• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تجاوزات کی بھرمار سے عوام مسائل کا شکار، حکام کی پراسرار خاموشی

راولپنڈی (نمائندہ جنگ) راولپنڈی میں مری روڈ سمیت شہر کی مختلف شاہراہوں اور رہائشی و کمرشل علاقوں میں بلانقشہ وخلاف نقشہ تعمیرات نے عوام کی زندگی مشکل بنا رکھی ہے لیکن میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کے ایڈمنسٹریٹر سمیت متعلقہ شعبوں اور اداروں کے افسران محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب کو حقائق کے برعکس سب اچھا ہے کی رپورٹ دے رہے ہیں۔ مقامی سیاسی قیادت بھی غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کرنے والوں کی مبینہ سرپرستی کر رہی ہے جس کا ثبوت میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کے شعبہ ریگولیشن میں پھر سے ایسے افسر کی تعیناتی ہے جنہیں پنجاب حکومت نے شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کروائی گئی ایک انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں کم از کم تین برس تک یہاں تعیناتی پر پابندی عائد کی تھی تاہم انہیں ایک بار پھر یہاں تعینات کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق یہ افسر اثر وسوخ کے باعث اپنی تقریباً بیس سالہ سروس صرف میونسپل کارپوریشن راولپنڈی میں گزار چکے ہیں اس دوران اگر ان کا تبادلہ دائیں بائیں ہوا بھی تو ایک دو ماہ بعد دوبارہ واپس آگئے۔ یاد رہے کہ صادق آباد، سیٹلائٹ ٹائون، اصغر مال، ڈھوک کھبہ اور پیرودھائی سمیت اندرون شہر کے علاوہ مری روڈ اور دیگر شاہراہوں پر ملی بھگت سے نقشوں کے بغیر دیوہیکل کمرشل عمارتیں تعمیر کر لی گئی ہیں اور اگر کسی عمارت کا نقشہ موجود بھی ہے تو اس کی تعمیرات کے دوران کئی تبدیلیاں کر لی گئیں، بند کھنہ روڈ کو اوپن کرتے وقت یہ ضابطہ بنایا گیا تھا کہ اس روڈ پر کوئی کمرشل سرگرمی نہیں ہو گی لیکن تمام بند کھنہ روڈ اس وقت غیر قانونی کمرشل تعمیرات، کمرشل سرگرمیوں اور تجاوزات کا مرکز بن چکی ہے جبکہ میونسپل افسر پلاننگ اور ان کی ٹیم نے پراسرار طور پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔ راجہ بازار، باڑہ مارکیٹ اقبال روڈ، صادق آباد، کمرشل مارکیٹ، لہتراڑ روڈ، ڈھوک رتہ، گنجمنڈی اور پیرودھائی سمیت شہر کے تمام گنجان رہائشی علاقے، کاروباری وتجارتی مراکز، بازار وں اور فٹ پاتھ پر تجاوزات مافیا کا مکمل قبضہ ہے جس سے نہ صرف ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے بلکہ پیدل چلنا بھی محال ہے۔ آٹھ نمبر چونگی سے کھنہ پل تک لہتراڑ روڈ پر راولپنڈی کی حدود میں ریڑھیوں اور چھابہ فروشوں کا مکمل قبضہ ہے جس سے گھنٹوں ٹریفک جام رہتی ہے۔

اسلام آباد سے مزید