ دیکھ بھی رہے ہیں کہ اگر سندھ کے عوام میں جو جہاں کہیں بھی بستے ہیں، ان میں اگر قومی اور ترقی پسند سوچ نہ ہوتی تو سندھ میں آپ کو سندھی اور اردو بولنے والوں کی ثقافتی سوچ اور تحریک موجود نہ ملتا۔ کورونا اور کووڈ سے لڑائی اور چہرے پر ماسک چڑھا کر بھی پاکستان آرٹس کونسل کراچی میں ادبی بیٹھکیں اور ثقافتی سرگرمیاں کروٹ لیتی دکھائی دیتے ہیں۔ 

اس طرح یہ بات بہت اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں نظر آنے والا یہ ادبی، ثقافتی اور فنی تحریک سندھی معاشرے کی ایک مثبت، واضح اور مضبوط شکل ہے اور یہ بات بہت اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ سندھ کی ابھرتی نوجوان نسل جو کہ اپنی روایات اور ثقافتی ورثے کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی سے بھی بخوبی آشنا ہے، بہت معیاری ادب بھی تخلیق کررہی ہے اور اپنی ثقافت کو بھی ملک کی سرحدوں کے اندر اور باہر متعارف کرانے کی کوشش کررہی ہے۔ ہمارے جیسی جانے والی نسل کو نوجوانوں سے کتنے ہی گلے شکوے کیوں نہ ہوں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے قومی ورثے اور ثقافت کو جدید طور طریقوں سے آراستہ کرکے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ ابھرتی نسل ہی محفوظ بھی کررہی ہے اور سرحد پار بھی بھیج رہی ہے۔

2021 ء میں ہماری ثقافت اور ادب، اس کی لوگوں تک رسائی اور ترویج بڑی حد تک روایتی پلیٹ فارمز کی محتاج نہیں رہی۔ فیس بک، واٹس ایپ، میسنجر اور ٹک ٹاک کا استعمال کرکے لوگ اپنی صلاحیتوں کا اظہار بھی کررہے ہیں اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی بن رہے ہیں۔ لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھے بھی ہیں تو ان کی وجہ سے قربتیں بھی ہوئی ہیں۔ جہاں ادب اور فن کی باتیں ہورہی ہیں، وہاں مخصوص ثقافتی اشیاء پر مشتمل لباس اور گھریلو استعمال کی اشیاء اور فرنیچر کا کاروبار بھی زوروشور سے جاری ہے۔ گھر بیٹھے آپ کو ہر چیز دروازے پر مل جاتی ہے، ہنرمند نوجوان اور لڑکیاں اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

2021 ء ہی میں اجرک کے کئی ڈیزائن روایتی رنگوں سے ہٹ کر مختلف نئے رنگوں میں بن رہے ہیں۔ نورجہاں بلگرامی اجرک پر اپنی تحقیق پر نہ صرف کتاب لکھ چکی ہیں بلکہ اجرک کے انہی ڈیزائن کو روایتی چادر سے نکال کر سلک اور ریشم کے پہناوئوں تک لے آئی ہیں جو کہ نئی نسل اور باہر کی دنیا میں بھی مقبولیت پا رہی ہیں۔ اب اجرک بنانے کی صنعت ترقی پا رہی ہے، اصلی اجرک کی مانگ بڑھ رہی ہے اور ہالا کے علاوہ حیدرآباد اور کراچی کے کئی بازاروں اور اسلام آباد کے بلیو ایریا میں بھی اس قسم کے ہنر رکھنے والی دکانوں پر خریدار بصدشوق جاتے ہیں۔ 

اسی طرح مٹی کے برتن، کاشی کے گلدان جدید طرز پر بننا شروع ہوئے ہیں اور تو اور پھولوں کے گملے بھی کاشی کے نقش و نگار کے ساتھ پودوں کی نرسریوں میں بہت نظر آئے۔ یہ روایتی ثقافتی ہنر، بڑے شہروں خصوصاً کراچی میں پہلے ہی اپنی جگہ بنا چکے تھے،رواں سال کچھ زیادہ ہی مقبول ہوئے اور لوگوں کے شوق اور ذوق کی تسکین خوب کررہے ہیں۔

پچھلے کئی سالوں سے دسمبر کے پہلے اتوار کو پورے سندھ کی ثقافت کو نمایاں کرنے اور اپنی شناخت کے اظہار کیلئے ’’سندھی ٹوپی اجرک‘‘ کا دن منایا جارہا ہے جو اب زبان، رنگ، نسل اور سیاست سے نکل کر سب کا دن اور صوبہ سندھ کی ثقافتی علامت بن چکا ہے۔ 2021ء میں بھی یہ دن کووڈ کے باوجود دھوم دھام سے منایا گیا ۔اس ایک دن منانے کی پیچھے بے شمار ہنر مندوں کا روزگار منسلک ہے۔ اب ماہرین اقتصادیات اور شماریات ہی صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس دن کو منانے کیلئے اجرکیں ہزاروں اور لاکھوں میں بنتی ہیں، ہزاروں شیشے کے کام اور ریشم سے بنائی ہوئی ٹوپیاں کتنی خواتین نے مسلسل دن، رات ایک کرکے مارکیٹ کی مانگ پوری کی ہوگی۔

لیکن کیا ہوا ؟پچھلے دو سالوں میں خصوصااًگزرتے سال ثقافتی سرگرمیاں اور کاروبار ٹھپ ہوکے رہ گیا۔ وبا کے دنوں میں اگر ریڈیو خصوصاً ٹی وی نہ ہوتا اور لوگوں کے سیل فون کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے نہ رہتے تو لوگوں کے دن، رات کیسے گزرتے، ایک دوسرے کی خیر خبر کیسے ملتی؟ لیکن میں سندھ میں ہونے والی ثقافتی سرگرمیوں اور ذہنی سوچ اور تبدیلیوں کے دو سالوں کو آج کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کریں۔ اس عرصے میں ادبی سطح پر ہمارے ثقافتی اداروں نے ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آکسفورڈ پریس کے ادبی میلوں کے اجراء کے بعد ایک بہت مثبت تبدیلی یہ دیکھنے میں آئی کہ کراچی کے علاوہ سندھ کے دوسرے شہروں میں بھی ادبی میلے منعقد ہونے لگے ہیں۔ 

ان میلوں میں سجنے والے کتابوں کے اسٹالز پر لوگوں کا رش ان کے ادبی ذوق کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کیلئے اپنے پسندیدہ ادبیوں اور شاعروں سے ملنے کا یہ ایک بہترین موقع ہوتا ہے۔ ادبی اور شعری نشستوں میں نوجوان اور خواتین بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ تنقیدی نشستیں اور سوال جواب مثبت بحث کو جنم دیتی ہے۔ ایک دوسرے کی رائے کو سننے اور اختلاف کے باوجود اس کے احترام کی تربیت بھی دیتے ہیں۔ ماضی پر بھی گفتگو ہوتی ہے اور موجودہ حالات اور ادب سے جڑے مسائل پر بھی بات ہوتی ہے۔ پڑھنے میں کسی کے رجحان پر گفتگو ہوتی ہے اور بچوں کو کتابوں سے محبت سکھانے کے طریقہ کار بھی زیربحث آتے ہیں۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایسے ادبی اور ثقافتی میلوں اور اجتماع میں غیر ملکی سفارتکار بھی شریک ہوتے ہیں۔ گویا یہ ان کیلئے ایک موقع ہوتا ہے کہ وہ سندھ کی ثقافت سے واقف ہوں اور آگاہی حاصل کریں۔ اس طرح پچھلے عرصے میں ہمارے ملک اور صوبہ سندھ کی ثقافتی سرگرمیاں نوجوانوں کو مثبت سوچ کی طرف لانے کا سبب بنی ہیں۔

سندھ کی موجودہ نسل ان کی ادبی تخلیقات سے واقف ہے اور ان کے دیئے ہوئے شعور کی وجہ سے وہ معروضی حالات اور اقتداری سیاست سے فائدہ اٹھانے والے نام نہاد سرداروں اور جاگیرداروں کو طاقت کی علامت ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ 21؍ویں صدی کے 21 ویں سال میں سندھ کی عوام خصوصاً پڑھالکھا طبقہ سماج میں بیداری کی علامت بن کر ابھرا۔ وہ ہمیں بے شک سیاسی طور پر اس وقت اتنا متحرک نظر نہ بھی آئے لیکن کسی بھی بڑے آدمی چاہے وہ سرمایہ دار ہو یا جاگیردار یا کوئی بااثر وڈیرہ یا اسمبلی کا رکن، وہ ان کے کسی بھی غیر قانونی عمل کو نظرانداز کرنے کو تیار نہیں۔

ابھی حال ہی میں ملیر کے نظام جوکھیو اور قمبر میں ایک خاتون کے قتل کے واقعات میں شدید عوامی ردعمل، سندھ کے سیاسی شعور اور بیداری کا ثبوت ہیں۔ اب غالباً یہ عمل اتنا آسان نہیں رہا کہ 21؍ویں صدی میں سندھ کے لوگ اپنی آزاد سوچ کی باگیں استحصالی طبقے کے ہاتھ میں دے کر طبقاتی سیاست کا تسلط برداشت کریں۔ سندھ کے ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کی بات کرتے ہوئے یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ بڑے شہروں میں پڑھنے والے سندھی بچے پرائیویٹ اسکولوں میں سندھی نہ پڑھائے جانے کی وجہ سے اپنی مادری زبان کو سمجھنے اور لکھنے، پڑھنے سے محروم ہورہے ہیں۔ 

حکومت کا اس سلسلے میں کوئی موثر کردار نہیں نظر آرہا۔ اس بات کے مستقبل میں منفی اثرات پڑیں گے۔ اس سلسلے میں سندھی بولنے والے والدین کس حد تک غیر مطمئن ہیں یا نہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن حالیہ عرصے میں ہونے والی ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں میں اپنی مادری زبان سے ناآشنائی مستقبل میں آنے والی نسلوں کو اپنے ادب اور ثقافتی اقدار کو سمجھنے میں رکاوٹ بنے گی۔

5؍دسمبر کو پورے سندھ میں ’’سندھ کا ثقافتی دن‘‘ منایا گیا۔ ایک دفعہ پھر پورا سندھ بہت فخر کے ساتھ اجرک اور شیشوں کی دمکتی چمکتی ٹوپی کو اپنی ثقافت کی علامت کے طور پر پہن کر اور اوڑھ کر اپنی شناخت کی تجدید کرکے اپنی زمین سے محبت کا اظہار کیا لیکن یہ بھی یاد رکھا جائے کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے …، سچل سرمست کی بے خود کرنے والی شاعری، صوفی شاہ عنایت کے فہم، فراست اور مساوات کے اصول سننے اور شہباز قلندر سے ہوش اور جوش کی لو لگانے اور سمجھنے والی سندھ کی نئی پود اپنی ثقافتی ورثے کو اپنا منبع اور محور بنا کر سندھ میں منفی اور ظالم جاگیردارانہ سوچ کے خلاف کمربستہ نظر آرہی ہے۔

گزرتے سال میں جن ثقافتی اقدار کو اپنی جگہ بناتے اور تسلسل قائم رکھتے ہوئے دیکھا وہ ہے ’’ ثقافتی دن‘‘ منانا۔ پچھلے کچھ سالوں سے یہ دن منانے کا آغاز ہوا ہے ۔ اور اب ہر سال اس کو دسمبر کی پہلی اتوار کو منایا جاتا ہے۔ یہاں یہ حقیقت بیان کرنے میں کوئی عار نہیں کہ اب سندھ کی بھولی ہوئی روایتوں کو زندہ کرنے کی شعوری کوششیں کی جاررہی ہیں۔ انہیں روایات کو زندہ کرنے میں اب’’ مچ کچہری‘‘ دوبارہ سے جنم لے رہی ہے۔ دوست احباب ٹھنڈی راتوں میں خصوصاً سردیوں کی راتوں میں آگ جلاکر اس کے گردبیٹھک لگاتے ہیں۔ اسی دوران شعروشاعری بھی سنائی جاتی ہے، سازو آواز کا دور بھی ہوتا ہے ۔ سندھ کی قدیم روایت اور گچھارت یعنی’’ پہلیاں‘‘ بوجھنا‘‘ بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اس کے اس نہر کے ماہر جن کو’’ سگھڑ‘‘ کہاجاتا ہے، اس میں شریک ہوتے ہیں۔

گزرتے سال میں مذہبی رواداری کی روایات اور تسلسل کو بھی جاری رکھا گیا۔ گھوٹکی میں مندر پر ہونے والے حملے کے بعد ان کی خبرگیری کرنے اور ایسے واقعات کے خلاف احتجاج کی آواز بلند کرنے کے لئے سندھ سے تعلق رکھنے والی مذہبی جماعتیں سب سے پہلے وہاں پہنچیں اور اس عمل کے خلاف سخت ردعمل دکھایا، اسی طرح ،ثقافت کے ساتھ زبان کی وابستگی اور اس میں تخلیق کئے جانے والے ادب کی تشہیر اور ترویج کا بھی خاص اور خصوصی اہتمام ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔ وبا کے سنگین دنوں میں بھی ،تخلیق کا عمل تو جاری رہا۔ اگر جلسے اور ادبی محفلیں نہ جمیں تو انٹر نیٹ فیس بک اور واٹس ایپ پر بھی ادبی تخلیقات دورپار سے آئیں بھی اور ایک دوسرے کو پہنچائی بھی گئیں۔ تبصرے بھی کئے گئے اور تنقیدیں بھی ہوئیں۔

دیوالی کا تہوار مذہبی رواداری میں شامل ایک روایت کی طرح سن2000سے شعوری طور پر منایا جارہا ہے اور اس سال بھی منایا گیا اور اسی جوش وخروش سے مسلمانوں نے محلے، گاوں اور شہروں میں اپنے دوست اور جاننے والے ہندو بھائی بہنوں کو دیوالی کی مبارکباد کی بالکل اسی طرح جس طرح سے ہر سال کرسمس کے موقع پر اپنے عیسائی دوستوں کو دنیا بھر میں مبارکبادیں دیتے ہیں۔ ہندو دوستوں نے بھی دل کھول مٹھائی کے ڈبے اور ٹوکرے اپنے مسلمان دوستوں اور جاننے والوں کو بھیجے۔ انٹرنیٹ، واٹس ایپ اور فیس بک پر بھی مبارکباد کا سلسلہ جاری رہا۔

٭ اس طرح گویا کرونا کے خوف کی وجہ سے جو ایک دوسرے سے دوریاں ہوگئی تھیں وہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے کسی حد تک سمٹ گئیں۔ لیکن کسی نہ کسی صورت اس روایت کو برقرار رکھا گیا اور سندھ میں بسنے والی مذہبی اقلیت کو اپنائیت، تحفظ اور مذہبی رواداری کا احساس دلایا گیا۔ اور ایسا کیوں نہ کیا جائے جب کہ ہمارا قومی پرچم اپنے ایک سفید حصے سے اس مذہبی رواداری کی ایک بہت بڑی علامت کے طور پر لہلہاتا ہے۔ لہذا سندھ کے معاملے میں اب یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس طرح کی روایتیں اب شعوری عمل اور کوششوں میں ڈھل رہی ہیں۔ کھیل کے میدان میں پچھلے سال، وبا کے دنوں میں یہ ہوا کہ خاص طور پر’’ ونجھ وٹی‘‘ اور گلی ڈنڈا پھر دوبارہ زندہ ہوگئے۔ 

نوجوانوں نے گزرتے برس دوبارہ سے ٹولیاں بنا بناکر ان روایتی کھیلوں کو دوبارہ زندہ کردیا۔ اور اب تو چھٹی کے دن شام کے اوقات میں دیہاتوں میں یہ کھیل ،جم کے کھیلے جارہے ہیں اسی طرح’’ ملھ‘‘کا روایتی کھیل بھی اپنی جگہ بنا رہا ہےپہلوان بھی اب میدان میں اترنے لگے ہیں اور پچھلے سال اور اس سال بھی مختلف مقامامات پر ’’ملھ‘‘ کے مقابلے منعقد ہوئے۔ تعلیمی اداروں میں جیسے ہی کلاسز کا آغاز ہوا اور ڈیڑھ دو سال سے اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں سے دور ہونے والےطلباء دوبارہ اپنے معمولات پر آنے کے ساتھ ساتھ میلے اور اجتماعات کے ذریعے اپنی ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیاں زندہ کرنے لگے ہیں۔ 

سندھ ایگریکلچرل یونیورسٹی، ٹنڈو جام نے جہاں سائنسی میلے اور سیمینار کا اہتمام کیا، وہیں ایک دن انہوں نے ’’تھر فیسٹیول‘‘ کے نام کیا۔ نومبر2021ء کی آٹھ تاریخ کو تھر کی ثقافت پر مشتمل تقریب نے وہاں کے لباس، کشیدہ کاری، ساز، گیت اور رقص کا اہتمام کیا اور ایک لمبی غیر حاضری کے بعد طلباء طالبات اور مہمان ایک ساتھ بیٹھ کو سندھ کے صحرائی علاقے کی خوبصورت ثقافتی رنگوں سے لطف اندوز ہوئے۔ بیماری سے بچنے کے اہتمام کے ساتھ ساتھ ثقافتی روایات کے تسلسل کو برقرار رکھ کر نئی نسل کو ان سے متعارف کروایا گیا۔

اس طرح کی علمی، ادبی اور ثقافتیں تقریبات کراچی سے لے کر سندھ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ہوئیں، ایسا لگا کہ لوگ کروٹ بدل کر جاگ، چکے ہیں۔ مٹھی (تھر پارکر) میں بھی خواتین کے کردار اور ان کو بااختیار بنانے کے لئے اینگرو کے زیر اہتمام کام کرنے والی تھر فائونڈیشن نے ایک تقریب کا اہتمام کیا، جہاں خواتین کے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ خواتین کے ہاتھوں کی کشیدہ کاری، نہر، تھر کول میں مختلف شعبوں میں روایتی اور غیر روایتی کام کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کے علاوہ تھر کے سازو آواز کی محفلیں سجیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ تھر کی ریت جتنی بے رنگ ہے۔ اس میں سے جنم لینے والی ثقافت اتنی ہی رنگین ہے۔ مردوں کے سروں پر بندھنے والی پگڑیاں بھی شوخ رنگ لئے ہوتی ہیں تو عورتوں کی چولیاں اور گھگھرے بھی نہایت ہی رنگین اور دلکش ہوتے ہیں۔ 

تھر کے لوگوں نے اپنی ماحول کی سختی اور کٹھن زندگی کو اپنے رنگین اور دلکش رنگوں کے پہنائوں سے کم کرنے کی کوشش ہے۔تھر کی ثقافت ، سریلے ساز اور موسیقی اب شہر کے لوگوں کو تھر پار کر کھینچ کے لے جاتی ہے۔برسات کے موسم میں چار بوندیں کیا پڑتی ہیں ریت کے ٹیلے سبزہ زار میں بدل جاتے ہیں۔ چھوٹے موٹے ندی نالے کہیں سے نمودار ہو جاتےہیں اور درختوں کی جھنڈ اڑتے مور اور مورنیاں ٹہلتے اور پر کھول کر رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پچھلے بیس سال میں بننےوالی سڑکوں نے تھر پار کر کے سفر کو آسان بنا دیا ہے اور سیاحوں کے لئے اب چھوٹے موٹے ہوٹل اور رہائش گاہیں بھی بن گئ ہیں۔

دیکھا یہ گیا کہ مشکل اور تکلیف دہ ایک ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر تو گیا، لیکن سندھ کے لوگوں کے کچھ شعوری فیصلوں نے اس دوران اپنی ثقافت کو بچائے رکھا۔ سازوں کو جگایا ، سر اور آلاپ لوگوں کے کانوں تو پہنچتے رہے۔ بڑی درگاہیں بند رہی۔ میلے منعقد نہ ہوئے لیکن عقیدت مند چھوٹی ٹولیوں کی صورت اپنی روایتوں کو زندہ رکھے کسی گلی کوچے میں محفلیں سجاتے رہے۔یہ ہوا گزرتے برس دکھ کی گھڑیاں مل بانٹ کر گزاریں ۔(لے آؤٹ آرٹسٹ: نوید رشید)