تحریر: ہارون مرزا، راچڈیل ہندوستان میں نہتی مسلم لڑکی کی طرف سے انتہا پسند ہندوئوں کے جتھے کے سامنے بلند کی گئی اللہ اکبر کی تکبیر پوری دنیا میں گونج رہی ہے، ملت اسلامیہ کی باہمت اور دلیر خاتون نے اسلامی روایات (نقاب) کے خلاف ہندوئوں کے پروپیگنڈے کے سامنے ڈٹ کر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیاتو پوری دنیا کے مسلمان اس کے ہم آواز ہو گئے، معاملہ عدالت تک پہنچ گیا عدالت نے حجاب پرپابندی کیخلاف کیس کی فوری سماعت کی، مسلمان طالبہ کی درخواست ایک بارپھر مسترد کردی ،مودی سرکار میں بھارتی سپریم کورٹ بھی ہندوانتہاپسندوں کے رنگ میں رنگ گئی ہے،باحجاب مسلمان طالبات کوبھارت کی سب سے بڑی عدالت سے بھی انصاف نہ مل سکا،بھارتی سپریم کورٹ نے کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب پرپابندی کیخلاف کیس کی فوری سماعت کی درخواست سے انکار کر دیا ہے سپریم کورٹ نے مسلمان طالبہ کی حجاب پرپابندی کے کیس کی فوری سماعت کی درخواست پرکہا کہ حجاب سے متعلق کیس کی سماعت کی کوئی جلدی نہیں، اس معاملے کوقومی سطح پرنہ پھیلایا جائے، مناسب وقت آئے گا تو مداخلت کریں گے، کرناٹک کی طالبہ نے تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کے داخلے پرپابندی کیخلاف کیس میں کرناٹک کی ہائیکورٹ کے عبوری فیصلے کیخلاف درخواست دائرکی تھی اورحجاب پرپابندی کیس کی فوری سماعت کی استدعا کی تھی، بھارت کی سپریم کورٹ پہلے بھی مسلمان طالبات کی حجاب سے متعلق کیس کی سماعت کی درخواست مسترد کرچکی ہے، دوسری جانب بھارت کے مختلف شہروں میں کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پرپابندی کیخلاف احتجاج جاری ہے، حجاب پرپابندی کیخلاف مظاہرہ کرنے والی متعدد خواتین کوگرفتارکرنے کے بعد معاملہ پورے ہندوستان میں پھیل چکا ہے، جے شری رام کے نعروں کے جواب میں اللہ اکبر کے نعرے لگاتی مسکان خان کی کہانی آج ہر زبان پر ہے، مسکان خان جو حجاب پہنے کالج میں داخل ہوتی ہے تو بھارتی درندے جے شری رام کا نعرہ لگاتے اسے ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جواب میں وہ شیرنی اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتی ہوئی بہادری کی مثال بن جاتی ہے دراصل مسکان خان کا ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ اب لاوا پک چکا ہے ،بھارتی مسلمان اب ظلم و جبر کی اس سیاہ رات کا خاتمہ چاہتے ہیں، بدقسمتی ہے کہ بھارت میں بی جے پی کے اقتدار کے دوران دیدہ دانستہ ایسی مسلمان طالبات اور خواتین پر تعلیم اور تعلیمی اداروں کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں جو پردے اور حجاب کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند ہیں، یہ سراسر زیادتی اور ظلم ہے، بھارت میں ساری مسلمان طالبات حجاب اور پردے کے ساتھ تعلیمی اداروں میں نہیں آتی ہیں لیکن جو مسلمان طالبات حجاب میں تعلیم کے حصول کے لیے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخل ہونا چاہتی ہیں اْن کے راستے مسدود اور محدود نہیں کیے جانے چاہئیں، کرناٹک ریاست پر بی جے پی حکمران ہے ،جہاں مسلم خواتین کو پردے کیلئے سنگین مسائل کا سامنا کرناپڑ رہا ہے، مسلمان طالبات کے خلاف پیش آنے والا یہ واقعہ جس نے بھارت بھر میں ہلچل پیدا کررکھی ہے کرناٹک کے شہر کنڈاپور(ضلع اوپودائے) میں ظہور پذیر ہوا جہاں مسلمان طالبات کو حجاب اور اسکارف پہننے کے جرم میں کالج کے اندر آنے سے روکا گیایہ ظلم عین اس وقت کیا جارہا ہے جب طالبات کے سالانہ امتحان سر پر ہیں، ایسے حالات میں طالبات کیلئے مشکلات پیدا کرنے سے ان کا مستقبل بھی دائو پر لگ گیا ہے آٹھ درجن سے زائدمسلمان طالبات اپنے مطالبے پر ڈٹی ہوئی ہیں جن کیلئے آج افغان طالبان، علمائے ہند سمیت پوری دنیا کے مسلمان ہم آواز ہیں،غور طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسا پہلی بار ہورہا ہے، یا ایسا صرف مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے، اگر ہم بھارت کے حالات کا جائزہ لیں تو بھارت میں بسنے والی اکثر اقلیتیں بھارت کے انتہاپسند ہندوؤں کے ظلم و ستم کا شکار ہیں، آج کے بھارت کے دو چہرے ہیں ایک سیکولر بھارت جو دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جب کہ بھارت کا اصل چہرہ وہ ہے جو وہاں رہنے والی اقلیتیں دیکھتی ہیں اور بھارت کے ظلم و ستم کو برداشت کرتی ہیں جو پوشیدہ رکھا جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ مسکان خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے آج کی مسلم دنیا جاگ جائے، دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان دامے درمے سخنے قوم کی اس بیٹی کی ہر ممکن مدد کریں کیونکہ یہ ایک بیٹی نہیں بیٹیوں کا معاملہ ہے ،دنیا بھر میں بسنے والی مسلم عورتیں مسکان خان کی مدد میں حجاب کو عام کریں آج تک جنہوں نے پردہ نہیں کیا وہ بھی دشمنوں کو جلانے کیلئے ہی سہی پردہ شروع کردیں،مرد حضرات اسلامی کلچر کو عام کریں،پوری مسلم دنیا بھارتی مصنوعات کا مستقل بائیکاٹ کرتے ہوئے دنیا کو پیغام دے کہ ہم ایک ہیں،بھارتی مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے، مسلم امہ حکومتی سطح پر بھارت سے اس معاملے پر شدید احتجاج کرے تاکہ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے اور بھارتی حکومت کو یہ پیغام ملے کہ واقعی دنیا بھر کے مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔