نیپاہ وائرس کا شمار دنیا کے خطرناک ترین وائرسز میں کیا جاتا ہے، یہ خطرناک وائرس پہلی بار 99-1998ء میں ملائیشیا میں سور پالنے والے کسانوں میں پھیلنے والی ایک پراسرار بیماری کے طور پر سامنے آیا تھا۔
نیپاہ وائرس چمگادڑوں سے سوروں اور پھر انسانوں میں منتقل ہوا، جس کے نتیجے میں درجنوں انسانی اموات ہوئیں اور لاکھوں سور تلف کیے گئے۔
بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق نیپاہ وائرس کی پہلی شناخت ملائیشیا کے علاقے ’سنگائی نیپاہ‘ میں ہوئی تھی جہاں سور کے فارموں سے وابستہ مزدوروں میں شدید بخار اور دماغی سوزش کے کیسز سامنے آئے۔
ابتداء میں ان کیسز کو جاپانی انسیفلائٹس سمجھا گیا تاہم تحقیقات کے بعد سائنسدانوں نے ایک نئے وائرس کی نشاندہی کی جسے بعد میں ’نیپاہ وائرس‘ کا نام دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق اس وائرس کا قدرتی میزبان پھل کھانے والی چمگادڑیں ہیں جو اپنے لعاب اور پیشاب کے ذریعے وائرس خارج کرتی ہیں۔
جنگلات کی کٹائی اور زرعی سرگرمیوں کے باعث چمگادڑیں سور فارموں کے قریب آئیں جہاں سے وائرس سوروں میں اور پھر انسانوں میں منتقل ہوا۔
1998ء سے 1999ء کے دوران ملائیشیا میں نیپاہ وائرس کے تقریباً 283 انسانی کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 109 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملائیشیا کی حکومت نے ایک ملین سے زائد سور تلف کیے جس سے معیشت کو شدید نقصان پہنچا مگر انسانی جانیں بچانے میں مدد ملی۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس وباء نے دنیا بھر میں زونوٹک (جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی) بیماریوں کے حوالے سے سوچ بدل دی۔
اس واقعے کے بعد جانوروں اور انسانوں کے درمیان بیماریوں کی نگرانی، بر وقت تشخیص اور جنگلی حیات پر نظر رکھنے کی اہمیت اجاگر ہوئی۔
آج بھی کئی ملکوں سے نیپاہ وائرس کے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں۔