• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذیابطیس پوری دنیا میں ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ ذیابطیس جسے عرف عام میں ’شوگر‘ کی بیماری کہا جاتا ہے عموماً دو اقسام ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ہوتی ہے۔ تاہم اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ذیابطیس کے پانچ مختلف گروپ ہیں جن میں سے ہر ایک کے لیے الگ علاج ممکن ہے۔ سویڈین اور فن لینڈ سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انھوں نے جس زیادہ پیچیدہ تصویر سے پردہ اٹھایا ہے، وہ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے ان کی بیماری کے لحاظ سے دوا کے انتخاب میں مدد دے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں ذیابطیس کے مریضوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے انتہائی اہم ہے لیکن طریقۂ علاج میں تبدیلی فوراً نہیں آئے گی۔ ہرچندکہ، سائنسدانوں نے ذیابطیس کی دو سے زائد اقسام ہونے کی تصدیق کردی ہے لیکن عمومی طور پر ابھی تک ہم اس کی دو اقسام کے بارے میں واضح معلومات رکھتے ہیں؛ ٹائپ وَن اور ٹائپ ٹو۔ ٹائپ وَن ذیابطیس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتا ہے جس کی وجہ سے شکر خون کے بہاؤ میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

سائنسدان ابھی تک یہ تو نہیں جانتے کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ شاید ایسا جینیاتی اثر کی وجہ سے ہوتا ہے یا کسی وائرل انفیکشن کی وجہ سے کہ لبلبے میں انسولین بنانے والے خلیے خراب ہوجاتے ہیں۔ ذیابطیس کے مریضوں کا دس فیصد ٹائپ وَن کا شکار ہیں۔ ٹائپ2 ذیابطیس میں لبلبہ یا تو ضرورت کے مطابق انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتی۔ 

پہلی قسم کی ذیابطیس عموماً بچپن میں شروع ہوتی ہے اور فی الحال ڈاکٹر یہ نہیں جانتے کہ اسے کیسے روکا جاسکتا ہے۔ اس مضمون میں ہم ذیابطیس کی دوسری قسم کے بارے میں بات کریں گے۔ ذیابطیس کے تقریباً 90 فیصد مریض اس دوسری قسم کا ہی شکار ہوتے ہیں۔

ماضی میں دیکھا گیا تھا کہ ذیابطیس کی دوسری قسم کا شکار صرف بڑے ہوتے تھے لیکن حال ہی میں دیکھا گیا ہے کہ بچے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کے خطرے کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس بیماری کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے سے آپ کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

ذیابطیس کیا ہے؟

ذیابطیس تاحیات ساتھ رہنے والی ایسی طبی حالت ہے جو ہر سال لاکھوں افراد کو موت کے منہ میں لے جاتی ہے اور یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔ ذیابطیس ایک ایسی بیماری ہے جس میں خون کے اندر شکر یعنی گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ عموماً خون کے ذریعے شکر ان خلیوں تک پہنچتی ہے جنہیں توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ذیابطیس میں یہ عمل صحیح طرح کام نہیں کرتا۔ 

اس وجہ سے جسم کے کچھ اعضا کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ خون کی گردش میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بعض صورتوں میں مریض کے پاؤں کا انگوٹھا، انگلیاں یا پورا پاؤں کاٹنا پڑتا ہے، مریض اندھا ہو سکتا ہے یا اسے گردوں کی بیماری ہو سکتی ہے۔ ذیابطیس کے بہت سے مریض دل یا فالج کا دورہ پڑنے سے مرتے ہیں۔

دوسری قسم کی ذیابطیس کی ایک بڑی وجہ جسم میں بہت زیادہ چربی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پیٹ اور کمر کے گِرد بہت زیادہ چربی ہونے سے ذیابطیس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر لبلبے اور جگر میں چربی سے جسم میں گلوکوز پہنچنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ ذیابطیس کے خطرے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

ذیابطیس کا خطرہ کم کرنے کے2طریقے

1- اگر آپ کو ذیابطیس کا مرض لاحق ہونے کا خطرہ ہے تو اپنی شوگر باقاعدگی سے چیک کروائیں۔ دوسری قسم کی ذیابطیس ہونے سے پہلے اکثر ایک شخص کو پری ذیابطیس ہوتی ہے جس میں خون کے اندر شکر معمول سے تھوڑی زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ حالت اور دوسری قسم کی ذیابطیس، دونوں ہی نقصان دہ ہیں لیکن ان میں ایک فرق ہے۔ 

دوسری قسم کی ذیابطیس میں خون میں شکر کی مقدار کو کنٹرول تو کیا جا سکتا ہے لیکن فی الحال اس بیماری کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ مگر دیکھا گیا ہے کہ پری ذیابطیس کے کچھ مریض اپنے خون میں شکر کی مقدار کو دوبارہ معمول پر لے آئے۔ پری ذیابطیس کی علامات اتنی واضح نہیں ہوتیں۔ ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دنیا میں تقریبا31ً کروڑ 60 لاکھ لوگ پری ذیابطیس کا شکار ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کو اس بارے میں پتہ بھی نہیں ہے، مثلاً امریکا میں پری ذیابطیس میں مبتلا تقریباً 90 فیصد لوگ نہیں جانتے کہ وہ اس کا شکار ہیں۔

پری ذیابطیس، دوسری قسم کی ذیابطیس کا باعث تو بنتی ہی ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ اس سے بھولنے کی بیماری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اگر آپ کا وزن زیادہ ہے، آپ جسمانی طور پر چست نہیں رہتے یا آپ کے خاندان میں کسی کو ذیابطیس ہے تو ہو سکتا ہے کہ آپ پری ذیابطیس کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس لیے اپنے خون کا ٹیسٹ کروائیں۔

2- صحت بخش غذا کھائیں مگر معمول سے کم۔ ایسی مشروبات نہ پئیں جن میں بہت زیادہ چینی یا کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ہو۔ ان کی بجائے پانی، چائے یا کافی پئیں۔ سفید آٹے یا چاول کی بجائے اپنی خوراک میں خالص گندم، چاول اور پاستا استعمال کریں۔ بغیر چربی کا گوشت کھائیں۔ اس کے علاوہ مچھلی، خشک میوے، دالیں اور پھلیاں کھائیں۔ ان مشوروں پر عمل کرنے سے آپ کو بہت فائدہ ہوگا۔

یہ سچ ہے کہ اگر آپ کے خاندان میں ذیابطیس کی بیماری چلی آ رہی ہے تو آپ کو بھی یہ بیماری ہونے کا خطرہ ہے۔ لیکن اپنے طرزِزندگی میں کچھ تبدیلیاں لانے سے آپ اس بیماری سے ایک حد تک بچ سکتے ہیں۔ اپنی صحت کو ٹھیک رکھنے کے لیے آپ جتنی کوششیں کریں گے، آپ کو اتنا ہی فائدہ ہوگا۔