• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رانا شمیم کا بیان، حسین نواز کے دفتر میں بیٹھ کر سب کچھ ہوا، تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ’رپورٹ کارڈ‘ میں میزبان علینہ فاروق نے پینل کے سامنے سوال رکھا کہ رانا شمیم کے بیان کی تحقیقات کیسی ہونی چاہیں؟

کہانی میں توئسٹ آیا ہے کہ وہ نوازشریف کے بیٹے کے دفتر میں موجود تھے او رمبینہ طور پر کچھ اور لوگ بھی موجود تھے جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ اداروں کو بلیک میل کرنے کی صورتحال بن رہی ہے؟

بیان کہاں دیا گیا یہ اہم ہے یا فرق نہیں پڑتا کہیں بھی دیا ہو اس سوال کے جواب میں تجزیہ کاروں نے کہا کہ حسین نواز کے دفتر میں بیٹھ کر یہ سب کچھ ہوا ہے،سارا طریقہ کار بنارسی ٹھگوں والا ہے عدالتوں کو بلیک میل کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ، سنیئر تجزیہ کارارشاد بھٹی نے کہا کہ بیان اگر عدالت میں دیا جائے فرق پڑتا ہے جلسہ میں دیا جائے فرق پڑتا ہے ۔ 

عدالت انہیں مافیا گارڈ فادر کہہ چکی ہے ان کا طریقہ واردات ہے اداروں کو فیصلوں کو متنازع بناؤ۔ رانا شمیم نوازشریف کے وکیل رہے ہیں، حسین نواز سے دو ملاقاتیں بھی لندن میں ہوئیں ہیں ۔ حسین نواز کے دفتر میں بیٹھ کر یہ سب کچھ ہوا ہے اب سمجھ جانا چاہیے کہانی کیسے بنائی گئی ہے۔ 

تین سال بعد ان کا ضمیر کیوں جاگا اور حلف نامہ میں اس جج کا نام کیوں جو اُس وقت شریف فیملی کے کیس ہی نہیں سن رہا تھا۔

سنیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ پہلے مسئلہ یہ آئے گا کہ ایفی ڈیوٹ میں کیا لکھا ہے اور ایفی ڈیوٹ سے پہلے بھی اس طرح کی چیزیں آچکی ہیں میرے خیال سے ابھی تک وہ وقت نہیں آیا کہ ایفی ڈیوٹ کا حقیقی استعمال کیا جاسکے ابھی حالات ویسے ہی ہیں جب نوازشریف کو سزا ہوئی تھی یہ بھی چانس نہیں ہے کہ اگر یہ ایفی ڈیوٹ نوٹری پبلک کے دفتر میں بیٹھ کر دیا گیا ہوتا تب بھی اس پر کچھ نہیں ہونا تھا اب بھی کچھ نہیں ہوگا۔ 

جب اس بیانیہ کی قبولیت کا وقت آئے گا تب اس کی اہمیت ہوگی ابھی تو کوئی نہیں ہے۔

تازہ ترین