• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مری: برفانی طوفان میں بچنے والوں کی داستان سامنے آگئی


مری کی طوفانی برف باری میں جہاں لوگ کار میں دم توڑتے رہے وہیں کئی لوگ محفوظ بھی رہے۔

مری میں برفانی طوفان کے باعث جس مقام پر پھنس کر 3 گاڑیوں میں سوار 13 افراد جاں بحق ہوئے، وہیں ایک کار میں سوار کئی افراد محفوظ رہے۔

کار میں ہونے کے باوجود محفوظ رہنے والے افراد نے جیو نیوز کو اپنی پوری داستان سنائی۔

مری کی شدید برف باری کے دوران کار میں 2 نوجوان محفوظ رہے، جن کا کہنا تھا کہ برفانی طوفان شدید تھا رات بھر کوئی بھی مدد کو نہیں آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کار میں موجود ہونے کے باوجود شاید اس لیے بچ گئے کیونکہ وہ بار بار گاڑی کے شیشے نیچے کرتے رہے ہیں، گاڑی سے باہر نکلتے رہے، صبح مقامی افراد نے مدد کی کھانا دیا۔

 نوجوانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ طوفان اتنا شدید تھا کہ کچھ نظر نہیں آیا، کوئی مدد کو نہیں آیا، موٹر وے پولیس اور ہیلپ لائن سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

ہوٹلوں میں مقیم شہریوں کا کہنا ہے کہ ان سے معمول سے زیادہ کرایہ وصول کیا جا رہا ہے، انتظامیہ کی طرف سے ہوٹل مالکان سے اب تک کوئی رابطہ سامنے نہیں آیا کہ وہ شہریوں سے اضافی کرایہ وصول نہ کریں۔

ماہرین کہہ چکے ہیں مری میں سیاحوں کی موت کی وجہ سردی نہیں بلکہ کاربن مونو آکسائیڈ تھی۔

ماہرین کے مطابق گاڑی کا انجن آن ہو اور اس کا ایگزاسٹ سائیلنسر پائپ برف میں دھنسا ہو تو یہ گیس باہر جانے کے بجائے گاڑی کے اندر جمع ہوجاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بو کے بغیر گیس ہوتی ہے، اس لیے اس کا پتا نہیں چلتا، پہلے انسان چند منٹوں میں بے ہوش ہوتا ہے اور پھر اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑی برف میں پھنس جائے اور انجن چل رہا ہو تو کھڑکی کا شیشہ تھوڑا سا کھلا رکھیں، گاڑی کے سائیلنسر سے برف صاف کرتے رہیں۔

قومی خبریں سے مزید