• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کھلا تضاد … آصف محمود براہٹلوی
سیاحتی مقامات کسی بھی ملک کا خوبصورت چہرہ ہوتے ہیں، جہاں اس ملک کے شہریوں سمیت بیرون ممالک سے افراد خصوصی طور پر سیروتفریح کیلئے آتے ہیں، سالوں سال محنت و مشقت گھریلو پریشانیوں اور ناچاکیوں سے چھٹکاراحاصل کرنے اور اپنے ماحول کو تبدیل کرنے کے لئے صحت افزاء مقامات کی سیر کرتے ہیں تاکہ تھکن کو دور کیا جاسکے اور دن کو بھی یادگار بنایا جاسکے ایسے ہی ملکہ کوہسار مری پاکستان کا معروف سیاحتی مقام ہے، امسال لوگوں نے برفباری کی نوید سن کر گزشتہ دو برسوں میں کورونا لاک ڈائون کے ڈپریشن کو ختم کرنے کیلئے ملکہ کوہسار مری کا رخ کیا، سانحہ مری سے چند گھنٹے قبل وزرا اپنے ٹویٹر اکائونٹس پر لاکھوں گاڑیاں مری میں پہنچنے کابتاکر اپنی حکومت کیلئے کریڈٹ حاصل کرتے رہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جیت کا جشن بھی مناتے ہیں، جیت کا سہرا بھی اپنے سروں پر سجاتے ہیں لیکن ہار نہیں مانتے حقائق تسلیم نہیں کرتے۔یہ سوالیہ نشان بطور پوری قوم ہمارے سر پر رہے گا، آج کل کے جدید مواصلاتی نظام اور موسم کی پل پل کی خبریں آپ اپنے موبائل فون پر حاصل کرسکتے ہیں، دیکھ سکتے ہیں تو پھراس پوری صورتحال میں حکومت اور انتظامیہ کہاں تھی۔اگرایک لاکھ گاڑیاں مری پہنچیں تو خودکش حملہ میں تو صرف ایک گاڑی استعمال ہوتی ہے، وہ تو باآسانی پورے ملک اور بالخصوص سیاحتی مقامات اور پرہجوم ایریا کو ٹارگٹ کرسکتے ہیں، ایسے میں قومی سلامتی کے ادارے کہاں تھے…؟ ہماری پاک فوج کو سلام جو کسی بھی مصیبت یا قدرتی آفات کے دوران میدان عمل میں ہوتی ہے، ان کا چاک وچوبند دستہ (111) ٹرپل ون جس کا ہیڈ کوارٹر بھی مری کے قریب بارہ کہو میں واقع ہے، ان سے خدمات کیوں نہ حاصل کی گئی، 23بندوں کی شہادتوں کا انتظار کیوں کرنا پڑا اسلام آباد پولیس کے جوان آفیسر اے ایس آئی نے فیملی کے ہمراہ اپنی لوکیشن بھیج کر اٹھارہ گھنٹوں تک مدد کا انتظار کیا اور موت کی آغوش میں چلا گیا…؟۔پولیس کا محکمہ جو شہریوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہوتا ہے وہ اپنے آفیسر کی حفاظت نہ کرسکا، سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ امدادی گاڑیوں میں ڈیزل نہیں تھا واہ کیا اتفاق ہے۔پاکستان کے وزیراعظم جب بھی اپنے ٹائیگرز سے خطاب کرتے ہیں تو خود ڈیزل ڈیزل کے نعرے بلند کرتے ہیں، سب جانتے ہیں کہ وہ کہاں طعنہ زنی کر رہے ہوتے ہیں لیکن درحقیقت ڈیزل ختم ہوگیا تو حفاظتی انتظامات، مشینری کی عدم موجودگی اور ناقص اداروں کی مجموعی بے حسی کے باعث 23سیاح جن میں خواتین، بچے، جوان اپنی تھکن دور کرنے آئے سردی، برفباری اور انظامیہ کی نااہلی کے باعث ایسے سوئے کہ پھر اٹھ نہ سکے، ہمیشہ کیلئے سوئی ہوئی انتظامیہ کو جگا گئے۔سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ مری کے تاجروں میں چند ایک کو چھوڑکر باقی سب نے بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے، اگر کسی مسافر کی گاڑی کو د دھکے کی ضرورت پڑ گئی تو پانچ ہزار کا دھکا، گاڑی کے ٹائروں پر نان سلپ چین دس ہزار کی، ہوٹل کمروں کے کرایہ منہ بولے دام، کھانے کی قیمتیں قوت خرید سے باہر، کئی سیاح اپنے معصوم بچوں خواتین کے ساتھ صرف ونڈو شاپنگ کرتے رہے اور واپس گاڑیوں میں پہنچ گئے اور پھر سٹارٹ گاڑیوں میں بیٹھ گئے، جوں جوں برفباری زیادہ ہوتی رہی جب گاڑیوں کے سائلنسر برف میں ڈوب گئے تو وینٹیلشن نہ کھلنے کے باعث کاربن مونو اکسائیڈ گیس گاڑیوں کے اندر آہستہ آہستہ پھیلتی رہی اور مسافر ہمیشہ کیلئے سو گئے۔ترقی یافتہ ممالک یورپ وامریکا میں سیاحتی مقامات میں حفاظتی تدابیر پہلے اختیار کی جاتی ہیں، خصوصاً سیزن کے دوران تو ہوٹل وغیرہ میں ٹھہرنے کیلئے خصوصی رعایتی پیکج دیئے جاتے ہیں۔ہم تو ایک ایسے دین ا سلام کے ماننے والے ہیں جس نے تجارت کے بھی اصول مقرر کئے۔سانحہ مری کسی ایک کی نااہلی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بے حسی ہے، برفباری کے طوفان سے بچ جانے والی خاتون کہتی ہیں مری میں ایک بڑے ہوٹل پر بچے کیلئے پانی اور پینے کیلئے دودھ کیلئے تین سوروپے ادا کئے واپس گھر جاتے ہوئے سڑک کنارے چھپر ہوٹل پر بچے کا دودھ اور پانی لیا تو بابا جی کہنے لگے ہم معصوم بچوں کیلئے دودھ کے پیسے نہیں لیتے تو بڑا کون ہوا، مخیر کون ہوا، بندہ اپنے اصول وکردار سے بڑا ہوتا ہے حکومت کو چاہئے کہ ایک دوسرے کو الزام دینے کے بجائے حقائق جان کر فوری طور پر سخت سے سخت سزائیں دیں، وگرنہ اس پورے سانحہ میں ایک دوسرے کو نوازنے کے الزامات میں صداقت ضرور ہوگی۔
یورپ سے سے مزید