• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دریائے راوی کے کنارے واقع ستگھرہ قصبہ، پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے قدیم دیہاتوں میں سے ایک ہے۔ ستگھرہ نام کی زبانی روایات مختلف ہیں، مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ ست کا مطلب سات اور گھرہ کا مطلب گھر یا خاندان ہے، اور یہ وہ سات خاندان ہیں جو عظیم بلوچ لیڈر میر چاکرِ اعظم رند کے ساتھ اس علاقے میں آئے تھے۔ 

دوسری جانب زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ اس علاقے کی سات بار تعمیر نو کی گئی، اسی لیے اس کا نام ’ستگھرہ‘ رکھا گیا۔ کچھ مؤرخین نے بیان کیا ہے کہ سکندر اعظم کے کچھ زخمی سپاہی (جن کا تعلق مقدونیہ کے قدیم قصبے سٹیجیرہ سے تھا) وہاں مقیم تھے اور انہوں نے اس قدیم قصبے کا نام سٹیجیرہ رکھا، جسے اب ستگھرہ کہا جاتا ہے۔

قلعہ ستگھرہ

ستگھرہ گاؤں لاہور سے 124کلومیٹر اور اوکاڑہ سے 24کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں 150سے زائد مکانات میں تقریباً 1500لوگ آباد ہیں۔ بلوچ قبیلے کے عظیم رہنما میر چاکر رند جب 1519ء میں ہجرت کرکے وسطی پنجاب آئے تو ستگھرہ میں آباد ہوئے۔ علاقے کی حفاظت کے لیے یہاں ایک قلعہ تعمیر کیا گیا اور 15مربع کلومیٹر رقبے پر قلعہ بندی کی گئی۔ اس مقصد کے لیے مربع شکل میں 25فٹ بلند، 400فٹ لمبی اور 400 فٹ چوڑی مضبوط دیواریں بنائی گئیں۔ یہ دیواریں پکی ہوئی سرخ اینٹوں سے بنائی گئی ہیں، جو اس وقت کا مقامی تعمیراتی مواد تھا۔ 

درحقیقت یہ قلعہ کم اور آبادی کی حفاظت کے لیے تعمیر کردہ فصیل زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے، مقامی لوگوں میں ناخواندگی یا ورثے کی اہمیت سے ناواقفیت کی وجہ سے، قلعہ بند دیواریں دن بدن خستہ حال ہوتی جارہی ہیں۔

قلعے سے دشمن پر نظر رکھنے کے لیے 500مربع فٹ کے پانچ برج بھی تعمیر کیے گئے، جہاں سے دور تک علاقے پر نظر رکھی جاتی تھی۔ ان میں سے تین برج قلعہ بند دیوار کے مشرقی جانب اور دو دیوار کی مغربی جانب ہیں۔ اس زمانے میں بھی مواصلات کا ایک وسیع نظام موجود تھا۔ قلعے میں تعمیر کردہ برجوں پر مامور کوئی پہرہ دار کسی بھی خطرے کی صورت میں اگر ایک برج پر آگ جلاتا تو دوسرے برج سے یہ آگ نظر آتی تھی اور یوں خطرے کی خبر پورے علاقے میں پھیل جاتی تھی۔ 

مقامی لوگوں کی جانب سے توڑ پھوڑ اور ان برجوں کے غلط استعمال کی وجہ سے ان کی حالت کافی خراب ہوگئی ہے۔ قلعے کے ایک برج کو مقامی لوگ اپنے مویشیوں کے فارم کے طور پر اور بہت سے لوگ دوسرے برجوں کو اپنی رہائش گاہ اور کاروبار چلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ خراب انفرااسٹرکچر کی وجہ سے برجوں کے بیرونی حصے کو بھی نقصان پہنچا جس نے ان کے مواد اور مضبوطی کو بھی متاثر کیا۔

ستگھرہ قلعہ مغل طرزِ تعمیر کی قدیم اور خوبصورت ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ ایک لاکھ 60ہزار مربع فٹ رقبے پر مشتمل اس قلعہ بند گاؤں کے 2مرکزی دروازے (جن کے لکڑی کے پینل اب موجود نہیں ہیں) قلعے کے درمیان میں واقع مرکزی بازار کی طرف لے جاتے ہیں، جو شمالی اور جنوبی برجوں کی سیدھ میں ہے۔ سڑکوں کا لے آؤٹ کافی پتلا اور نامیاتی ہے۔ یہاں مغل، سکھ اور برطانوی دورِ حکومت کے بہت سے تاریخی مکانات موجود ہیں۔ 

غالب امکان یہی ہے کہ یہ شہنشاہ اکبر یا پھر رنجیت سنگھ کے دور میں تعمیر کیے گئے تھے۔ قلعہ بند دیوار کے اندر مٹی اور اینٹوں کے مکانات کے جھرمٹ سے قدیم زمانے کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ کچھ گھروں میں افسانوی اور موضوعاتی دیواریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ تاریخی ایوانوں کی موجودہ حالت اچھی نہیں ہے۔ مقامی باشندوں نے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قلعے کے بہت سے تاریخی نوادرات کونکال لیا۔ انھوں نے قلعہ بند دیواروں کے اندرونی حصے پر اپنے گھر تعمیر کرلیے تھے۔

میر چاکر رند کا مقبرہ

میر چاکر رند نے جنگوں میں مغلوں کا ساتھ دیتے ہوئے ہندوستان فتح کرنے میں مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر کا ساتھ دیا۔ بعد میں میر چاکر رند نے مغلوں کے خلاف شیر شاہ سوری کی مدد کرنے سے انکار کیا اور ہمایوں کے فارس سے طویل جلاوطنی کے بعد واپس آنے پر اپنی فوج کو اپنے بیٹے میر شہداد کی زیرِ قیادت دہلی پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ ہمایوں نے انھیں انعام کے طور پر ستگھرہ سمیت ایک بڑی جاگیر، گھوڑے اور غلام عطا کیے۔ 1565ء میں ان کی وفات کے بعد یہیں ان کا مقبرہ بنایا گیا۔ چاکرِ اعظم کے مقبرے کے گرد مغل طرز کی کچی دیواریں ہیں اور یہ لاہور میں واقع مقبرہ انارکلی سے مماثل ہے۔ 

تقریباً 150سال سے زائد عرصہ قبل رنجیت سنگھ نے نواب مظفر سے لڑائی کے لیے ملتان جاتے ہوئے ستگھرہ میں قیام کیا۔ اس دوران رنجیت سنگھ کی فوج نے نہ صرف میر چاکر رند کے مقبرے کی چھت گرائی بلکہ اس میں بنے نقش و نگار کو بھی خراب کردیا۔ اس علاقے میں مسجد، مندر اور گردوارہ سمیت دیگر تاریخی یادگاریں موجود ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ستگھرہ میں مختلف ثقافتیں اور برادریاں رہتی تھیں۔ 

تاہم، مندر کی حالت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب یہاں کوئی ہندو برادری موجود نہیں ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے قلعے کی فصیل اور مقبرے کی بحالی کا کام انجام دیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی ابتر صورتحال میں بہتری آئی ہے۔