• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موسمیاتی تغیرات نے تعمیراتی ماہرین کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ تعمیراتی مواد اور تعمیراتی عمل/ٹیکنالوجی میں وہ جدتیں لائیں، جس کے بعد تعمیر ہونے والی عمارت زلزلوں اور سمندری طوفانوں وغیرہ کا مقابلہ کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ تعمیراتی پروڈکٹ مینوفیکچررز، ڈیویلپرز اور بلڈرز ایسے حل تیار کرنے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جو ناصرف ان حالات کا مقابلہ کر سکیں بلکہ ان سخت تر حالات کے مقابلے کے لیے تیار ہوں، جن کا مستقبل میں سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

موڈیز ای ایس جی سلوشنز کی ڈائریکٹر نتالی امبروسیو کہتی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہم تیزی سے متواتر اور شدید موسمی آفات دیکھیں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ، ’’عالمی موسمیاتی ماڈل انفرادی انتہائی واقعات کی پیشگوئی کرنے کے قابل نہیں ہیں، بلکہ حالات کی طویل مدتی سمت کا اشارہ فراہم کرتے ہیں۔اس طرح، ہمارا ڈیٹا 2030ء سے 2040ء تک، آب و ہوا کے چھ خطرات یعنی سیلاب، گرمی کا دباؤ، سمندری طوفان اور ٹائفون، سمندر کی سطح میں اضافہ، پانی کے دباؤ اور جنگل کی آگ کے خطرات میں شدت کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس میں ماضی کے اعدادوشمار کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے‘‘۔

بڑھتے ہوئے خطرات کسی کو بھی خوفزدہ کرنے کے لیے کافی ہیں، لیکن یہ خطرات خاص طور پر ان لوگوں کے لیے یقیناً ڈراؤنے ہیں، جن کے گھر ان خطرات کی زد میں آسکتے ہیں، حالات کے باعث وہ اس سے جلدی سے باہر نہیں آپائیں گے اور ان کے پاس جانے کے لیے کوئی متبادل انتظام نہیں۔ اس کے علاوہ، ایسے اوقات میں مدد آسانی سے نہیں آتی۔ جب آگ، سیلاب یا دیگر طوفان آتے ہیں، تو صرف گھر ہی تباہ نہیں ہو جاتے ہیں بلکہ کمیونٹی، اور بنیادی ڈھانچہ بھی تباہ ہوجاتا ہے جس پر گھر کا مالک عام طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے انحصار کر سکتا ہے۔

موسمیاتی خطرات معیشتوں پر کثیر الجہتی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ موڈیز کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ 25 سے 30 فیصد امریکی گھر جنگل کی آگ اور 14 سے 19 فیصد سیلاب کی زد میں آسکتے ہیں۔ جنگل کی آگ اور سیلاب سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے کیوں کہ اس کے اثرات کمیونٹیز اور افرادی قوت پر بھی پڑتے ہیں۔ ان کی تباہ کن نوعیت کی وجہ سے، طوفان اور جنگل کی آگ جیسے شدید واقعات عمارتوں کے لیےانتہائی اہم خطرات سمجھے جاتے ہیں۔

موسمیاتی خطرات سے گھروں کا تحفظ

کلائمیٹ سائنس کا ڈیٹا اب ہماری انگلیوں پر ہے، جسے کسی بھی گھر یا عمارت کو درپیش موسمیاتی خطرے کا اندازہ لگا کر اسے کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس ڈیٹا کو سمجھنے کے بعد، بلڈرزتعمیرات کے عمل کے دوران اس قابل بن سکتے ہیں کہ وہ اس میں لچک کو شامل کریں، جس کے باعث وہ عمارت مستقبل کے کسی بھی موسمیاتی خطرے کا مقابلہ کرسکے گی۔

موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے والے گھروں کی تعمیر

اعدادوشمار کے مطابق، 2018ء کے دوران امریکا میں تعمیر ہونے والے سنگل فیملی گھروں میں سے 26 فی صد میں وینائل سائیڈنگ، 25فی صد کی تعمیر میں سنگ مرمر کا چونا، 21فی صد میں اینٹیں، 20فی صد میں فائبر سیمنٹ، پانچ فی صد میں لکڑی اور دو فی صد میں دیگر مواد جیسے المونیم سائیڈنگ استعمال کیا گیا۔ ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا میں ایک تہائی سے زیادہ گھروں کے لیے جو لکڑی اور ونائل جیسے مواد سے بنائے گئے ہیں، جو کہ انتہائی آتش گیر اور غیر پائیدار مواد ہیں۔ اس سے ایک بات یہ بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ایسے گھر آج کے صنعتی دور کے ممکنہ موسمیاتی آفات سے بچنے کے لیے تعمیر نہیں کیے گئے۔

اب، بہتر تحقیق اور ترقی کے ساتھ، مینوفیکچررز کی جانب سے ناقابل یقین سرمایہ کاری کےنتیجے میں، نئے پراڈکٹ سلوشنز فراہم کیے جارہے ہیں، جو نئی تعمیرات کو موسمیاتی شدتوں کا بہتر مقابلہ کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک دیرپا رہنے والا تعمیراتی مواد ایکسٹیریئر فائبر سیمنٹ پراڈکٹس ہیں، جو شدید موسمیاتی تغیرات کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ فائبر سیمنٹ پراڈکٹس بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکا میں سالانہ تین سے چار ملین نئے گھر تعمیر ہوتے ہیں۔ 

مزید برآں، 80ملین تعمیر شدہ گھروں میں سے 44 ملین گھر ایسے ہیں جن کی تعمیر کو 40 سال سے زائد عرصہ ہوچکا ہے اور اب ان کی تزئینِ نو اور ری-ماڈلنگ کی ضرورت ہے۔ کمپنی کی مصنوعات دیرپا، پانی کا دباؤ برداشت کرنےوالی، غیر آتشگیر اور 220میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ 

یہ مواد سیلابی صورتِ حال کا بھی مقابلہ کرسکتا ہے۔ مزید برآں، یہ دیگر روایتی مواد جیسے پتھر، لکڑی اور چونے کے مقابلے میں ہلکا ہے اور اس سے تعمیراتی عمل کو کم عرصہ میں مکمل کیا جاسکتا ہے۔ فائبر سیمنٹ، تعمیرات میں وینائل اور لکڑی کی جگہ لے سکتا ہے جوکہ دونوں موسمیاتی تغیرات میں پرخطر مواد سمجھے جاتے ہیں۔

ایک اور کمپنی ’اسپرے فوم انسولیشن‘ اور ’رُوفنگ پراڈکٹس‘ بنارہی ہے۔ یہ تعمیراتی مواد خصوصاً ایسی جگہوں پر انتہائی اہمیت اختیار کرجاتا ہے جہاں سمندری طوفانوں اور سیلابوں کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔ اس کمپنی کے ماہرین کہتے ہیں کہ کسی بھی عمارت کے گِرنے کا عمل اس وقت تیزی اختیار کرجاتا ہے جب اس کی چھت دیواروں سے الگ ہوجاتی ہے۔ 

ہم نے اپنی مصنوعات کو ایسے حالات میں عملی طور پر جانچا ہے اور ہماری مصنوعات عمارت کی چھت کو محفوظ اور دیواروں سے جوڑے رکھتی ہیں اور انتہائی حالات میں بھی ایسی عمارت کے محفوظ رہنے کے امکانات 300 فی صد سے 400 فی صد زیادہ ہوتے ہیں۔