• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگلینڈ میں مینٹل ہیلتھ کے مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

لندن (پی اے) ایک نئی تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انگلینڈ میں مینٹل ہیلتھ کے مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ نفسیات سے متعلق رائل کالج کا کہنا ہے کہ مینٹل ہیلتھ کے مریضوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ کالج نے حکومت سے اس صورتحال پر کنٹرول کیلئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال انگلینڈ میں 4.3 ملین افراد کو مینٹل ہیلتھ کے ماہرین کے پاس بھیجا گیا، ان میں 1,024,877 بچے شامل تھے۔ 2019ء میں مینٹل ہیلتھ کے ماہرین کے پاس بھیجے گئے لوگوں کی تعداد 3.7 ملین تھی۔ کالج کا کہنا ہے مینٹل ہیلتھ سروسز کیلئے مکمل فنڈز فراہم نہ کئے گئے تو ہزاروں لوگوں کو علاج کیلئے طویل انتظارکرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ کالج کا کہنا ہے کہ دسمبر میں این ایچ ایس کی جانب سے 1.8ملین افراد کو مینٹل ہیلتھ سے متعلق مشورہ دیا گیا۔ کالج کے مطابق گزشتہ سال دسمبر میں 424,963 مینٹل ہیلتھ کے شکار بچے رابطے میں تھے جبکہ اس کے مقابلے میں دسمبر 2019ء میں ایسے بچوں کی تعداد 367,403 تھی۔ رائل کالج کے صدر ڈاکٹر ایڈریان جیمز کا کہنا ہے کہ سروسز پر بڑھنے والا دبائو پریشان کن اور حکومت کی اس مسئلے پر مکمل خاموشی تشویشناک ہے۔ مینٹل ہیلتھ سے متعلق اعدادوشمار اس وقت شائع کئے گئے ہیں جب مینٹل ہیلتھ چیرٹی مائنڈ مینٹل ہیلتھ ایکٹ میں اصلاحات کا مطالبہ کررہا ہے۔ مائنڈ کا کہنا ہے کہ مینٹل ہیلتھ ایکٹ کے غیر جانبدارانہ نظرثانی کو 3 سال ہوچکے ہیں، جس میں متعدد سفارشات کی گئی تھیں۔ چیرٹی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی 10 فیصد کالز مینٹل ہیلتھ ایکٹ سے متعلق تھیں۔

یورپ سے سے مزید