روز مرّہ زندگی کے مسائل میں ایک مسئلہ مچھر بھی ہیں جوکہ ڈینگی اور ملیریا جیسی جان لیوا بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔
یونیورسٹی آف واشنگٹن کےماہرِحیاتیات جیفرے رِفل کا کہنا ہے کہ ’انسانی جلد مچھروں کو خود اپنی جانب راغب کرتی ہے‘۔
اُنہوں نے بتایاکہ’مچھر جیسے ہی اپنی آنکھوں سےانسانی جلد کو دیکھتے ہیں تو انہیں شوخ نارنجی رنگ دکھائی دیتا ہے جوکہ ایک سگنل ہے جس سے مچھر انسان کی جلد کی طرف لپکتا ہے‘۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ ’اسی طرح انسان کے منہ سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی مچھروں کو اپنی جانب راغب کرتی ہے‘۔
نیچر کمیونکیشن میں شائع رپورٹ کے مطابق، مچھر سونگھنے کی شاندار صلاحیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ انسان کے پسینے کو محسوس کرکے بھی انسانوں تک پہنچ سکتے ہیں‘۔
اس طرح ان رپورٹس اور ماہرین کے تحقیقات سے یہ پتاچلتا ہے کہ مچھر مجموعی طور پر تین طریقوں سے انسان کی جانب راغب ہوتے ہیں۔
تاہم ، اب ماہرین نے یہ بھی بتایا ہے کہ خاص طور پر ڈینگی پھیلانے والے مچھر ایڈیز ایجپٹائی سرخ اور سیاہ رنگوں کی جانب راغب ہوتے ہیں۔
مچھروں سے کیسے بچا جائے
ایسے میں اگر مچھروں سے بچنا ہے تو ہلکے رنگوں کے کپڑے پہنے جائیں۔
یہ بات محققین نے اپنی ایک تحقیق میں ثابت کی ہے، اس تحقیق کے لیے ماہرین نے ایک چھوٹے چیمبر میں مچھروں کو لیا اور ان کے سامنے مختلف رنگ رکھ دیے۔
اتنا ہی نہیں ماہرین نے اس دوران گیس اور بو کا اسپرے بھی کیا۔
اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کے مچھر سامنے رکھے ہوئے رنگوں میں سے سرخ اور سیاہ رنگ کی جانب راغب ہوئے جبکہ نیلے، سفید اور سبز رنگوں کو چھوڑ دیا۔
اور پھرجیسے ہی ماہرین نے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کا اسپرے کیا تو مچھر اس کی طرف لپکنا شروع ہوگئے۔