• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران نے پارٹی تنظیمیں توڑ دیں، اپنے خاندانوں میں ٹکٹ بانٹنے پر برہم نیا انتظامی ڈھانچہ بنایا جائے گا، 21 رکنی آئینی کمیٹی تشکیل

بلدیاتی الیکشن میں شکست سے متعلق رپورٹ ابھی تک وزیراعظم کو پیش نہیں کی،فواد چوہدری


اسلام آباد(ایجنسیاں)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی کارکردگی اور اپنے خاندانوں میں ٹکٹ بانٹنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مرکز سے لیکر تحصیلوں تک تحریک انصاف کی تمام تنظیموں کو تحلیل کر دیا ہے۔

 تمام پارلیمانی بورڈ بھی تحلیل کردئیے گئے ہیں‘چیف آرگنائزرسمیت تمام عہدیداروں کوہٹا دیا گیا ہے‘ پارٹی کی قومی لیڈر شپ پر مشتمل نئی 21رکنی آئینی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو پارٹی کی نئی تنظیموں کے بارے میں نیاانتظامی ڈھانچہ دوبارہ پیش کرے گی۔

پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں کسی رشتہ دار کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ مقامی قیادت نہیں کرے گی‘یہ معاملہ خصوصی کمیٹی کے پاس آئے گا‘ اگر پی ٹی آئی گری یا اس کی سیاست متاثر ہوئی تو اس سے پاکستان کی سیاست متاثر ہوگی‘ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا کلچر پی ٹی آئی میں آیا تو ان میں اور ہم میں فرق نہیں رہے گا۔

بلدیاتی الیکشن میں شکست سے متعلق رپورٹ ابھی تک وزیر اعظم کو پیش نہیں کی گئی اور مکمل نتائج آنے کے بعد ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ہو گا ۔

جمعہ کو عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی سینئر لیڈر شپ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ تحریک انصاف کی قومی قیادت پر مشتمل آئینی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو پارٹی کے نئے آئین پر کام کر رہی ہے۔

کمیٹی نئی تنظیموں کے بارے میں بنیادی ڈھانچہ بھی دوبارہ پیش کرے گی‘سینئر اراکین پر مشتمل کمیٹی کی منظوری کے بعد نئی تنظیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے علاوہ کوئی دوسری جماعت 1100 سے 1200 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔ 

پیپلز پارٹی اندرون سندھ اور ن لیگ پنجاب کی پارٹی ہیں‘ویلیج کونسل کے انتخابات کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اس وقت بھی خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی جماعت ہے۔خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں میرٹ کے برعکس ٹکٹ تقسیم کئے گئے، وزیراعظم نے بلدیاتی انتخابات میں آنے والی شکایات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

تحریک انصاف کو جس طریقے سے ایک بڑی جماعت کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تھا، وہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں نظر نہیں آیا‘ آئینی کمیٹی میں خیبر پختونخوا سے پرویز خٹک، محمود خان، مراد سعید، اسد قیصر، علی امین گنڈا پور شامل ہیں، پنجاب سے وہ خود (فواد چوہدری)، شاہ محمود قریشی، حماد اظہر، خسرو بختیار، چوہدری محمد سرور، سیف اللّٰہ نیازی، عامر کیانی، عثمان بزدار شامل ہوں گے، بلوچستان سے قاسم سوری جبکہ سندھ سے عمران اسماعیل اور علی زیدی اور وفاقی دارالحکومت سے اسد عمر اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ کسی رشتہ دار کو ٹکٹ دینے کے معاملات دیکھنے کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

خیبر پختونخوا میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے لئے محمود خان کو ذمہ داری سونپی گئی ہے، ٹکٹ دینے کا ایک میکنزم بنایا جائے گا، یہ میکنزم وزیراعظم کی منظوری سے دیا جائے گا۔

پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے ٹکٹ کا فیصلہ تحریک انصاف کے سینئر ممبران پر مشتمل کمیٹی کے پاس آئے گا۔ 

اہم خبریں سے مزید